فاریاب / تفتان (ھمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں معدنی وسائل کی ملکیت اور تقسیم کے تنازع کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں فاریاب کے علاقے پشموکی اور تفتان میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران خواتین سمیت متعدد شہری زخمی اور گرفتار ہوئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق فاریاب کے گاؤں پشموکی میں کرومائٹ کی کان کے مبینہ غیر شفاف معاہدوں کے خلاف ہونے والے دو روزہ پرامن احتجاج کے دوران قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے کم از کم چھ شہریوں کو گرفتار کیا، جن میں تین خواتین اور تین مرد شامل ہیں۔ گرفتار شدگان کی شناخت مرضیہ حوت (28)، ماہ بی بی حوت (37)، صمیہ بامری (32)، علی بخش بامری (46)، رضا بیگ بامری (43) اور انور حوت (40) کے طور پر کی گئی ہے۔

اسی کارروائی میں مبینہ طور پر سات خواتین زخمی بھی ہوئیں، جن میں ثریا حوت، معصومہ حوت، مینا حوت (17)، دور خاتون حوت، صفیہ بامری، ماہ نور بامری اور بی بی ناز بامری شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین پر لاٹھی چارج اور تشدد کیا گیا جبکہ بعض ذرائع نے ہتک آمیز رویے اور آنسو گیس و ہوائی فائرنگ کا بھی ذکر کیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق یہ احتجاج کان کی ملکیت اور مقامی آبادی کے روزگار و وسائل میں حصہ نہ دیے جانے کے خلاف تھا۔ اسی دوران سیکیورٹی فورسز کے ایک افسر، جن کی شناخت سرکاری ذرائع کے مطابق کرنل امیر امیرمحمدی کے طور پر کی گئی ہے، پر کارروائی کی قیادت اور گرفتاریوں کے احکامات دینے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

تفتان میں بھی پرتشدد کارروائیاں، خواتین زخمی

اسی روز تفتان کے علاقے میں سونے کی کان سے متعلق جاری تنازع کے دوران بھی کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں مقامی خواتین کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر سیکیورٹی اہلکاروں نے طاقت کا استعمال کیا۔ اس واقعے میں ایک بزرگ خاتون سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں بی بی نور ریگی کوٹے (55) بھی شامل ہیں جنہیں سر پر چوٹیں آئیں۔

ماحولیاتی تباہی اور مقامی احتجاج

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تفتان اور اردگرد کے پہاڑی علاقوں میں جاری بڑے پیمانے پر معدنی سرگرمیوں نے ماحولیات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق مسلسل دھماکوں، ہیوی ٹریفک اور کان کنی کی سرگرمیوں سے نہ صرف زمینیں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ پانی کے ذخائر، باغات اور زرعی زمینیں بھی تباہ ہو رہی ہیں۔

مقامی آبادی کے مطابق چشمیوں کے خشک ہونے، فضائی آلودگی میں اضافے اور چراگاہوں کے نقصان کے باعث ان کا روایتی طرزِ زندگی خطرے میں ہے۔ کئی دیہات کے رہائشیوں نے متعدد بار پرامن احتجاج کیا ہے، تاہم ان کے مطابق انہیں اکثر قانونی کارروائیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بڑھتی ہوئی کشیدگی

گزشتہ دو دنوں کے دوران پیش آنے والے ان واقعات نے بلوچستان میں معدنی وسائل کی ملکیت، مقامی حقوق اور ریاستی اقدامات کے حوالے سے تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ کان کنی کے معاہدوں پر نظرثانی کی جائے، مقامی آبادی کو حصہ دیا جائے اور پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو روکا جائے۔

تاحال حکومتی سطح پر ان الزامات اور واقعات پر کوئی باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز