یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریں11اگست بلوچ سیاسی تاریخ میں اہمیت کا حامل اور ایک تاریخ ساز...

11اگست بلوچ سیاسی تاریخ میں اہمیت کا حامل اور ایک تاریخ ساز دن ہے:بی ایس ایف

کوئٹہ (ہمگام نیوز )بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے 11اگست’’ یوم آجوئی‘‘ کے حوالہ سے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہاہے کہ 11اگست بلوچ سیاسی تاریخ میں اہمیت کا حامل اور ایک تاریخ ساز دن ہے یہ1839سے لے کر 1947تک ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے برٹش توسیع پسندوں کے انخلاء کے بعد11اگست 1947کو بلوچ ریاست کو دنیا کے نقشہ میں ایک آزاد ریاست کی طور پر تسلیم کیا گیا ترجمان نے کہاکہ 11 اگست بلوچ سالویشن فرنٹ کے اتحاد میں شامل بلوچ وطن موومنٹ کا تاسییسی دن بھی ہے یوم آزادی کے دن کے موقع پر آزادی کے تاسیسی پروگرام کو لے کر بلوچ وطن موومنٹ نے آج سے بارہ سال قبل جس سفر کا آغاز کیا اسی تسلسل میں یہ سفر جاری ہے اس کے بارہویں یوم تاسیس اور یوم آزادی کے مناسبت سے بلوچ سالویشن فرنٹ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور تزبزب کے بی ڈبلیو ایم کی قربانیوں کا اعتراف کرتی ہے بی ڈبلیو ایم جس تاسیسی پروگرام کا اعلان ایک عظیم قومی دن کے موقع پر کیا وہ اس کا بھرم اور پاس رکھتے ہوئے آزادی اور آزادی کے جدوجہد سے وابسطہ تکالیف کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا بلوچ وطن موومنٹ کی قیادت متعدد بار جیل گئے اور قید و بند کے ہر آزمائش کا سامنا کیا جہان بی ڈبلیو مقتدرہ قوتوں کے نظر میں آگئے وہاں اپنوں نے بھی بی ڈبلیو ایم پر تیر و نشتر چلاتے رہے لیکن بی ڈبلیو ایم ان پروپیگنڈوں کے پرواہ نہ کرتے ہوئے شہداء کے تسلسل کو برقرا ر رکھا ترجمان نے کہاکہ 11 اگست تاریخ کا ایک روشن سنہرا باب ہے اس کے پیچھے قربانیوں کا ایک لامتنائی تسلسل ہے یہ دن ہماری شعور کو جبنجھوڑ کر یہ ثابت کرتی ہے کہ آزادی کو کھبی معطل نہیں کیا جاسکتا ایک وہ بھی دن تھا ایک یہ بھی ہے امید ہے کہ بلوچ ایک عہد ساذ جدوجہد کے ساتھ ایک دفعہ پھر آزادی کے اس سورج کو اپنی قربانیوں سے طلوع کریگا تاج برطانیہ کے خلاف بلوچ قوم نے ایک انتھک، طویل سیاسی سفارتی اور مزاحمتی جدوجہد لڑی جو انگریزوں کی بلوچستان میں عملداری اور اثر و رسوخ کے لئے کافی مشکلات پیدا کی ایک طرف برصغیر میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی جارہی تھی تو دوسری طرف بلوچ قوم بھی اپنی آزادی اور وطن کی حفاظت کے لئے جدوجہد کا سلسلہ تیز کردیا مری علاقون سمیت مکران جہالاوان اور بلوچستان بھر میں انگریزی قبضہ کے خلاف بلوچ برسرپیکار تھے اگرچہ برٹش توسیع پسندوں نے بلوچ جغرافیہ کو بے رحمی کے ساتھ تقسیم کرکے مشترکہ بلوچ آبادی کے درمیان خونی لکیریں کھینچ کر بلوچ قوم کو بیک وقت مختلف ممالک کے ساتھ جنگ میں دھکیلا دیا بلوچ قوم کی قوت کو منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن بلوچ قوم اپنی جدوجہد اورکوششوں سے بلوچستان کے ایک وسیع حصہ کو انگریزوں سے آزاد کرایا گو کہ جنگ عظیم دوئم کے تباہ کاریوں نے انگریزوں کے کمر توڑدیئے تھے اور وہ اس خطے سے جانے کا فیصلہ کرچکے تھے لیکن انہوں نے جاتے جاتے بلوچستان کی آزادو خودمختیارحیثیت کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیاکہ بلوچستان کی حیثیت برصغیر کے دیگر ریاستوں کی طرح نہیں بلکہ یہ ایک آزاد و خودمختار ملک ہے لیکن ریاست پاکستان نے الحاق کے لئے بلوچ پارلیمنٹ کو ایک پیغام بھیجا جس کے رد عمل میں بلوچ کانفیڈرنسی نے الحاق کے شرط کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ الحاق کی شرط ہماری آزادی اور خود مختاری کے خلاف اور 4اگست 1947کو بلوچ ریاست اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معائدہ کے منافی ہے جس میں پاکستانی ریاست بلوچستان کی آزاد و خود مختیار حیثیت کو تسلیم کرچکے ہیں انہوں نے کہاکہ الحاق ایشیاء کے کروڑوں بلوچوں کی موت کی دستاویز پر دستخط کرنے کی مترادف ہے انہوں نے بلوچ کانفیڈرنسی کے الحاق کے خلاف فیصلہ کو پاکستان کے محکمہ خارجہ کو بھیج دی تھی

یہ بھی پڑھیں

فیچرز