کرمان( ھمگام نیوز ) کرمان کی شهاب جیل میں اتوار، 14 جون 2026 کی علی الصبح ایک بلوچ قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ مذکورہ قیدی کو منشیات سے متعلق الزامات کے تحت عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق پھانسی پانے والے بلوچ قیدی کی شناخت 39 سالہ حسین کشانی ولد ابراہیم کے نام سے ہوئی ہے، جو صوبہ گلستان کے شہر آزادشہر کے رہائشی تھے۔
ذرائع کے مطابق حسین کشانی کو چند سال قبل کرمان شہر میں منشیات سے متعلق مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں کرمان کی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی۔ اطلاعات کے مطابق پھانسی سے ایک روز قبل انہیں جیل کے عمومی وارڈ سے منتقل کرکے قرنطینہ سیل میں رکھا گیا تھا۔
رسانک نیوز کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران ایران کی 27 مختلف جیلوں میں کم از کم 137 بلوچ قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ ان میں زاہدان جیل سرفہرست رہی جہاں 34 پھانسیوں کا ریکارڈ سامنے آیا۔
اعداد و شمار کے مطابق پھانسی پانے والے 94 افراد (تقریباً 68.6 فیصد) کو منشیات سے متعلق مقدمات میں سزا دی گئی تھی، جبکہ 36 افراد (26.3 فیصد) قتل کے الزامات میں پھانسی دیے گئے۔ مزید 4 افراد (2.9 فیصد) سیاسی اور نظریاتی الزامات، 2 افراد (1.5 فیصد) زیادتی کے مقدمات اور ایک شخص (0.7 فیصد) نامعلوم الزام کے تحت سزائے موت کا سامنا کر چکا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنان طویل عرصے سے بلوچ قیدیوں کے خلاف سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں اور شفاف عدالتی کارروائیوں کے فقدان کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔















