شال (ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچستان میں جاری ریاستی جبر اور غیر آئینی اقدامات پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے ظلم و ستم کی پالیسی پر گامزن ہے۔ جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور بلوچ نسل کشی بغیر کسی حائل اور خلل کے جاری ہے۔ جہاں روزمرہ کی بنیاد پر بلوچ طلباء، سیاسی کارکنان اور نوجوانوں کو قید و بند کی صعوبتوں اور ریاستی تشدد کا سامنا ہے، جو کہ بلوچ قوم کے لیے نہایت تشویشناک اور ہولناک صورتحال ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ریاست نے اپنی بربریت کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی چیئرمین، جاوید بلوچ کو 23 اپریل 2025 کو ان کی رہائش گاہ کراچی سے بغیر کسی قانونی کارروائی کے تشدد کا نشانہ بنا کر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ چشم دید گواہوں، ایف آئی آر کے اندراج اور سندھ ہائی کورٹ میں جاری سماعت کے باوجود ان کی غیر قانونی جبری گمشدگی کا انکار کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح بی ایس ایف شال زون کے جنرل سیکریٹری، گہرام اسحاق کو 24 اپریل 2025 کو کوئٹہ سول ہسپتال کے باہر سے اس وقت جبری طور پر لاپتا کیا گیا جب وہ اپنے ہاسٹل کی جانب رواں تھے۔
ترجمان نے کہا آج چیئرمین جاوید بلوچ اور گہرام اسحاق کی جبری گمشدگی کو دو ماہ مکمل ہو چکے ہیں، لیکن تاحال نہ ان کے اہلِ خانہ کو کوئی اطلاع ملی ہے اور نہ ہی تنظیم کو ان کی خیریت یا مقام کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے۔
ترجمان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بارہا کوششوں، جدوجہد، اور ملکی عدلیہ و حکومتِ وقت سے متعدد بار درخواستوں کے باوجود نہ صرف ہماری فریادوں کو نظر انداز کیا گیا بلکہ ان کی بازیابی کی مہم اور ہماری آئینی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا جا چکا ہے۔
ترجمان نے بیان کے آخر میں ملکی عدلیہ اور حکومت وقت سے غیر مشروط مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس ایف کے چیئرمین جاوید بلوچ اور شال زون کے جنرل سیکریٹری گہرام اسحاق کی بازیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ اگر ان سے کسی قسم کا جرم یا خلافِ قانون عمل سرزد ہوا ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ مزید برآں، انہوں نے قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاسی و سماجی کارکنان اور طلبہ تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے بھر پور آواز بلند کریں۔


