کوئی بھی انسان اپنی ماں کے پیٹ سے سرمچار بن کر پیدا نہیں ہوتا۔ برے حالات درحقیقت انسان کو سرمچار بننے پر مجبور کرتے ہیں۔ جب ظلم حد سے بڑھ جائے، جب سرزمین پر جبر و استحصال کا راج ہو، جب ماں اپنے لختِ جگر کی ایک جھلک دیکھنے کو ترس جائے، جب پیارے سالوں سے لاپتہ ہوں اور ان کی لاشیں تک نصیب نہ ہوں، جب کسی قوم سے اس کے بنیادی انسانی حقوق تک چھین لیے جائیں، اس کی عزت اور غیرت پر حملے ہو جائیں، تب جا کر وہ سرزمین سرمچار پیدا کرتی ہے۔
سرمچار وہ باشعور اور باحِس لوگ ہوتے ہیں جو ظلم کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتے۔ وہ چور، ڈاکو یا دہشت گرد نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے وطن کے وہ سچے بیٹے اور بیٹیاں ہوتے ہیں جو جبر کے سائے میں پلنے والی نسلوں کو غلامی سے نجات دلانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ وہ ہتھیار اس لیے اٹھاتے ہیں تاکہ اپنے لوگوں کو آزادی دلا سکیں، تاکہ اس سرزمین سے ظلم و بربریت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے اور بدتہذیب دشمن کے بدتہذیبی کا مکمل قلع قمع کیا جاسکے اور اس معاشرے کی تشکیل نو اپنے لوگوں کے حق میں کیا جاسکے۔
سرمچار بھی عام انسان ہوتے ہیں، ان کے بھی خواب ہوتے ہیں، خواہشات، محبتیں، رشتے، دوستیاں لیکن وہ اپنے ذاتی جذبات و خواہشات کو قربان کرکے ایک عظیم مقصد کے لیے نکلتے ہیں۔ وہ بھوک، پیاس، سردی، گرمی، تنہائی، اور موت جیسی سختیوں سے لڑتے ہیں، صرف اس اُمید پر کہ ایک دن ان کی سرزمین آزاد ہوگی اور خوشحالی برپا ہوگی۔
وہ اپنی ماں، باپ، بہن بھائی اور حتیٰ کہ اپنی اولاد کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کے دل میں صرف ایک خواب ہوتا ہے — آزادی! اور اس آزادی کے سفر میں اگر انہیں اپنی جان بھی دینی پڑے تو وہ شہادت کو خوشی سے گلے لگاتے ہیں، کیونکہ شہید ہونا ان کے لیے سب سے بڑی کامیابی اور فخر کی بات ہوتی ہے اور غلامی ان کیلئے توہین اور بے غیرتی ہوتی ہے۔
سرمچار کے لیے اس کی سب سے بڑی طاقت اس کا شعور، ضمیر، ایمان، اور اس کی غیرت ہوتی ہے۔ جب وہ دشمن کے ہاتھ آتے ہیں تو انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، روزانہ کئی بار “مار کر زندہ” کیا جاتا ہے، لیکن وہ ظلم کے آگے جھکتے نہیں، وہ اپنا ضمیر نہیں بیچتے، وہ اپنی سرزمین سے غداری نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ، جنگ میدان میں جب دشمن انھیں گھیر لیتا ہے اور انھیں ادراک ہوجاتا ہے کہ اب ان کے گھیراؤ سے نکلنا مشکل ہے، تب وہ آخری گولی کے فلسفے پر عمل پیرا ہوکر جان دیتا ہے۔
وہ دشمن سے زیادہ اپنے ساتھیوں کی فکر کرتے ہیں، اپنے ساتھیوں کی حفاظت کے لیے خود کو قربان کر دیتے ہیں۔ ان کے لیے زندگی سے زیادہ عزیز ان کا مشن ہوتا ہے، ان کے لیے صبر، حوصلہ اور برداشت ایک لازمی ہتھیار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے لیے درد و تکلیف ایک ایسے ساتھی کی طرح ہوتے ہیں جو ہر قدم پر ان کے ساتھ رہتا ہے۔
ہر سرمچار جب دشمن کے خلاف لڑتا ہے تو اس کے دل میں صرف ایک جذبہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دشمنوں سے آزاد کروائے، چاہے اس کے بدلے میں اسے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔
سرمچار قربانی کی علامت ہوتے ہیں۔ وہ اپنی قوم کے ضمیر کی آواز ہوتے ہیں۔ ان کی جدوجہد، ان کی تکلیفیں، ان کی قربانیاں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ آزادی مفت میں نہیں ملتی — اس کے پیچھے بہت سی جنگیں، قربانیاں اور شہادتیں چھپی ہوتی ہیں















