کراچی (ہمگام ویب نیوز ) کراچی سے ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مزید دو بلوچ طلبا کو جبری طورپر حراست میں لیکر نامعلوم مقام پہ منتقل کردیا گئے۔حراست میں لیے گئے نسیم بلوچ ولد حاجی محمدکریم اور آفتاب احمد ولد خیر محمد کے خاندانی زرائع کے مطابق نسیم بلوچ اور آفتاب بلوچ کو 14 مئی 2019 کو پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے جبری طورپر اپنے ساتھ لے گئے۔نسیم بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے ہے جو کراچی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آیا تھا، اور شہید زلفقار علی بھٹو یونیورسٹی میں ایل ایل بی فائنل ایئر کا طالب ہے جسے ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں اغواء کردیا ہے۔جبکہ آفتاب بلوچ کا تعلق کراچی کے علاقے شفیع گوٹھ سے ہے جسے نسیم بلوچ کے ہمراہ ریاستی فورسز نے کراچی کے علاقے ڈیفنس ویو میں اقرا یونیورسٹی کے قریب سے حراست میں لینے کے بعد جبری طورپر اغواء کردیا ہے۔
خاندانی زرائع کا کہنا ہے آفتاب شوگر کا مریض ہے جسے ہر وقت دواوں کی ضرورت پڑھتی ہے لیکن کئی دنوں سے فورسز کی قید میں اب پتا نہیں انکا کیا حال ہوگا۔ نسیم کریم اور آفتاب احمد کے لواحقین نے درخواست کی ہے کہ انکے پیاروں کو منظر عام پر لایا جائے۔


