نیویارک (ہمگام نیوز) اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے کہا ہے کہ یمن دوبارہ ’مکمل جنگ‘ کی طرف لوٹ آیا ہے جس کے بعد مذاکرات اب ناگزیر ہیں.
اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے خبردار کیا ہے کہ یمن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دوبارہ مکمل جنگ کی طرف لوٹ آیا ہے اور لڑائی کئی محاذوں تک پھیل چکی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔
گرونڈبرگ کے مطابق تعز، لحج، مأرب، الجوف اور حجہ سمیت مختلف علاقوں میں لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد یمنی حکومت نے بھی بڑے پیمانے پر جوابی فوجی کارروائی شروع کی ہے، جبکہ باب المندب کے اطراف میں بھی شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایلچی نے کہا کہ جنگ کے میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیاں اس سیاسی مذاکرات کا متبادل نہیں بن سکتیں جو بالآخر تنازع ختم کرنے کے لیے ضروری ہوں گے۔
ان کے بقول اگر یمن کو مستقل جنگ کی صورتحال سے بچانا ہے تو سیاسی حکمتِ عملی پر غور کرنے کا وقت اب ہے۔ انہوں نے فریقین سے فوری کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کی جانب بڑھنے، بحیرۂ احمر اور خلیج عدن میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے اور سرحد پار حملے روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔


