یکشنبه, اپریل 6, 2025
Homeخبریںڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی عید کے روز بلوچ قوم کے نام...

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی عید کے روز بلوچ قوم کے نام خط

میرے نہ ٹوٹنے والے ہم وطنوں!

شال (ہمگام نیوز) ہدہ جیل کے احاطہ نمبر 9 کے کوٹھی نمبر 5 سے آپ کی بہن ماہرنگ اور بیبو کی طرف سے آپ سب کو غلامی کی ایک اور عید مبارک!

اس قید تنہائی میں تمام تر اذیتوں سے بڑھ کر ایک اذیت سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ بلوچستان کے حالات سے ہمیں لاعلم رکھا جا رہا ہے۔ ہمیں اس بات کا اندازہ ہے کہ پورا بلوچستان سراپا احتجاج ہے، لیکن ہمیں ان اجتماعات اور احتجاجات سے لاعلم رکھنے کے لیے ہمارے ہر بڑے عوامی اجتماع اور احتجاج کے بعد ہمیں دو دن پرانی اخبار دی جاتی ہے۔ ان اخباروں میں چھپی خبریں ہمیں پریشان اور پر امید کرتی ہیں۔ پریشانی میں اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب سمی دین کی گرفتاری کی خبر دیکھیں، دھرنوں اور احتجاجی ریلیوں میں کریک ڈاؤن ہو، یا اخبار کے کسی کونے میں کسی بلوچ بھائی کی جبری گمشدگی کی خبر چھپی ہو۔ لیکن اس کے برعکس اُمید ہمیں یہ چیز دے رہی ہے کہ ہماری قوم آواز اٹھا رہی ہے، ہماری پوری قوم ڈٹی ہوئی ہے، مزاحمت کر رہی ہے۔ ریاستی تشدد اور طاقت کے بھرپور استعمال کے بعد بھی پورے بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور بلوچ قوم، گروہ، قبیلہ اور پارٹی سے نکل کر قومی مزاحمتی تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ آج ریاست اور اس کے تمام نام نہاد جمہوری ادارے ریاستی جھوٹے بیانیے کو لے کر ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ ریاست کے یہ تمام ادارے اور ان کے قوانین بلوچوں کو دہائیوں سے ان کے قومی و انسانی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہیں اور یہی ادارے اور قانون بلوچوں کی پُرامن سیاست پر بھی قدغن لگا رہے ہیں۔ کیونکہ بلوچ کا اپنے حق کے لیے بولنا اس ریاست میں جرم اور سب سے بڑی دہشت گردی ہے اور اپنے بے لگام اداروں کے ہاتھوں بے گناہ بلوچوں کا قتل عام سب سے بڑی حب الوطنی ہے۔

ہماری ایک عمر گزری ہے اس خونخوار ریاست کے مظالم کو دیکھتے ہوئے۔ 1 جولائی 2011 کو جب میرے والد کی مسخ شدہ لاش ہمیں سونپی گئی تو اُس وقت کے مطابق وہ ہمارے لیے سب سے بڑا جبر تھا۔ مگر پھر دیکھا کہ یہ ریاست اس سے بھی بڑھ کر جبر کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ پھر بلوچوں کے ہر دوسرے گھر میں مسخ شدہ لاشیں لائی گئیں۔ ان کے گھر، ان کے گاؤں جلادیے گئے۔ ان کو اپنے ہی زمین میں مہاجرین بنا دیا گیا۔ یہ جبر بھی کم محسوس ہوا تو ان کے معصوم بچوں کو ایف سی نے گولہ بارود سے اڑا دیا۔ 2021 میں ان معصوم بچوں کی لاشیں ہوشاپ کیچ سے کوئٹہ ریڈ زون میں لائی گئی تھیں، جنہیں ریاست کی فوج نے بم سے اڑایا تھا۔ ان بچوں کے قاتلوں کو ایک عدالت نے سزا دی، تو دوسرے بڑے عدالت نے اس سزا کو منسوخ کیا اور بلوچ عورتوں نے ان معصوم لاشوں کو کندھا دیا، ان کے جنازے شہداء بلوچستان کے قبرستان میں پڑھائے گئے۔ اس کے بعد 21 مارچ 2025 کی وہ رات تھی جب کوئٹہ میں پرامن مظاہرین پر گولیاں برسائی گئیں۔ 13 سالہ نعمت اللہ اور 20 سالہ حبیب اللہ کی لاشیں سر راہ پڑی تھیں۔ ہم لاشوں کے سرانے بیٹھے تھے اور حکومت وقت سے ان لاشوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔

شہید نعمت اللہ کے والد اور چچا زاد کو زبردستی لاشوں کو دفنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے دھمکی دی، ان کے خاندان کے دو افراد پہلے سے ان کے تحویل میں تھے۔ ضلعی انتظامیہ نے ہمارے احتجاج پر حملہ کیا اور زبردستی لاشوں کو لے جانا چاہتے تھے حالانکہ ہم نے 3 گھنٹے پہلے ہی لاشوں کو عزت اور احترام کے ساتھ دفنانے کا اعلان کر دیا تھا لیکن ضلعی انتظامیہ بضد تھی کہ لاشیں ان کو دی جائیں۔ ہماری مزاحمت پر اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ چلا گیا اور چند منٹ بعد پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ واپس آیا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ نعمت کے خاندان کو لاش کے ہمراہ ہم رخصت کریں گے، پولیس سے ہم خود بات کریں گے۔

مگر پولیس افسروں کے اصرار کے باوجود سول ڈریس میں ایجنسی کے اہلکاروں کے آرڈر پر لاشوں کو زبردستی کھینچا گیا۔ خواتین نے تابوت کو زبردستی جکڑا ہوا تھا اور ان پر پولیس اور ایجنسی کے اہلکار لاٹھیاں برسا رہے تھے۔ اس کے بعد وہ حبیب کی لاش کو زبردستی اٹھانے آئے۔ اس کا ضعیف والد رو رو کر منتیں کرتا رہا۔ مجھ سمیت بیبو بلوچ اور ہمارے دیگر دوستوں نے تابوت کو جکڑ رکھا تھا مگر ہمیں زبردستی تابوت سے الگ کیا گیا۔

حبیب بلوچ ایک نہتا نوجوان تھا جو بی وائی سی کے مرکزی ساتھی بیگر بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف ہونے والے احتجاجی دھرنے میں شرکت کرنے آیا تھا۔ اس کے خاندان کے مطابق اس نے آج تک تمام دھرنوں میں شرکت کی تھی۔ اس نہتے اور بے گناہ کو یقین تھا کہ ہم جدوجہد سے اپنے حقوق حاصل کریں گے۔ اس رات اس کی لاش بھی ایک ناکام اور بے رحم ریاست کے سامنے مزاحمت کر رہی تھی۔ اس کی والدہ کو اطلاع دی گئی اور وہ سحری کے بعد اپنے بیٹے کے دیدار کے لیے آنے والی تھی اور ہمارے لیے یہ قیامت کا منظر تھا۔

پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے پرامن مظاہرین پر حملے کے دوران میں نے اے سی کوئٹہ کو دیکھا جو چند منٹ پہلے نعمت کے والد کو دھمکا رہا تھا کہ “جو ہم نے کہا ہے وہ کرو”۔ اس وقت اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، وہ حواس باختہ تھا، اس کے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کر رہا تھا۔ وہی اے سی طاقت کے نشے میں بلوچ عورتوں پر ڈنڈے برسانے کے حکم دے رہا تھا اور بار بار یہی کہہ رہا تھا “پکڑو ان حرام زادیوں کو”۔ میں نے اس رات ایک ایک پولیس افسر اور اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ کے تمام تاثرات کو غور سے دیکھا اور ان کے نفرت کو اپنے دل میں نقش کر لیا۔ یہ نفرت کے بیچ جو بوئے جا رہے ہیں، اس میں آج شاید بلوچ مظلوم ہے، طاقت ان کے پاس نہیں ہے مگر یقین کریں، وہ دن ضرور آئے گا جب بلوچ اپنے قاتلوں کے غرور کو ختم ہوتے ہوئے دیکھے گی۔

اس رات مجھے، بیبو بلوچ، دو کمسن بچیوں اور حبیب بلوچ کے لواحقین کو گرفتار کیا گیا، ہمیں الگ کر دیا گیا اور حبیب بلوچ کے لواحقین کو ایجنسیوں کے حوالے کیا گیا جہاں انہیں زبردستی بیان ریکارڈ کروانے کے لیے مجبور کیا گیا۔

جبکہ اس کے علاوہ ہمارے ساتھی بیگَر بلوچ کو چھ دن تک لاپتہ کیا گیا، جہاں اس پر ذہنی تشدد کیا گیا اور انہیں بی وائی سی کے خلاف بیان دینے پر مجبور کیا گیا۔ ایسے بہت سے بیانات پہلے بھی دیے گئے ہیں مگر اب ہماری جدوجہد اس مقام تک پہنچ چکی ہے جہاں ان دو سطروں کے بیانات سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ آج بلوچ قوم آپ کے جبر کے چشم دید گواہ ہے، پوری بلوچ قوم آپ کی جبر اور ظلم کی “victim” ہے۔ جب 21 مارچ کی رات ہم لاشوں کے ہمراہ سریاب روڈ میں دھرنا دے رہے تھے، اس وقت بلوچستان حکومت کے نام نہاد ترجمان کا بیان آیا کہ “بی وائی سی نے احتجاج کے دوران کسی کی میتوں کو سڑک پر رکھ دیا”۔ چند پیسوں کے عوض اپنے ضمیر اور ایمان بیچنے والوں، وہ کسی کی میتیں نہیں بلکہ اس دھرتی کے کمسن فرزند تھے جنہیں آپ بے لگام بندوق برداروں نے قتل کیا تھا۔

اس وقت سریاب کے عوام، عورتیں، بچے ہمارے دھرنے میں شریک تھے۔ ان میں سے ہر شخص اس جبر کا گواہ ہے جب پورے دن اپنے فورسز کو سریاب کی گلیوں میں نہتے لوگوں پر فائر کرنے کے احکام کے ساتھ بھیجا گیا۔

آج بلوچ قوم کے قومی جدوجہد پر قدغن لگانے کے لیے اربوں اور کھربوں روپے خرچ کرکے بے ضمیر صحافیوں، بے ضمیر ٹی وی چینلز اور اخبارات کے مالکان کو خرید کر منظم طریقے سے ہمارے پُرامن تحریک کے خلاف ایک پوری پروپیگنڈہ فوج بنا کر جھوٹے ریاستی بیانیے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ لیکن ان ستر سالوں میں ریاست اس معمولی چیز کو بھی سمجھنے سے قاصر ہے کہ جس قوم کے ہر گھر میں آپ نے ایک لاش بھیجی ہے، وہ قوم آپ کے میڈیا پروپیگنڈہ سے کیسے مرعوب ہو گی؟ بلوچ یکجہتی کمیٹی چند لوگوں کی نہیں بلکہ عام عوام کی تحریک ہے، اس پر کریک ڈاؤن کرکے اس کی مرکزی ساتھوں کو گرفتار کرنے سے اور اس کے خلاف پوری پروپیگنڈہ فوج فعال کرنے سے آپ اس تحریک کو ناکام نہیں بلکہ زیادہ مضبوط کر رہے ہیں۔

آپ وسائل اور پیسے خرچ کرکے ریاستی بیانیہ کی تشریح کرکے پنجاب کے چند بے ضمیر دانشوروں اور صحافیوں (جن کی صحافت تحقیق اور سچائی کے بجائے ریاستی بیانیہ پر مبنی ہے) کو بلوچوں کے خلاف استعمال کرکے شاید پنجاب کے عوام کو فریب میں رکھ سکتے ہیں، مگر یقین کیجیے بلوچ عوام کو آپ دھوکہ نہیں دے سکتے۔ ہماری قوم کا ایک ایک فرد، ایک ایک گھر آپ کے مکروہ چہرے سے واقف ہے، آپ کی جبر اور بربریت سے واقف ہے۔ بلوچ قوم آپ کی دھوکہ دہی سے واقف ہے، آپ کی بلوچستان میں تاریخ دھوکہ، فریب اور جبر پر مبنی ہے۔ جس طرح 1959 میں آپ نے جب بلوچوں کے بزرگ لیڈر نوروز خان کو قرآن کے نام پر دھوکہ دیا، بلوچ قوم آج تک اس دھوکہ اور فریب کو نہیں بھول پائی ہے، تو یہ بلوچ قوم آپ کے آج کے جبر اور بربریت کو کیسے درگزر کرے گی؟

آج جب میں ریاست کی ایک پُرامن سیاسی تحریک کو ڈیل کرنے کی اپروچ کو دیکھتی ہوں تو میں حیران ہوتی ہوں کہ واقعی ایکیسویں صدی میں ریاستیں اس طرح ہوتی ہیں؟ کیا 21ویں صدی میں دنیا کی ریشنل ریاستیں پُرامن سیاسی تحریکوں کو سمجھنے اور ان کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کے بجائے اربوں روپوں خرچ کرکے پروپیگنڈہ فوج بناتی ہیں تاکہ اس پُرامن سیاست تحریک کے خلاف بیانیہ بنایا جائے؟ کیا اس ریاست کی ریشنلٹی اس قدر ختم ہو چکی ہے کہ ایک قوم کے ہر گھر کو زخمی کرنے، ہر گھر کو تکلیف اور اذیت دینے، ہر گھر کی عزت و نفس کو پامال کرنے کے بعد اس قوم کے عوامی تحریک کو چند بے ضمیر صحافیوں کے پروپیگنڈہ سے ختم کیا جا سکتا ہے؟ یقین کیجیے، اکیسویں صدی میں اس طرح ایک دکان کو بھی نہیں چلایا جاتا جیسا کہ یہ لوگ ایک ریاست چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی وائی سی حالیہ عرصے میں بلوچ نسل کشی کے خلاف ایک منظم عوامی تحریک ہے، لیکن یہ نہ بلوچوں کی پہلی تحریک و تنظیم ہے، نہ یہ آخری تنظیم و تحریک ہے۔ اگر آپ کے ناکام ریاستی ادارے اس نیت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی پر کریک ڈاؤن کر رہے ہیں کہ اس کے بعد بلوچستان میں بلوچ عوام کی تحریک کو کمزور کیا جائے گا تو آپ اپنے آپ کو ایک فریب اور دھوکے میں رکھ رہے ہیں۔ بلوچ تحریک کا مرکز بلوچ عوام ہے اور قومی حقوق کے لیے قربان ہونے کا فلسفہ ہے۔ اس تحریک کی طاقت یہی ہے کہ یہ بلوچ عوام کی تحریک ہے۔

آپ کے ریاستی جبر کا ٹارگٹ بلا تفریق بلوچ عوام ہے اور بلوچ عوام گزشتہ سات دہائیوں سے آپ کے ظلم اور جبر کو برداشت کرتے آ رہے ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بلوچ قوم کبھی بھی آپ کے جبر کے خلاف ایک لمحے کے لیے بھی خاموش نہیں ہوئی ہے۔ 77 سالوں سے بلوچ قوم اس تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج میں آپ پر ایک چیز واضح کرنا چاہتی ہوں کہ تنظیمیں فقط اس تحریک کا جزو ہو سکتی ہیں مگر بذات خود تحریک نہیں ہیں، آپ تنظیم کو وقتی طور پر شاید دبا سکتے ہوں لیکن آپ ایک عوامی تحریک کسی بھی صورت دبا نہیں سکتے ہوں اور ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ریاست نے جتنے شدت سے بلوچ قومی تحریک کو کچلنے کی کوشش کی ہے تو اس کے ردعمل میں تحریک زیادہ شدت سے ابھری ہے اور اس دفعہ یہ تحریک ماضی کے نسبت زیادہ منظم انداز میں ابھر رہی ہے۔

