کراچی (ہمگام نیوز) کراچی کے علاقے ماری پور سنگھور پاڑہ اور لال بکھر ہاکس بے سے تعلق رکھنے والے دو لاپتہ بلوچ نوجوان بالآخر طویل گمشدگی کے بعد بازیاب ہوکر اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔ اٹھارہ ستمبر 2025 کی رات گئے انہیں شہر کے مختلف مقامات پر چھوڑ دیا گیا، جس کے بعد علاقے میں خوشی اور مسرت کی فضا پیدا ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق، سنگھور پاڑہ کے رہائشی شیراز بلوچ 23 مئی 2025 کو لاپتہ ہوگئے تھے۔ وہ 118 دن، یعنی 16 ہفتے اور 6 دن بعد عقوبت خانوں سے رہا ہوئے۔ تاہم ان کے چھوٹے بھائی سیلان بلوچ تاحال لاپتہ ہیں جس پر خاندان شدید کرب اور بے یقینی کا شکار ہے۔ اسی طرح، رمیز بلوچ ولد جنگی جو 24 مئی 2025 کو لاپتہ ہوئے تھے، 117 دن یعنی 16 ہفتے اور 5 دن بعد بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچے۔ رمیز کا تعلق ہاکس بے کے علاقے لال بکھر سے ہے۔ دونوں نوجوانوں کی رہائی کو اہلِ علاقہ نے امید کی ایک کرن قرار دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، ان نوجوانوں کی بازیابی کے بعد اہلِ علاقہ اور لواحقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم دیگر گمشدہ افراد کے اہلِ خانہ اب بھی اپنے پیاروں کی رہائی کے منتظر ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر کسی پر الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، غیرقانونی گمشدگیوں کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے متعدد بلوچ نوجوان تاحال لاپتہ ہیں۔ ان میں کلری سے زاہد علی بلوچ، ماری پور سے سیلان بلوچ، سرفراز بلوچ، رحیم بخش بلوچ اور رحمان بلوچ شامل ہیں۔ ان کے لواحقین نے کئی ہفتوں تک کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا، جو 40 دن تک جاری رہا۔ اسی دوران ماری پور کے علاقے سائیکل چورنگی پر مرکزی ہاکس بے روڈ کو بند کرکے دھرنا بھی دیا گیا تھا۔ بعدازاں سرکاری حکام اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے بعد دھرنا اس یقین دہانی پر ختم کیا گیا کہ لاپتہ افراد کی رہائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ آج رات دو نوجوانوں کی بازیابی یقیناً ایک مثبت پیشرفت ہے مگر جب تک باقی لاپتہ افراد بھی اپنے گھروں کو نہیں پہنچتے، ان کی جدوجہد اور آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔


