جمعه, اپریل 4, 2025
Homeخبریںکراچی سے سندھ سجاگی فورم رہنماسارنگ جویو گذشہ رات پاکستانی ایجنسیوں کے...

کراچی سے سندھ سجاگی فورم رہنماسارنگ جویو گذشہ رات پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں جبری اغوا

 

کراچی (ہمگام نیوز ) وائس فارمسنگ پرسنز آف سندھ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے سندھ بھر میں ظلم و جبر کی انتہا کردی ہے۔ سندھ بھر سے جبری طور لاپتہ کئے گئے سینکڑوں کارکنان کی آزادی کے لیئے آواز اٹھانے والے رہنما سارنگ جویو کو بھی گذشتہ رات اپنے گھر سے گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کردیا گیا ہے۔

سارنگ جویو سندھی مسنگ پرسنز اور سندھ کی سیاسی جدوجہد کیلئے ایک مضبوط آواز بنے ہوئے تھے۔ وہ سندھ سجاگی فورم کے پلیٹ فارم سے سندھ کے تمام سیاسی سماجی مسائل کے لئے اپنی پرامن سیاسی جدوجہدجاری رکھے ہوئے تھے۔

سورٹھ لوہار نے سارنگ جو یو کے اغواء پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سارنگ جویولاپتہ کارکنان کیلئے مضبوط آواز تھے،سندھ بھر میں بھرپور احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمسمجھتے ہیں کہ سارنگ جویوجیسے سرگرم پرامن سیاسی کارکنان کو گرفتار کرکے اور جبری اغوا کرکے پاکستانی ایجنسیاں سندھ کی پرامن سیاسی آواز کو دبانے کے لیئے اپنا پورا زور لگا رہی ہیں اور ایسے ریاستی جبر و تشدد کے عوامل سے پاکستانی ریاست اپنے آخری انجام کی طرف جا رہی ہے۔

اس موقع پر ہم اقوام متحدہ،ایمنسٹی انٹرنیشل، ایشین ہیومن رائٹس کمیشن سمیت دنیا بھر کی تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستانی ریاست ہمارے سندھی کارکنان کی نسل کشی کر رہا ہے، سندھ میں جاری پاکستانی جبر و تشد د کے خلاف تمام عالمی ادارے ہمارا ساتھ دیں اور سارنگ جویو سمیت سندھ کے جبری طور لاپتہ تمام سیاسی و پرامن قوم پرست کارکنان کی آزادی کے لئے پاکستانی ریاست پر اپنا عالمی،سیاسی و سفارتی دباؤ ڈالیں۔

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سارنگ جویو سمیت سندھ کے تمام لاپتا افراد کی بازیابی کے لئے سندھ گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے سندھی قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم سندھ کی تمام سیاسی و سماجی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سندھ بھر میں لاپتہ سندھی کارکنان کی آزادی کی تحریک میں ہمارا بھرپور ساتھ دیں۔

یاد رہے کہ سارنگ جویو نامور سندھی ادیب تاج جویو کے بیٹے ہیں۔ اور اس وقت زیبسٹ کراچی یونیورسٹی میں ایک استاد کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز