زاہدان(ھمگام نیوز) بلوچ عالم دین مولوی عبدالحمید اسماعیل زہی نے جمعہ کے خطبے کے دوران ایران کے حکام سے مطالبہ کیا کہ ملک میں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، ان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جائے، جبکہ پاکستان میں بلوچ انسانی حقوق کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو بھی منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے ساتھ ہی ایران کے صوبہ خوزستان میں عرب عوام اور اہل سنت کو درپیش مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق، مولوی عبدالحمید نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاسی قیدیوں کی رہائی ناگزیر ہے اور حکومت کو ان کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سول سوسائٹی کو مضبوط بنایا جائے اور ان افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے جو اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرامن اور آئینی جدوجہد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پرامن اور شہری جدوجہد کو تسلیم کیا جاتا ہے اور تمام قومیتوں، مذاہب اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھولنے کی ضرورت ہے۔
مولوی عبدالحمید نے پاکستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ اور انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر سماجی کارکنوں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ہمیشہ بلوچ عوام کے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد اور تشدد سے گریز کی حامی رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس سے قبل بھی پاکستانی حکام کو یہ پیغام دے چکے ہیں کہ جو تنظیمیں اور افراد آئینی اور پرامن ذرائع سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ بلوچستان اور پورے ملک کے لیے ایک مثبت موقع ہیں، اس لیے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر شہری کارکنوں کی سزائیں ختم کر کے انہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔
اپنے خطاب میں ایران کے صوبہ خوزستان کے عرب عوام اور اہل سنت کی شکایات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی آبادی قانونی آزادیوں سے محروم ہونے اور مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا کرنے کی شکایت کر رہی ہے۔ انہوں نے ایرانی حکومت، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ خوزستان کے عوام کے حالات بہتر بنائے جائیں اور تمام قومیتوں اور مذاہب کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔
مولوی عبدالحمید نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن، مکالمے اور مفاہمت کے حامی ہیں۔ ان کے بقول یہ مذاکرات ایران اور دنیا کے دیگر ممالک کے مفاد میں ہو سکتے ہیں، تاہم ایرانی مذاکراتی ٹیم کو ہر صورت میں ایرانی عوام کے قومی مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔


