جنیوا ( ہمگام نیوز) گندھارا ویب سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ براہمداغ بگٹی کچھ ہی مہینوں میں ملک واپس جاے گی ۔ رپورٹ کے مطابق اعلی حکام کے ساتھ خفیہ ملاقات کے دوران وہ ایک ڈیل کے تحت پاکستان جا نے کیلئے آمادہ ہوچکے ہیں۔آن لائن رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ برہمداغ بگٹی کا پاکستان جانا بلوچ قومی تحریک کیلئے بہت بڑا نقصان ثابت ہوگا۔ اس خفیہ ڈیل میں ۹۰ فیصد ایشوز پر معاملات طے پاچکے ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بلوچستان حکومت کی ایک اہلکار نے آن لائن رپورٹر کو بتایا کہ جولائی میں ڈاکٹر مالک نے براہمداغ بگٹی سے دو تین بار ملاقات کی ہے۔ براہمداغ بگٹی نے یہ شرط لگائی ہے کہ واپسی پر اس کی عزت کی جائے اور تمام کیسز کو واپس لیا جائے۔ گندھارا ویب سائٹ مزید لکھتا ہے کہ بگٹی میں یہ تبدیلی شاید اس وجہ سے آ ئی ہے کہ اس پندرہ سالہ مزاحمتی تحریک کا کوئی نتیجہ نکل نہیں رہا ہے۔ اس کی وجہ بظاہر یہی ہوسکتی ہے کہ پاکستانی فوج مزاحمت کے خلاف بہت سخت کاروائیاں کررہا ہے اوربلوچ مزاحمت کو بین الاقوامی حمایت بھی حاصل نہیں ہو پارہا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق براہمداغ بگٹی نے ڈاکٹر مالک سے پوچھا کہ وہ کب تک اپنے لوگوں کا قربانی دیتے رہینگے ؟ اس کے ساتھ ہی آن لائن نے یہ بھی لکھا ہے کہ میٹنگ کے دوران صوبائی حکومت کے اختیارات کے بارے براہمداغ نے مالک کی وفد سے یہ وضاحت چاہی ہے کہ آیا ان کے پاس مذاکرات کرنے کی اختیارات ہیں کہ آ پ کے ساتھ بات چیت ہوں؟
اطلاعات کے مطابق براہمداغ بگٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے اعتماد سازی ہو، جن میں سب سے پہلے فوجی آپریشن بند کیے جائیں، لوگوں کو اٹھاکر غائب کرنے کا سلسلے کو بند کیاجائے اور ان کے علاقے میں انتظامی میں ضروری تبدیلیاں لائی جائیں۔۔
یہ بات بھی سامنے آ ئی ہے کہ جس میں حکومت نے بگٹی کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو قابو میں رکھیں گے۔ اس اخبار کا خیال ہے کہ ڈاکٹر اللہ نظر کی ہلاکت خبروں کے بعد اگر براہمداغ بگٹی واپس پاکستان چلاگیا تو تحریک پر اس کے بہت منفی اثرات مرتب ہونگے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان چائنا پاکستان اقتصادی کوریڈور کو ہرحال میں کامیاب کرانے پر تلی ہوئی ہے۔ تاکہ بلوچ مزاحمت کو کچل ڈالے ۔ لیکن اسے شدید مزاحمت ان لوگوں کے طرف سے پیش آرہا ہے جنہوں نے اس تحریک کی بنیادیں نظریاتی اساس پر رکھی ہیں جو سیاست بازی پر یقین نہیں رکھتے ۔ بلکہ ان کا نصب العین قومی سوچ ہے جس کی طابع رہ کر وہ تعین شدہ منزل کی طرف سفر طے کرتے رہیں گے۔ ان اطلاعات کے حوالے جب میں نے ایک بزرگ بلوچ سیاسی ورکر سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ نہ رادھا نا چے گی نہ نو من تیل گر ے گا ۔ اس تمام ڈراما بازی میں پاکستان وقت خریدتا رہے گا تاکہ مزاکرت کی آڑ میں سیاسی ورکروں میں مایوسی پھیلتی جائے تاکہ مزاحمتی تحریک میں نیا کیڈر شامل نہ ہوں ۔


