سرینگر(ہمگام نیوز)بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں سری نگر کے قریب پامپور میں گذشتہ تین روز سے شدت پسندوں کے ساتھ جاری تصادم میں اب تک پانچ فوجیوں سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔سنیچر سے سرینگر سے پندرہ کلو میٹر جنوب میں واقع پامپور میں شدت پسندوں نےایک پانچ منزلہ سرکاری عمارت میں پناہ لے رکھی ہے۔
کشمیر میں بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ انھیں سرکاری عمارت میں محصور شدت پسندوں کو وہاں سےنکالنے میں کوئی جلدی نہیں ہے اور وہ ہر حالت میں مزید ہلاکتوں سے بچنا چاہتے ہیں۔سری نگر میں تعینات چنار کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹینٹ جنرل ستیش دوا نے کہا:’ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے اور اس کے لیے کوئی وقت بھی مقرر نہیں ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ مزید ہلاکتوں سے بچا جائے۔ اس عمارت کو شدت پسندوں سے خالی کرانے کےلیے جتنا بھی وقت لگے ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘
بھارتی سکیورٹی فورسز نے اتوار کی شب سے کارروائی کی ہے جس کے بعد ایف سی آر کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ عمارت کی چھت پر ایک شدت پسند کی لاش دیکھی گئی ہے۔ پولیس کے سربراہ سید مجتبیٰ گیلانی کا کہنا ہے کہ عمارت میں مسلح شدت پسندوں کی تعداد چار یا پانچ ہوسکتی ہے، تاہم ابھی تک کسی بھی مسلح گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
حملے کی جگہ عام لوگوں نے زبردست مظاہرے کیے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے پولیس نے آنسو گیس اور ربرکی گولیوں کا استعمال کیا جس کے نتیجہ میں اب تک آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
کئی برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ تین روز تک مسلح شدت پسندوں نے سینکڑوں کی تعداد میں فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو تصادم میں الجھائے رکھا ہے۔
پولیس سربراہ مجتبیٰ گیلانی کہتے ہیں: ’یہ لڑائی ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔‘ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کی 15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل ستیش دُوا نے بتایا کہ تصادم میں شامل شدت پسند اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں۔ تادم تحریر آپریشن جاری تھا اور مظاہرین کو قابو کرنے کے لیےپولیس کاروائی کررہی تھی۔اس سے قبل شمالی کشمیر میں بھی ایک تصادم میں پانچ شدت پسند مارے گئے۔ فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ماہ میں 28 شدت پسند مارے گئے ہیں۔ جنرل دُوا کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کی چھ سو کوششیں کی گئیں لیکن دراندازوں کو یا تو ایل او اسی پر ہی ہلاک کیا گیا یا پھر کشمیر میں مختلف جھڑپوں کے دوران وہ مارے گئے۔
کشمیر میں مسلح شدت پسندی میں ایک ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جب نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی حلقوں میں کافی غم و غصہ ہے۔
پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران حریت کانفرنس کے رہنما شبیر شاہ نے بتایا: ’ہم تو مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے ہیں، لیکن جب حکومت ہند طاقت کے نشے میں سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگاتی ہے، تو نوجوان بندوق اُٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔‘
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما محبوبہ مفتی نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں بتایا: ’یہ ایک بہیمانہ حملہ ہے جس میں معصوموں کی جان ضائع ہوگئی۔ معاملات کو بندوق یا تشدد سے نہیں بلکہ بات چیت سے حل کرنا ہوگا۔‘


