نئی افغان حکومت ابتداء میں درست قدم رکھکر ٹھیک پالیسی بنانے ناکام رہی جس کے نتیجے میں ایک نئی سرطان نے زور پکڑکر افغانوں کو ملک کے طول کے عرض میں نگلنا شروع کیاہے۔ وہ امریکہ کی رہنمائی و مشاورت میں نہ ٹھیک الیکشن کراسکے اور نہ بعد میں داخلی کشمکش سے اپنے آپ کو بچا سکے جس سے مہینوں کابینہ کی تشکیل جیسا اہم معاملہ بھی کھٹائی کا شکار رہی یہاں تک کہ دفاع کے سنگین مسائل سے دوچار ملک میں ایک سال تک وزیر دفاع نامزد نہیں کیا جاسکا۔تاحال ایک بے یقینی کی ماحول نے افغانوں سمیت اُن سے وابستگی رکھنے والوں کو لٹکائے رکھاہے جس سے اس کے دشمنوں کو پاکستانی معاونت و مشاورت میں از سر نو تشکیل ،صف بندی و منظم ہونے کا بہترین موقع میسر آرہا ہے۔ اُوپر سے اشرف غنی حکومت کی نئی پاکستان پسند پالیسی نے ان قوتوں کے لئے افغانستان کو جنت بنا دیا ہے جو اس ملک کی بربادی کا سامان کرنے اس سے قبل کسی نہ کسی طرح ریاستی پالیسی باعث مشکلات سے دوچار تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی قانون اُس وقت تک کاغذ کا ٹکڑا ہی ہوتا ہے جب تک اُسے آگے لے جانے والے مخلص لوگ نہ ہوں ٹھیک اسی طرح مخلص سے مخلص و محنتی سے محنتی شخص بھی اُس وقت تک کچھ نہیں کرسکتا جب تک اُس کو قانون کی پشت پناہی حاصل نہ ہو ۔ یہاں المیہ یہ رہا کہ نئی ایکسو اَسی ڈگری زمینی حقائق سے متصادم تبدیل افغان پالیسی نے ملکی اداروں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جس سے پوری حکومت آئی ایس آئی کے ہاتھوں مغلوب نظر آنے لگا ۔ اس ضمن میں ہم نے2014کے اوائل میں اپنے مضمون’’ افغان مشکلات میں اضافہ اورخودفریبی کا سراب‘‘ میںیوں اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا: ” اگراکتوبر2014سے لیکر اگلے چھ سات ماہ تک اشرف غنی کی حکومت پاکستان سے خیر کی توقع میں واضع پالیسی اپنانے ناکام ہو گی تو اس مدت کے بعد اُن کے مشکلات میں بہت اضافہ کا احساس ہوگا۔پاکستانی پشت پناہی میں سرگرم شدت پسند اُس وقت تک اشرف غنی کی منتظرانہ پالیسی کا بھر پور فاہدہ اُٹھا کر اُسے یہ سوچنے مجبور کریں گے کہ اُس نے پاکستان سے جو توقعات رکھے تھے اُن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ آج کے دھیمے لہجے میں بات کرنے والے نئے افغان صدر کے بیانات مستقبل قریب میں احمدکرزئی کے بیانات سے کئی زیادہ سخت ہوں گے امریکہ کے برہمی بھی میں اضافہ ہوگا ۔ ” نئی افغان پالیسی جس کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہو یقیناً افغانوں کے حق میں نہیں ہوسکتا لیکن اسمیں اس حد تک جانا اور پاکستان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ افغان مشکلات میں کمی کرنے مخلص ہے ایسا ہی ہے جیسے کوئی آنکھیں بند کرکے گہری کھائی میں چلانگ لگادے اور ساتھ میں یہ اُمید بھی رکھے کی اسکی ہڈی پسلیاں سلامت رہیں گے۔طالبان سے بات چیت کا سلسلہ ابتداء سے ہی افغانوں کومشغول رکھ کراُن کے پیٹھ پیچھے وار کرنے کاایسا پاکستانی بھونڈہ،دیرینہ اور غیر معیاری ڈرامہ معلوم ہوتا تھا کہ اُسے کوئی بچہ بھی جان سکتا تھا مگر افغان دوست کیسے غافل رہے تاحال سمجھ سے بالاتر ہے ۔ پاکستان ایک طرف یہ کہہ رہا تھا میں نے طالبان کے خلاف ضرب عضب کا آغاز کرکے اُنھیں ناراض کیا ہے ۔اس اظہاریے کے بعد بجا طور پر چار بنیادی سوال ذہن میں اُبھرتے ہیں پہلہ اگر پاکستان نے طالبان کے خلاف آپریشن کیا ہے تو وہ کیسے اُنھیں کسی سے بات کرنے راضی کرسکتاہے جن کے وہ جان کا دشمن اور بلا امتیاز خاتمے کے درپے ہے (یہاں یہ بات زیر بحث نہیں کہ کوئی بھی شخص نہ دشمن سے مشورہ لیتا ہے اور نہ اُس کی سُنتا ہے )؟ دوسرا اگر یہ آپریشن اور قتل و غارت اُن کے خلاف نہیں ہے تو یہ آپریشن کس کے خلاف اور کس کے مفادات کی تکمیل کیلئے ہورہی ہے؟ تیسرا یہ کہ تیس لاکھ سے زائد پشتونوں کے گھر املاک کوکس جرم کی سزامیں جلا کر خاکستر اور اُنھیں در در کی ٹھوکریں کھانے مجبور کیاگیا؟چوتھا اور سب سے اہم سوال یہ کہ اگر وہ تاحال پاکستان کی سنتے ہیں اور پاکستان سے ناراض نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ آپریشن بھی اُن کے خلاف نہیں ہورہااورافغانستان میں جو بھی تباہی ہورہی وہ پاکستان کے ہی ایماء پر ہورہا ۔اس کے بعد مزید دو مربوط سال پیدا ہوتے ہیں پہلہ پاکستان کیوں افغانستان کو کھنڈرات میں تبدیل دیکھنے اتنی سازشیں کررہا ہے؟ دوسرا اگر پاکستان نے پہلے سازشیں کی ہیں اب اچانک کیاہوگیا کہ اُس نے اپنی پالیسی تبدیل کی کیاافغانستان کو برباد کرنے کے اُسکے مقاصد پورے ہو گئے ہیں جو وہ نئی افغان قیادت و دنیا سے تعاون کرنے راضی ہوگیاہے؟ دونوں سوالوں کے جوابات مایوس کن ہیں کیونکہ پاکستان اور افغانستان دو متضاد وجود ہیں اور اب یہ کھلا راز بھی سب جانتے ہیں کہ پاکستان افغانستان پر قبضہ کرکے اُسے اپنا حصہ بنانے کی سوچ کی گرفت سے آزاد نہیں ہوا ہے دوسرا اس دؤراں کوئی معجزہ بھی رونما نہیں ہوا ہے جو پاکستان کے موقف میں تبدیلی کا سبب بنے۔ لہذا پاکستان کی طرف سے افغان لیڈروں کوتعاون کی یقین دہانیاں لولی پوپ کے سوا کچھ نہیں تھیں ۔اسی لئے افغان قیادت و طالبان کے مردہ لیڈر کے ساتھ پاکستان نے جان بوجھ کر ’’ بات چیت کرائیں گے ‘‘ کا ڈرامہ کھیلا ۔ ملا عمر کے وفات کا پاکستانیوں کو شروع دن سے علم تھا مگر وہ افغان قیادت کو اندھیرے میں رکھکر اُن کے ساتھ گھناؤنا مذاق کھیلتے رہے نتیجے میں سینکڑوں معصوم لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ غور سے دیکھنے میں طالبان سے ممکنہ بات چیت کی حقیقت اوراس میں پاکستان کی نیت اور اس کے عزائم عیاں تھے اگریہاں کسی چیز کی ضرورت تھی تو صرف ایک لمحہ سوچنے کی اورنئی افغان قیادت کو یہ کھلا راز سمجھنے میں دشواری نہیں ہونی چائیے تھی کہ آپریشن ضرب عصب شدت پسندوں کو دوہزار پندرہ سے پہلے افغانستان منتقل کرنے کاایک خونین اور ہر لحاظ سے عیاں منصوبہ تھا ۔ وہ شدت پسند جن کو بچانے اور اُن کے انخلا کو جواز فراہم کرنے پاکستان اپنے عام شہریوں کا قتل عام اوراُن کو ذلیل کرسکتا ہے تو وہ کیسے اُن سے وابستہ اپنے مقاصد کے تکمیل سے پہلے اُنھیں افغانستان سے صلح کرنے راضی کرے گا جو پاکستان کے عزائم کے عین برخلاف ہے ۔ کوئی بھی افغان لیڈر اگر اس بات پر پُر اُمید ہوگاکہ پاکستان کسی دن مہربان ہوکر اُن کی نسل کشی و بربادی سے ہاتھ کھینچ لے گاتو یہ اُسکی خوش گمانی ہوگی حقیقت نہیں ۔ افغان قیادت کو بالا آخر اس تلخ حقیقت کو قبول کرنا ہوگا کہ انھوں نے پاکستان سے خیر کی توقع میں اپنابہت ہی قیمتی وقت اور لاکھوں جانیں ضائع کی ہیں اور یہی حقیقت اپنے اتحادیوں کو بھی سمجھانے کی بھی ضرورت ہے کہ جب تک پاکستان کو بطور اتحادی اور دوست دیکھا جائیگا اُس وقت تک ٹرکوں میں کِنو اور مالٹا سے بھرے ٹرکوں کے تہہ خانوں میں بارود اور موت کا سامان افغانستان پہنچاتارہے گا۔ اب تو داعش اپنے بے پناہ سرمایہ کے ساتھ یہاں کیا گل کھلائے گا اس کا تصور روس ،امریکہ اور یورپ کیلئے ناممکن ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کے23000 مدارس دہشتگردوں کی تیاریوں میں دن رات لگے ہوئے ہیں اور تو اور پچھلے تین سالوں میں بلوچستان کا مکران جہاں کبھی بھی مذہبی سخت گیر رحجانات کو پنپنے حوصلہ افزائی نہیں ملی ہے کے صرف دواضلاح کیچ و گوادرکے علاقوں پسنی ،نلینٹ،سربندر،چاہ سر، دشت،گھنہ ،پیدارک،کلاتک سے ڈھائی ھزار سے زیادہ نوجوانوں کوانتہا پسند ٹرینگ اور برین واش کے بعد اے ٹی ایم کارڈ ،آتشین اسلحہ اور موٹر سائیکل دے کر میدان میں اُتاراگیا ہے ۔ ان مدارس میں معلموں کا مقصد بہت واضع اور صاف ہے پہلہ اسلام کو اسلامی ممالک میں رائج کرنا خاص کر پاکستان اورا فغانستان کو مرکز بناکر اسلامی خلافت کو سینٹرل ایشیا کے ممالک تک پھیلانا دوسرے مرحلے میں دنیا میں جہاں جہاں مسلمان آبادی ہے اُنھیں اپنے لادین ملکوں (جہاں اسلام اکثریتی مذہب نہیں ہے ) میں یکجاہ کرکے جہاد کی راہ ہموارکرنا۔ان کی تیاری چونکہ واضع ہدف کیلئے کی جاتی ہے اس لئے اُنھیں طالبان و داعش میں جگہ بدلنے زرا بھی دشواری نہیں ہوتی ۔ یہاں جو چیز سب سے زیادہ قابل تشویش ہے وہ یہ کہ افغانستان کومسلسل بحرانوں کا شکارکرنے پاکستان نے پہلے امریکہ کی مدد لی اور سوویت یونین کو نکال باہر کرایا اب امریکہ کو افغانستان میں اپائج کرنے روس کو گمراہ کرنے کسی حد تک کامیاب ہوگیا ہے جو روس داعش سے نمٹنے کی غرض سے باقاعدہ طور پر طالبان کیساتھ بات چیت کرنے لگا ہے ۔ اس بات پر ایک لمحہ کیلئے بھی یقین نہیں کیاسکتا ہے کہ طالبان روس کے ساتھ عملی تعاون کریں گے اور روس کی طرف سے انھیں ملنے والاممکنہ مدد افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ ایسے میں کیا افغان حکومت جو امریکہ کا اتحادی ہے اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرے گا کہ امریکہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر کا عسکری مدد کس بنیاد پر دے رہا ہے جو اُسے پتہ ہے کہ پاکستان یہ اسلحہ دہشتگردی کے خلاف نہیں بلکہ اُس کے فروغ کیلئے استعمال کررہا ہے ٹھیک اِسی طرح وہ روسی قیادت کے سامنے اس فارمولے کی تفصیل زیر بحث لاسکے گی کہ اُن کا طالبان کے ساتھ تعاون افغانستان کے مفادات کے خلاف استعمال نہیں ہوگا؟ روس اس وقت افغانستان میں کئی شعبوں خاص کر دہشتگردی کے خلاف جنگ اور منشیات کے روک تھام کیلئے ا فغان حکام کے ساتھ کئی معاہدات پر دستخط کئے ہوئے ہے۔ گویا امریکہ اور روس دونوں بلاواسطہ طور پر افغانستان میں امن کا خواہاں ہوتے ہوئے بھی امن کے دشمنوں کی مدد کررہے ہیں بظاہرپاکستان طالبان اور داعش مختلف نام ہیں مگر حقیقت میں سب کی جڑیں پاکستانی عسکری کیمپوں سے نموپاتی ہیں۔مختصراًجس طرح پاکستان نے افغانستان کے ساتھ طالبان کے نام پر بھوتوں سے اٖفغان حکومت کی بات چیت کرائی ٹھیک اِسی طرح داعش کا خوف دلا کے روس کو اُن کے ساتھ بات چیت کراکے اُس کا وقت و توانائی ضائع کرے گا ۔ ملک کے طول و عرض میں تباہ کاریاں اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ ’’پاکستانی تعاون سے طالبان کے ساتھ بات چیت ‘‘ کا ڈرامہ لمے عرصے تک کوئی مثبت نتیجہ دئیے بغیر چلے گا اورافغانستان پر دباؤ بڑھنے والا ہے اگلے بہار سے نئے اور شدید قسم کے حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگا کیونکہ اشرف غنی کی پاکستان نواز پالیسی تمام تر مخالفت کے باوجود برقرارہے جس کے اثرات افغانستان سمیت پورے ریجن پر خون آشام نتائج کیساتھ منفی پڑیں گے۔