آج بلوچ قوم حوصلے کے ساتھ اس سخت گھڑی کا سامنا کرے گی، آپ کے جبر کے نظام کے ہر ہر زاویے کو ہم expose کرتے رہیں گے اور یہ بلوچ قومی تحریک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ 20 سال پہلے بلوچ قوم کے مردوں کو جیل میں ڈالا گیا، انہیں گمشدہ کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئیں، مگر آج ان کی خواتین بھی آپ کے ظلم کے نظام کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ بلوچ تحریک ایک حقیقی عوامی تحریک ہے اور اپنے نیچر میں مکمل طور پر Indigenous ہے، لیکن آپ اپنے ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مسلسل اس پر بیرونی فنڈنگ کے الزامات لگاکر اس تحریک کو متنازعہ کرنے کی کوشش کرتے ہو، لیکن آج یہ تحریک اس خطے کی سب سے بڑی منظم عوامی تحریک ہے۔

آج آپ نے بلوچستان بھر میں 144 نافذ کرکے غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ کیا ہے، عدالتوں میں ریاستی ایجنسی اپنے دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، اختر مینگل پر قاتلانہ حملہ کروایا جاتا ہے۔ یہ تمام سطحی، بچگانہ اور زمینی حقائق کے برعکس فیصلے اس نام نہاد Apex Committee میں لیے گئے ہیں جہاں تمام جنگی منافعہ خور اور پیدا گیر بیٹھے ہوئے ہیں، جنہیں نہ بلوچ عوام کی نفسیات کے بارے میں کچھ معلوم ہے اور نہ ہی بلوچستان کے حقیقی حالات کے بارے میں کچھ اندازہ ہے، بس ایک پروپیگنڈہ فوج بنا کر مطمئن ہیں کہ ہم پروپیگنڈہ اور جھوٹے بیانیے بنا کر طاقت اور بندوق کے زور پر ہمیشہ بلوچستان پر حکمرانی کرتے رہیں گے۔ اور میڈیا میں بیٹھ کر بلوچستان میں آرام سے فوجی آپریشن کے لیے بیانیہ بنا رہے ہیں۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ 1948 سے آج تک بلوچستان میں کب آپریشن نہیں ہوا؟ ابھی صرف گزشتہ تین مہینوں کے دوران بلوچستان سے 500 کے قریب افراد کو جبری گمشدہ کیا گیا اور تین درجن کے قریب افراد ماورائے عدالت قتل کیے گئے، اس کے علاوہ آپ کیسے آپریشن کر سکتے ہیں؟

آج پورا بلوچستان آپ کے اس جبر کے خلاف سراپا احتجاج ہے، بلوچستان کی سڑکیں پچھلے دس دنوں سے مکمل بند ہیں، اور بی وائی سی نے ہمیشہ بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنوں اور احتجاجی کالز کی حمایت کی، ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ آج BYC پر ریاستی کریک ڈاؤن کا مقصد بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی کے خلاف تحریک کو متاثر کرنا ہے لیکن ہمیں اس ریاستی جبر کے خلاف اس تحریک کو مزید منظم کرنا ہے اور ہمارے قومی فرض ہیں۔

اس عید ہم لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ پریس کلب میں موجود شرکت نہیں کر سکتے مگر ہم کوٹی نمبر 5 سے ایک خاموش احتجاج کر رہے ہیں، اپنے ان بھائیوں کے نام جو بلوچ شناخت کے بنا پر غیر انسانی تشدد کے شکار ہیں۔

میری خواہش تھی کہ وہ قید تنہائی جہاں میرے والد نے اپنے قید کے تین سال گزارے، میں اس قید تنہائی کو جی سکوں۔ جس لمحے ہدہ جیل کے دروازے میرے لیے کھولے گئے، مجھے اپنے سیاسی استاد کی ہنسی یاد آئی جو اکثر ملاقات کے وقت جالی کے اس پار سے نظر آتی۔ ایسا لگا جیسے وہ میرا ہاتھ تھامنے خود آئے اور مجھے گاڑی سے نکالا۔ میں ریاست کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری قید کے لیے ہدہ جیل کا انتخاب کیا، یہ جگہ میری تکلیف کا مرکز تھی، یہاں کئی عیدیں میں نے اپنے والد کو ملاقات والے کمرے کے جالی کے اس پار دیکھا، اور یہ جگہ میرا حوصلہ کا سبب بھی بنے گی۔ میں ان دیواروں کو ہر دن چھو کر اپنے بہادر والد اور ان کے گمنام ساتھیوں کی قربانیوں کو محسوس کرتی ہوں، جنہوں نے ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کیا۔

یہ میری زندگی کی خواہش تھی کہ میں اس جگہ جا سکوں جہاں میرے والد کو رکھا گیا، جہاں انہیں ٹارچر کیا گیا۔ میں اُس آخری لمحے کو جینا چاہتی تھی جو ان کا آخری لمحہ تھا۔ قید و بند، کسی سیاسی کارکن کو کمزور نہیں کر سکتے۔ ہم جب اس راستے پر قدم رکھتے ہیں تو ہمیں یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ راستہ وقتی طور پر ہم سمیت ہمارے خاندان کے لیے تکلیفیں بڑھائے گا، مگر مستقل بنیادوں پر یہ ہمارے خوشحال مستقبل کا باعث بنے گا۔

اس قید تنہائی میں آج بھی میرا دل ہر اس ماں کے لیے دھڑکتا ہے جو بلوچ لانگ مارچ میں میرے ساتھی تھی، جن کے بیٹے گمشدہ ہیں۔ میں اس عید ان کے ساتھ نہیں، وہ مجھ سمیت تمام ساتھیوں کے لیے پریشان ہیں، مگر یہ پریشانی اور دکھ کا دن نہیں، حوصلہ کا دن ہے۔ ہمارا دشمن جبر کے جتنے نئے دروازے کھول کر جس طرح ظلم اور جبر کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ ہمارے سرزمین پر انصاف اور امن کے دنوں کے قریب لے آ رہا ہے۔

آج مجھے یقین ہوگیا جب میرے والد نے کہا کہ مجھے تنگ کرنے کے لیے ریاست نے میری گمشدگی کے دوران مجھے ایک دن اخبار پر روٹی لپیٹ کر دی، اس اخبار میں نواب اکبر بگٹی کی شہادت کی خبر تھی، جس نے مجھے ایک عرصے تک پریشان اور بیمار رکھا۔ اس ٹارچر سیل میں ہر نئے آنے والے قیدی سے انہوں نے اپنے سیاسی ساتھوں کا احوال پوچھا، انہیں اپنے بچوں اور بیوی کی فکر نہیں تھی، اگر فکر تھی تو اپنی قوم کی۔ تو میرے ہم وطنوں، آج بھی ہر ساتھی جو یہاں قید میں ہے، انہیں صرف اپنے قوم کی فکر ہے۔ میں وکیل، جیل کے سپاہی، دربان سے بس یہی پوچھتی ہوں کہ سمی، شاہ جی اور دوسرے ساتھیوں کا احوال دیں، اور میرے قوم کی ثابت قدمی ہی ہمارے ہر لاپتہ پیارے کا بدلہ اور اس کا حوصلہ ہے۔

یہ ریاست جس نے ہزاروں گھر اجاڑے، یہ تحریک ان اجاڑے گھروں کو بسانے کے لیے ہے۔ ریاست کے ہر جبر، جھوٹ کا سامنا ہم ہمت، حوصلہ اور منظم جد و جہد سے کرے گے، جو ہمیں توڑنا چاہتے ہیں، ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا ہے۔ لاشیں گرانے والی ریاست کا سامنا حوصلہ مند بلوچ قوم سے ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

ہدہ جیل کوئٹہ

 مورخہ: 31 مارچ 202

یہ بھی پڑھیں

فیچرز