تحریر: میر سانول بلوچ

بلوچ تحریک کے حوالے سے ایک بات جو ہمیشہ میرے ذہن میں رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اور کئی سیاسی رہنماؤں کو اکثر ماضی کے انقلابی کرداروں کی مثالیں دی جاتی رہی ہیں۔ ہمیں ماوزے تنگ، فیدل کاسترو، چی گویرا اور دیگر ایسے ناموں کے قصے سنائے گئے، جیسے یہی وہ عظیم رہنما تھے جنہوں نے ظلم کے خلاف کھڑے ہو کر تاریخ بدل دی۔ ان کی بہادری، قربانی اور مزاحمت کو اس انداز میں پیش کیا گیا ان انقلابی کرداروں کے ایک طرفہ قصے ہماری نسل کو سنائے جاتے رہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہی عظیم لوگ تھے، یہی انصاف پسند تھے، اور باقی دنیا ظلم کی نمائندہ تھی۔ ان کی بہادری، مزاحمت اور قربانیوں کو اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے بلوچ قوم کے لیے بھی یہی راستہ کامیابی کا راستہ ہو۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جب ہم دنیا کی سیاست، تاریخ اور ریاستوں کے انجام پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔
بہت سی ایسی تحریکیں اور ریاستیں، جنہوں نے صرف انقلابی نعروں، عالمی طاقتوں سے مسلسل دشمنی اور جذباتی سیاست کو اپنا راستہ بنایا، آخرکار سیاسی بحران، معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار ہوئیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر بلوچ تحریک کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ماوزے تنگ کو ایک بڑا انقلابی لیڈر بتایا جاتا ہے، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے دور میں چین بھوک، غربت اور معاشی تباہی کا شکار رہا۔ چین کو اصل کامیابی تب ملی جب 1970 کی دہائی میں اس نے امریکہ سے تعلقات بہتر بنائے، تجارت شروع کی، اور سرمایہ کاری کو اپنے ملک میں لایا۔
آج چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ چین نے ترقی امریکہ سے دشمنی کر کے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ کاروبار اور سفارتی تعلقات کے ذریعے حاصل کی۔

اسی طرح فیدل کاسترو کی قیادت میں کیوبا نے ایک طویل عرصے تک امریکہ سے دشمنی کی پالیسی اختیار کی، جس کا نتیجہ معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی کی صورت میں سامنے آیا۔
انقلاب کے ابتدائی سالوں میں سابق حکومت سے وابستہ افراد اور مخالفین کے خلاف بڑی تعداد میں سزائے موت بھی دی گئی۔ مختلف اندازوں کے مطابق سینکڑوں سے لے کر ہزاروں افراد قتل کیے گئے۔ وینزویلا، شمالی کوریا، شام، قابض ایران اور دیگر ممالک کی مثالیں بھی ہمارے سامنے موجود ہیں، جہاں عالمی طاقتوں سے مسلسل محاذ آرائی نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کیا۔

جن کرداروں کو ہمارے سامنے ہیرو بنا کر پیش کیا گیا، آج انہی کے نظریات اور پالیسیوں سے وابستہ کئی ممالک شدید سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہیں۔ وہاں کے لاکھوں لوگ غربت، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث اپنے وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف رومانوی سیاسی سوچ، تاریخی علامتوں سے جذباتی وابستگی اور بڑی طاقتوں سے مسلسل دشمنی کو کامیابی کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔

کسی بھی تحریک یا ریاست کی اصل کامیابی اس کی سیاسی حکمت، معاشی استحکام، عالمی تعلقات اور عوام کو بہتر زندگی دینے کی صلاحیت سے ماپی جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر بلوچ تحریک کو بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہے۔

افغانستان کی مثال اس بحث میں اور بھی اہم ہے۔ جب سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی تو بلوچستان کے کئی نوجوان روس کو اپنا دوست سمجھنے لگے۔ اُس وقت کی افغان حکومت امریکہ کی سخت مخالف تھی، اور بلوچ قوم نے امریکہ سے کوئی مؤثر رابطہ نہیں رکھا۔ روس اور افغان حکومت کے ساتھ قربت کو ایک سیاسی راستہ سمجھا گیا۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ سوویت یونین آخرکار افغانستان کو چھوڑ کر واپس چلا گیا، مگر اس کے اثرات خطے پر برسوں تک باقی رہے۔

یہاں میرا بنیادی سوال یہی ہے کہ بلوچ قوم، جو خود سیاسی کمزوری، جبر اور محرومی کا شکار ہے، وہ عالمی طاقتوں کی حمایت کے بغیر اپنی آزادی کی جدوجہد کو کیسے کامیاب بنا سکتی ہے؟ آج کی دنیا میں صرف جذباتی نعروں اور ماضی کے انقلابی ناموں سے آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ بین الاقوامی سیاست میں سفارتی تعلقات، عالمی حمایت اور طاقت کے مراکز سے روابط انتہائی اہم ہوتے ہیں۔

میری رائے میں بلوچ قیادت کو ماضی کے متنازعہ انقلابی کرداروں کو اندھا دھند ہیرو بنا کر پیش کرنے کے بجائے موجودہ عالمی حقیقتوں کو سمجھنا چاہیے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ فلاں لیڈر نے مزاحمت کی یا فلاں نے قربانی دی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان کے راستے کا نتیجہ کیا نکلا، اور کیا وہ راستہ بلوچ قوم کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے؟

اگر بلوچ تحریک واقعی اپنے مقصد کے قریب پہنچنا چاہتی ہے تو اسے دنیا کی بڑی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کے ساتھ سیاسی اور سفارتی تعلقات کو اہمیت دینا ہوگی۔ امریکہ آج بھی عالمی سیاست میں ایک مرکزی کردار رکھتا ہے، اور اس حقیقت کو نظرانداز کرنا کسی بھی سیاسی تحریک کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

بلوچ قیادت کو چاہیے کہ وہ جذباتی سیاست سے آگے بڑھ کر حقیقت پسندانہ حکمت عملی اپنائے، عالمی تعلقات کو مضبوط کرے، اور قوم کو ایسے راستے پر لے کر چلے جو صرف نعرہ نہ ہو بلکہ ایک عملی اور قابلِ حصول مستقبل کی بنیاد بن سکے۔

ہماری نسل کو اکثر چی گویرا اور فیدل کاسترو جیسے اکرداروں کا صرف روشن اور رومانوی پہلو دکھایا گیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ وہ مزاحمت، انقلاب اور آزادی کی علامت تھے، مگر تاریخ کا دوسرا رخ اکثر چھپا دیا گیا۔ معتبر تاریخی ذرائع کے مطابق، کیوبا کے انقلاب کے بعد چی گویرا نے لا کابانیا جیل کی نگرانی کی، جہاں انقلابی عدالتوں کے تحت متعدد افراد کو سزائے موت دی گئی۔
اسی طرح فیدل کاسترو کے طویل دورِ حکومت میں سیاسی اختلافِ رائے، آزاد صحافت اور بنیادی شہری آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد رہیں، اور ہزاروں افراد کو قید، ہراسانی اور جبر کا سامنا کرنا پڑا۔

اس لیے صرف ان کی تعریف سنانا اور ان کے ادوار کے سخت اور جابرانہ پہلوؤں کو نظر انداز کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ قوموں کو صرف نعروں سے نہیں، بلکہ مکمل تاریخی سچائی سے سیکھنا چاہیے۔