تربت ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ بلیدہ مہناز سے قابض پاکستانی فورسز نے گزشتہ روز صبح دس بجے کے قریب چھاپہ مارکر 18 سالہ طالب علم شیہک ، 19 سالہ طالب علم وسیم پسران نصرت اللہ
اور 19 سالہ طالب علم عنایت اللہ ولد درمحمدساکنان محمد آباد مہناز بلیدہ کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ مزکورہ طالب علموں کو گزشتہ روز صبح فرنٹیئر کور ایف سی کے اہلکاروں غیر قانونی حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے اور ابتک کسی عدالت میں بھی پیش نہیں کیے گئے ہیں ۔
انھوں نے نوجوان کی بازیابی کی اپیل کی ہے ۔
ترجمان نے دوسری جاری بیان میں کہاہے کہ پاکستانی فورسز نے
بلوچستان لیویز فورس کے ایک لیویز سپاہی مشکے کے گجر کے رہائشی نوید بلوچ ولد عبدالحق کو 7 ستمبر 2025 کو مشکے فوجی کیمپ طلب کیا ،جب وہ حاضر ہوئے تو اسے حراست میں لیکر تین دن تک قید میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا ۔
دس ستمبر 2025 کو دوسرے اور شخص کے ہمراہ اس کی گولیوں سے چھلنی لاش بیسمہ واشک سے ملی ۔
انھوں نے کہا کہ تشدد زدہ نعشیں بلوچستان میں مسلسل اس طرز ظلم کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست میں لیے گئے افراد کو بعد میں ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے۔
انھوں نے حکومت عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ ماورائے قانون بلوچ نسل کشی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کیلے ٹھوس قدم اٹھائیں بلوچ نسل کشی کو روکیں۔


