ترکیہ ( ہمگام نیوز ) گزشتہ شب، منگل ۱۴ اکتوبر ۲۰۲۵ کو، کرد مذہبی و سیاسی رہنما ماموستا مسعود نظری، جو ایران کے زیر قبضہ جوانرود کے رہنے والے تھے، ترکی کے شہر استنبول میں اپنے گھر کے سامنے مسلح افراد کے حملے میں جاں بحق ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق، حملہ اُس وقت ہوا جب مسعود نظری گھر واپس آئے اور دروازے کے سامنے پہنچے۔

نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر کئی گولیاں چلائیں، جن میں سے متعدد گولیاں انہیں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

حملہ آور فائرنگ کے بعد فوراً جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق، ماموستا مسعود نظری تقریباً دس سال قبل ایران چھوڑ کر ترکی منتقل ہوئے تھے۔

کیونکہ وہ ایران کی مذہبی اور سیاسی پالیسیوں کے خلاف سرگرم تھے اور اشغالگر (قابض) ایرانی حکومت پر تنقید کرتے تھے۔

ان کے اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ داروں نے اس قتل کی ذمہ داری براہِ راست ایران کی انٹیلیجنس ایجنسیوں پر ڈالی ہے۔

انہوں نے کہا:“مسعود کو ایرانی خفیہ اداروں کی جانب سے بارہا دھمکیاں مل چکی تھیں۔

اور اس قتل میں ایران کے سیکورٹی اداروں کا ہاتھ واضح ہے۔”

مسعود نظری اہلِ سنت کرد علما اور مذہبی کارکنوں میں ایک معروف شخصیت تھے۔

اور وہ ایران کی فرقہ وارانہ اور جابرانہ پالیسیوں کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس واقعے سے صرف چند روز قبل، رستم ایجباری المعروف حاجی رستم بلوچ — جو ایران کے سیاسی مخالفین میں سے ایک اور بلوچستان کے رہنے والے تھے۔

افغانستان کے شہر ہرات میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ دونوں واقعات خطے میں ایران کے مخالفین کے خلاف بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ مہم کی علامت سمجھے جا رہے ہیں۔