شنبه, مارچ 7, 2026

زاہدان ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ میلک بارڈر ٹرمینل (ضلع ہیرمند) میں گزشتہ روز تعینات ایرانی قابض فوج کے اہلکاروں نے ایک نوجوان بلوچ کولبر کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔

یہ نوجوان شدید جھلسنے کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ ذرائع کے مطابق 18 سالہ علی بلوچ میلک ہی کا رہائشی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، علی ایندھن کی ایک گیلن لے جا رہا تھا کہ ایرانی سرحدی فورس (یگان تکاوری مرزبانی) کے ایک اہلکار نے اُسے روکا، پھر گیلن کا پٹرول اس کے جسم پر انڈیلا اور آگ لگا دی۔

متاثرہ نوجوان کا کہنا ہے

میرے پاس صرف ایک گیلن پٹرول تھا جسے بیچنا چاہتا تھا۔ ایک فوجی نے مجھے پکڑا، پٹرول میرے جسم پر ڈالا اور آگ لگا دی، میرے پاؤں جل گئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، عینی شاہدین نے آگ بجھانے کی کوشش کی، مگر علی بری طرح جھلس گیا۔ اس کی خاندان شدید صدمے میں ہے جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے کوئی ردعمل یا ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

ایرانی فوجی اہلکاروں کا ایک شہری کو جان بوجھ کر زندہ جلانا، انسانی جان کے حق، انسانی وقار اور تشدد و غیر انسانی سلوک سے تحفظ جیسے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جنہیں ایران کے آئین (اصول ۲۲ و ۳۸)، اقوامِ متحدہ کے اعلامیہ برائے حقوقِ انسانی (آرٹیکل ۵) اور کنونشن برائے انسدادِ شکنجہ میں واضح طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

بلوچستان میں ان مظالم پر قانونی احتساب کا فقدان اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض ایرانی نظام میں فوجی اہلکاروں کو سزا سے استثنا حاصل ہے۔

واضح رہے یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہےجب چند روز قبل اسی میلک بارڈر پر ایک ایرانی سپاہی نے دو بلوچ بزرگ خواتین کو مارا پیٹا اور ان کی توہین کی تھی۔

بلوچ عوام میں اس طرح کے غیر انسانی اور غیر قانونی مظالم پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف کوئی عدالتی کارروائی نہ ہونے سے ایسے مظالم کی تکرار ممکن بن رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز