شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںکراچی :انسداد دہشتگردی عدالت نے بلوچ رہنما حیربیار مری سمیت 15افراد کے...

کراچی :انسداد دہشتگردی عدالت نے بلوچ رہنما حیربیار مری سمیت 15افراد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے

کراچی (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے چینی قونصل خانہ حملہ کیس میں بلوچ رہنما حیربیار مری سمیت دیگر 14 افراد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔

کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو چینی قونصل خانے پر حملے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔پاکستانی خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت نے کالعدم بی ایل اے کے 15ارکان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے۔جن افراد کو مفرور ملزمان میں شامل کیا گیا ہے ان میں بلوچ رہنما حیربیار مری، علی داد بلیدی، کمانڈر شریف، راشد حسین اور سمیر سمیت دیگر افراد کے نام شامل ہیں۔ اس مقدمہ میں احمد حسنین، نادر خان، علی احمد، عبد اللطیف اور اسلم کو گرفتار ظاہر کیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے لگائے گئے جھوٹے الزامات و دعوے کے مطابق مذکورہ ملزمان کو بھارتی ایجنسی ‘را’ نے مالی معاونت دی۔ پولیس کے مطابق عبداللطیف سمیت 2 ملزمان اپنے جرم کا اعتراف کرچکے ہیں۔ دونوں ملزمان نے مجسٹریٹ کے روبرو زیر دفعہ 164 بیان قلمبند کرایا ہے کہ ملزمان نے حملہ آوروں کو سہولت فراہم کی۔

پولیس کے بیان کے مطابق ملزمان نے چائنیز قونصلیٹ پر حملے کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمان نے حملہ آوروں کو اسلحہ،دھماکہ خیز مواد فراہم کیا اور وقوعہ سے قبل چینی قونصل کی ریکی بھی کی۔

پاکستانی نام نہاد عدلیہ کے بیانیہ کے مطابق مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے انٹر پول سے رابطہ کیا جائے گا۔

یاد رہے ان مسلح حملوں کے بعد اپنے ایک بیان میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ نے کہا تھا کہ امریکی حکومت کی طرف سے جن کاروائیوں کو بی ایل اے کیخلاف جواز کے طور پر پیش کیا گیا ان میں چائینیز انجینئرز پر اگست 2018، چینی قونصل خانہ کراچی نومبر 2018 اور گوادر پی سی ہوٹل مئی 2019 کے حملے شامل ہیں۔ ان حملوں کو معطل کردہ ارکان نے ختم شدہ ترجمان جیئند بلوچ کے نام سے قبول کیا تھا لیکن یہ ترجمان بی ایل اے کے ہائی کمان کی طرف سے دسمبر 2017 کے بیان کے ذریعے مکمل طور پر ختم کردیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اگست 2018 کے حملے سے بی ایل اے نے بیان کے ذریعے لاتعلقی ظاہر کی تھی ۔بیان کے مطابق ان تمام حملوں میں ان معطل شدہ ارکان کو ایران کے طرف سے ہر قسم کی مدد دی گئی تھی اور ایران کا بھی یہی مقصد رہا ہے کہ بلوچ قومی تحریک کو دنیا کی نظروں میں دہشت گرد قرار دیا جائے، کیونکہ بلوچ قومی تحریک ایران اور پاکستان دونوں ریاستوں کی وجود کے لیے ایک مستقل خطرہ رہی ہے اسی لیے آپسی اختلافات کے باوجود ایران اور پاکستان دونوں قابض ریاستیں بلوچستان کی آزادی کی تحریک کو ختم کرنے پر متفق اور ہم آہنگ ہیں ۔

بی ایل اے کے ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا تھا کہ قومی تحریک نہ ایک تنظیم کا نام ہے نہ ہی یہ تحریک ایک تنظیم تک محدود ہے یہ مزاحمت بلوچ کی قومی مزاحمت ہے جو بلوچ سرزمین پر ایرانی اور پاکستانی قبضے کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

قابض پاکستان نے ماضی میں بھی کئی دفعہ بلوچ آزادی پسند سرخیل رہنما نواب خیر بخش مری اور ان کے فرزند حیربیار مری پر بلوچ قومی آزادی سے دستبرداری و دباو میں لانے کیلئے مختلف حربے استعمال کیے ہیں۔ مرحوم نواب خیربخش مری پر ایک دفعہ 8 مختلف جعلی کیسز بنائے گئے تھے اور دوسری بار 4 دیگر مختلف قسم کے جھوٹے کیسز بنائے گئے تھے۔ جہاں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ایک ایسے ہی مقدمے میں انھیں 5 سال تک قید کی سزا سنائی تھی جس میں نواب مری پر مختلف قسم کے بم دھماکوں کے کیسز بنا کر سنئہ 2000 میں 12جنوری کو انھیں گرفتار کرکے 18 ماہ تک جیل میں رکھنے کے بعد بھی ان پر کوئی کیس ثابت نہ ہونے کی وجہ سے پھر ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔یاد رہے ان تمام جعلی کیسز میں بلوچ رہنما حیربیارمری کو بھی مورد الزام ٹھرایا گیا تھا لیکن 2008 کو خود پاکستانی سرکار کی طرف سے عدم ثبوت کی بنا پر تمام کیسز ختم کردیئے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز