کچھ وقت قبل ایک ہم خیال ساتھی نے سوشل میڈیا پر ایک اہم سوال اٹھایا: گیا بلوچ تحریک کے مختلف گروہوں کی جانب سے اپنے کارکنوں کو ‘بالاچ نا کارواں’، ‘اسلم نا کارواں’ اور ‘واجو نا کارواں’ جیسے القابات سے پکارنا دانستہ یا نادانستہ طور پر تحریک آزادی کے لیے نقصان دہ نہیں ہے؟ کیا اس سے دشمن کو فائدہ نہیں پہنچ رہا؟

یہ ایک سنجیدہ سوال ہے، کیونکہ دشمن کی یہ خواہش رہتی ہے کہ ہم اپنی توجہ تحریک کے بنیادی مقاصد سے ہٹا کر شخصیات پر مرکوز کر دیں، گروہ بندی کا شکار ہو جائیں، اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں مثبت تنقید اور تعمیری اقدامات کی بھی حوصلہ شکنی کریں۔ اس صورتحال میں ہماری قربانیاں رائیگاں جا سکتی ہیں اور دشمن کو اپنے قبضے کو طول دینے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سوالات اور تنقید پر غور و فکر اور ان سے سیکھتے ہوئے مسلسل اصلاح اور بہتری ہی ہماری کامیابی کی کلید ہے۔ نیک نیتی سے اٹھائے گئے ہر سوال پر ہمیں خلوص نیت سے بحث اور استدلال کرنا چاہیے۔ چونکہ میں خود بھی اکثر ‘تحریکی ساتھیوں’ کے لیے ‘بالاچ نا کاروان’ کی اصطلاح استعمال کرتا رہا ہوں، اس لیے مجھے اس پر غور کرنا پڑا اور اپنے اس عمل کے جواز پر خود سے سوال کرنا پڑا۔

میرے نزدیک، درحقیقت کوئی ایک شخص نہیں بلکہ بالاچ کچھ مثالی صفات کا مجموعہ ہے جو بلوچ قوم میں نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ بلکہ کارل ژونگ کی اصطلاح میں، مزاحمت کا ‘آرکی ٹائپ’ ہی بالاچ ہے۔ کارل ژونگ کے نظریہ “اجتماعی لاشعور” کے مطابق، انسانوں کا ذہن مشترکہ تجربات اور اساطیری کرداروں کا ایک ذخیرہ رکھتا ہے جو ان کے درمیان ایک مشترک احساس پیدا کرتے ہیں۔ ان اساطیری کرداروں کو وہ ‘آرکی ٹائپس’ کہتے ہیں۔ اسی طرح، ہر قوم کا ایک اجتماعی لاشعور ہوتا ہے جس میں اس کے ‘آرکی ٹائپس’ موجود ہوتے ہیں۔

بالاچ گورگیج کی داستان کے یہ اشعار شاید ہی کوہ سلیمان سے لے کر مکران کے ساحلوں تک کوئی چرواہا یا ماہی گیر، بوڑھا یا جوان، بچہ یا عورت ایسا ہو جس نے نہ سنے ہوں اور جسے یاد نہ ہوں۔

 کوہ انت بلوچانی کلات

 اے کسی پتی میراث نہ انت

 ما گوں سگاراں گپتگ انت

بھلا ان اشعار سے زیادہ بلوچ کی اجتماعی یادداشت اور قومی ورثے کے اشتراک کا جامع اظہار اور کیا ہو سکتا ہے؟ اس شعر میں نہایت ہی خوبصورتی سے انفرادیت پر ضرب لگا کر بلوچستان کو اجتماعی طور پر بلوچ قوم کا مشترکہ ورثہ قرار دیتے ہوئے برابری اور انصاف کا منشور پیش کیا گیا ہے۔

وہ کون بلوچ ہے جو بالاچ گورگیج سے ناواقف ہوگا؟ وہ نوجوان جس نے تن تنہا اپنے بھائی کے ناحق خون کا بدلہ لینے کے لیے، جو بلوچ معاشرے کے اعلیٰ اقدار (میار) کے دفاع میں بلیدی قبیلے کے حملے میں مارا جاتا ہے، کمر ہمت باندھی۔ بالاچ نے کم عمری، تجربے کی کمی، طاقت کے عدم توازن اور تعداد کی قلت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، بس اپنے ایک دوست ‘نقیبو’ کے ہمراہ بلیدی قبیلے کے خلاف چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کیا، جو بلوچ معاشرے کے لیے لڑنے کا ایک بالکل نیا انداز تھا۔ مگر وہ اپنے اقدار اور مقاصد سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہوا اور یوں اس نے بلیدی قبیلے کے سردار بیبگر کو آخر کار ایک طویل المدتی جنگ میں ہلاک کر دیا۔ اس طرح وہ عدل، انصاف اور برابری کے اقدار پر قائم رہتے ہوئے بلوچ قوم کی اجتماعی یادداشت میں “چھاپہ مار” جنگ کو بطور جنگی حکمت عملی کامیابی سے متعارف کرانے کا سبب بھی بنا۔

چی گویرا، ہو چی منہ، فیڈل کاسترو، ماؤزے تنگ سے بہت پہلے، یہ بالاچ گورگیج ہی تھا جس نے تعداد اور وسائل پر ہمت اور حکمت عملی کو فوقیت دی اور خود سے سو گنا زیادہ طاقتور دشمن کے خلاف فتح تک جنگ جاری رکھی۔

اور شاید یہی وہ سبب تھا کہ بابا خیر بخش مری نے اپنے بیٹے کا نام “بالاچ” رکھا۔ یہ شاید ان کا خواب تھا کہ کاہان کا یہ ننھا بالاچ، بالاچ گورگیج کے “آرکی ٹائپ” کو دوبارہ عملی صورت میں زندہ کر کے دکھائے، جس کی تعبیر خود بالاچ مری بنا اور آج بلوچ سرزمین کے طول و عرض میں ہر کوئی کہہ سکتا ہے۔

 اے مرگ کہ شپاں نیم بال انت

 بالاچ ءِ کمان ءِ تیر انت

بلوچی لوک شاعری اور داستانوں کے علاوہ، بالاچ بطور ایک آرکی ٹائپ، علامت یا ایک تسلسل کے طور پر جدید بلوچی ادب میں بھی بیان ہوا ہے۔ اسی آرکی ٹائپ کی طرف مبارک قاضی اور منیر مومن کی دو نظمیں بھی اشارہ کرتی ہیں (جو غالباً شہید بالاچ مری کی شہادت کے بعد لکھی گئی ہیں)۔

منیر مومن اپنی نظم “بالاچ” میں لکھتے ہیں:

 اے بالاچ اِنت

 کہ ہر شپ کئیت

منارا نازبوئی اجگیں ٹالے

 ءُ عصا یے دنت

 منی وابانی گوچان ءَ

کمانی کوہنگے

 ءُ نیم سوہاں کرتگیں تیراں

 شموشیت روت

منیر مومن کے نظم کے اس اقتباس کو اگر ہم کارل ژونگ کی تحریر Two Essays on Analytical Psychology کے اس اقتباس کے تناظر میں دیکھیں:

 “Archetypes are the innate tendency to experience the world in certain ways. They are not learned but inherited and manifest themselves in myths, stories and dreams.”

تو یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح اس نظم میں بالاچ کا آرکی ٹائپ خوابوں میں اپنے کمان اور تیر ورثے میں قوم کے ان افراد کو تھما رہا ہے جو برابری، انصاف اور آزادی کے اقدار پر سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہیں۔ بابا مری نے کہا تھا کہ “بلوچ برابری کے معاملے میں بہت حساس قوم ہے”۔ اور وہ خواب بھی ایک شخص کا نہیں جس کا ذکر اس نظم میں ہوا ہے، اس نظم میں لفظ ‘مناں’ ایک شخص کے بجائے ایک اجتماع کی علامت بن جاتا ہے۔

شاعرِ وطن مبارک قاضی کی نظم “بالاچ” کے ان حصوں سے ہم بالاچ کی علامت کو مزید واضح کر سکتے ہیں، جہاں انہوں نے بالاچ مری کو بالاچ گورگیج کی داستان سے جوڑا ہے اور اس کے خون کو آئندہ نسلوں کا “رہشون” قرار دیا ہے:

پدا آئندگ ءِ پدریچ کائنت

ھمے راہ ءَ رونت وت واجہی ءِ

 ھمے ھوناں وتئی رھشون لیک انت

بلوچاں، جند ءِ ھون ءَ ھون لیک انت

 مناں بالاچ ءِ گشتن گیر کاینت

“اے تیراں کئے بہ جلیت

 اے ھوناں کئے بہ موکیت”

بلوچ قوم میں چاکری دور کے میران سے لے کر استاد اسلم اور سگار بلا مری تک کئی کمانڈر اور سپہ سالار رہے ہیں۔ ایک سے ایک بڑھ کر ایک جنگجو پیدا ہوئے ہیں۔ بلوچ رزمیہ شاعری ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے، مگر بالاچ ان سب میں ایک منفرد اور ممتاز علامت کی حیثیت سے سامنے آیا ہے اور ایک تسلسل سے آگے بڑھتا رہتا ہے۔

تربت سے جب بالاچ نام کے ایک نوجوان کو ماورائے ‘قبضہ گیر عدالت’، ‘قابض ریاستی اداروں’ نے اغوا کیا اور بعد ازاں عدالت میں بھی انہیں پیش کیا گیا، مگر اس کے باوجود دوران حراست ان کا قتل کیا گیا اور اس قتل کو جنگی محاذ میں ‘ان کاؤنٹر’ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، تو اس کے ردعمل میں اتنی بڑی تعداد میں بلوچ عوام نے احتجاج کیا اور اسلام آباد تک کا لانگ مارچ کیا گیا جو گزشتہ ایک دہائی سے نہیں ہوا تھا۔ یوں ایک مرتبہ پھر بالاچ کا کردار ہی قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کا موجب بنا، جس کے بعد بلوچ قومی تحریک ایک طرح سے پھر زندہ ہوئی اور قوم ایک نئی امنگ کے ساتھ دوبارہ صف آراء ہوئی۔ یوں بالاچ کے جسد خاکی نے بھی مزاحمت کی اور بلوچ اجتماعی یادداشت نے ایک مرتبہ پھر “تم کتنے بالاچ مارو گے، ہر گھر سے بالاچ نکلے گا” کو دوبارہ دریافت کیا۔ مکران سے لے کر لیاری، کوہ سلیمان، شال اور قلات سے لے کر تھونسہ اور ایرانی مقبوضہ بلوچستان تک میں ایک مرتبہ پھر 2007 کی اداس فضائیں مہکنے لگیں۔

بالاچ مزاحمت کا آرکی ٹائپ ہے۔ جس کا بہترین اظہار میرے بے ربط الفاظ سے زیادہ یہ اشعار کر سکتے ہیں:سوویت

 من گوں نقیبو ءِ لُڑ ءَ

 ھر شپ چو بشّامی جُڑ ءَ

بندان ءُ کایاں پہ مِڑ ءَ