یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںکبیر بلوچ چھ سال قبل خضدار سے لاپتہ کردیا گیا تھا جو...

کبیر بلوچ چھ سال قبل خضدار سے لاپتہ کردیا گیا تھا جو تاحال بازیاب نہیں ہوسکے۔اہلخانہ

خضدار (ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچ نوجوان کبیر بلوچ کے اہلخانہ نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے تنظیموں سے اْنکے بازیابی کے لئے کردار ادا کرنے کی ایپل کرتے ہوئے کہا ہیکہ کبیر بلوچ و اْنکے ساتھیوں کو ساڑھے چھ سال قبل خضدار سے اغواء کرکے لاپتہ کردیا گیا تھا جو تاحال بازیاب نہیں ہوسکے۔ اْنھیں فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے اغواء کئے تھے اس بات کا اعتراف اْس وقت کے ڈی پی او غلام علی لاشاری اور ڈی ایس پی رحمت اللہ محمدحسنی نے کیا تھا اور ہم نے ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ اور کارندوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروائے تھے لیکن مذکورہ پولیس آفیسران نے اْن سے ساز باز کرکے ہمارے ایف آئی آر کو خارج کئے۔ اور ہمیں کہا گیا کہ کبیر بلوچ کو ایک ہفتے میں بازیاب کرینگے اْس ایک ہفتے کو آج ساڑھے چھ سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن کبیر بلوچ و اْس کے ساتھی بازیاب نہیں ہوسکے اس دوران ہم نے ہائی کورٹ، سپریم کورٹ، عدالتی کمیشنز سمیت دیگر حکومتی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے سامنے اپنی فریاد پیش کی لیکن کسی بھی جگہ سے ہمیں انصاف نہیں مل سکا۔ موجودہ صوبائی حکومت میں شامل پارٹیاں خصوصا نیشنل پارٹی کی قیادت اور ڈاکٹر مالک اقتدار سے قبل لاپتہ بلوچ فرزندوں کے بازیابی کے لئے بلند و بانگ دعوے کرتے تھے اور انہوں نے الیکشن بھی اس سلوگن کے تحت لڑے لیکن اب وہ اقتدار کے بھول بھلیوں اور ریکوڈک کے کمیشنوں میں لاپتہ افراد کو بھول چکے ہیں اور ڈاکٹر مالک وزیراعلی بننے کے بعد اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر میں لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کرسکا اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند نہیں ہوا تو کرسی کو ٹھوکر مار کر گھر چلا جاونگا لیکن نہ وہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرسکے نہ مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ تھم سکا پھر بھی ڈاکٹر صاحب کرسی سے چمٹا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے بین الاالقوامی ادارے اور دیگر انسان دوست مہذب ممالک بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کے پامالیوں کا نوٹس لیکر لاپتہ بلوچوں کے بازیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز