پاکستان میں جبری طور پر شامل اقوام میں سے بلوچ اور پشتون قومیں وہ بنیادی اکائیاں ہیں جن کی سرزمین معدنیات، گیس، تیل اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ لیکن ان وسائل پر فیصلے کرنے کا اختیار نہ ان اقوام کو دیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی مرضی پوچھی جاتی ہے۔ آج پاکستان امریکی کمپنیوں سے جو معدنیاتی معاہدے کر رہا ہے، وہ درحقیقت پنجابی بالادست ریاستی ڈھانچے کی نمائندگی ہے۔
مقبوضہ بلوچستان میں سونے، تانبے، کوئلے، گیس، کرومائیٹ، لیتھیم، اور دیگر قیمتی معدنیات کے بڑے ذخائر ہیں۔ ریکوڈک، سیندک جیسے منصوبے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ خیبر پختونخوا میں ماربل، قیمتی پتھر، تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ لیکن ان دونوں اکائیوں کے عوام اپنی زمینوں کے وسائل پر نہ مالک ہیں نہ شریک۔
پاکستان کے فوجی و سول اداروں پر پنجابی بالادستی کا قبضہ ہے، جس کی مدد سے وہ مقبوضہ بلوچستان اور مقبوضہ خیبر پختونخوا کی معدنی دولت کو اپنی “اسٹریٹیجک اثاثہ” بنا کر عالمی طاقتوں سے سودے بازی کر رہے ہیں۔ مقبوضہ بلوچستان میں جاری چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے، جس میں مقامی لوگوں کو نہ روزگار ملا، نہ تحفظ، نہ فیصلہ سازی کا اختیار۔
ریکوڈک کا حالیہ امریکی کینڈین کمپنی Barrick Gold کے ساتھ معاہدہ بغیر بلوچ عوام کی منظوری یا شمولیت کے طے پایا۔ خیبر پختونخوا میں بھی مختلف معدنی منصوبے اسی انداز سے “وفاقی حکومت” کے نام پر پنجابی اشرافیہ کی مداخلت سے عالمی اداروں کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام معاہدے “کالونیل مائننگ ماڈل” کی یاد دلاتے ہیں، جس میں وسائل سے مالا مال خطے کو خاموش کر کے ان کی دولت چوری کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر آصف انصاری کہتے ہیں کہ
“پاکستانی ریاست کی حیثیت ایک نوآبادیاتی طاقت جیسی ہے ، جو بلوچ اور پشتون سرزمین کو مفتوح علاقے سمجھ کر ان کے وسائل کو لوٹ رہی ہے۔
سیموئیل ہنٹنگٹن کہتے ہیں کہ
“جب ریاستیں اپنے اندرونی اقوام کی شناخت اور حق خودارادیت کو نظرانداز کرتی ہیں، تو وہ ریاست اندر سے کمزور اور بیرونی مداخلت کی شکار ہو جاتی ہے۔”
اقوام متحدہ کا اعلامیہ برائے حقوقِ اقوام (UN Declaration on the Rights of Indigenous Peoples) واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ، جو مقامی اقوام کی رضامندی کے بغیر ہو، قابل قبول نہیں۔ پاکستان کی حکومت ان اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی معدنیات پر پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کو نا مقبوضہ بلوچستان کے عوام قبول کر رہے ہیں نا مقبوضہ خیبر پختونخوا کے عوام قبول کر رہے ہیں اگر اقوام کو ان کے وسائل پر اختیار نہ دیا گیا تو یہ ایک اور نوآبادیاتی ہتھکنڈہ ہوگا، جس کا انجام جدوجہد، مزاحمت اور بالآخر سیاسی بغاوت کی صورت میں نکل رہا ہے اور مقبوضہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مزاحمت کو تقویت مل رہی ہے-
ریکوڈک معاہدہ – Barrick Gold (کینیڈا/امریکہ)
بلوچستان کے ضلع چاغی میں سونے اور تانبے کے ذخائر پر ایک بڑا معاہدہ پاکستانی ریاست نے Barrick Gold کے ساتھ کیا، جس میں مقبوضہ بلوچستان کے عوام،کھٹ پتلی اسمبلی یا پنجابی کنٹرول مقامی حکومت سے کوئی مشورہ نہیں لیا گیا ۔ معاہدے کے تحت کمپنی کو 50٪ سے زائد منافع دیا گیا، جبکہ بلوچ عوام کو صرف “royalty” دی گئی اور وہ رائلٹی پنجابی ہی کے مفاد میں ہے اس کا کنٹرول پنجابی کے ہی ہاتھوں میں ہی ہے اور اس سونے کی چمک لاہور اور بیجنگ میں دکھائی دے رہی ہے بلوچ قوم کو اس سے کوئی فاہدہ نہیں ہے ،
Michael Kugelman (Woodrow Wilson Center, US):
“ریکوڈک معاہدہ ایک نوآبادیاتی معاشی نمونہ ہے، جس میں مقامی اقوام کا استحصال ریاستی ڈھانچے کے ذریعے کیا گیا۔ بلوچ عوام کو صرف ایک ‘امن و امان’ کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ ان کی سیاسی آواز کو دبا دیا جائے۔”
سیندک پراجیکٹ – چینی کمپنی (MRDL)
مقبوضہ بلوچستان کے سیندک منصوبے کو چین کی کمپنی MCC (Metallurgical Corporation of China) کے حوالے کر دیا گیا۔ معاہدے میں بھی بلوچ عوام کو نہ شامل کیا گیا اور نہ ہی اس کا فائدہ بلوچستان کو ہوا۔ آج تک مقامی مزدوروں کو نچلی سطح کی نوکریاں دی جا رہی ہیں اور اس کا کنٹرول پنجابی اور چین کے پاس ہے اور اس علاقے میں نا صاف پانی ہے نا صحت کی سہولیات ہے اور نا تعلیمی ڈھانچہ صرف اور صرف پنجابی اور چین بلوچ قوم کے سونے اور کاپر کے ذخائر کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔
Amnesty International (2022 Report):“پاکستان میں معدنی ترقی کے معاہدے انسانی حقوق، مقامی اقوام کی رضامندی اور ماحولیاتی تحفظ کے عالمی معیارات کی خلاف ورزی ہیں۔ خاص طور پر بلوچ علاقوں میں یہ ترقی ‘جبری خاموشی’ کے تحت ہو رہی ہے۔”
CPEC (چائنا-پاکستان اکنامک کاریڈور) معاہدے
CPEC کے تحت گوادر پورٹ، سڑکیں، انرجی پراجیکٹس اور دیگر منصوبے بلوچ سرزمین پر بنائے جا رہے ہیں۔ تمام معاہدے اسلام آباد اور چینی حکومت کے درمیان طے ہوئے۔ گوادر کے ماہی گیر، کسان، اور شہری بے دخل کیے جا رہے ہیں اور گوادر شہر کے اطراف میں باڑ لگا کر دوسرے بلوچ علاقوں سے کاٹا جا رہا ہے۔
Professor Christophe Jaffrelot (Sciences Po, Paris):“CPEC پاکستان میں پنجابی اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں ایک نیا استعماری پروجیکٹ ہے، جس میں مقامی اقوام کو ‘سیکیورٹی تھریٹ’ بنا کر ان کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ یہ ’ایکنامک امپیریلزم‘ کی جدید شکل ہے۔”
خیبر پختونخوا میں گیس و تیل کا استحصال – MOL (ہنگری)، OGDCL
خیبر پختونخوا میں کرک، کوہاٹ، بنوں، ہنگو اور دیگر علاقوں سے تیل اور گیس نکالنے کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو اختیارات دیے گئے، جبکہ پشتون قوم کو ان کے وسائل پر نہ مشورہ دیا گیا اور نہ ان سے پوچھا گیا کہ یہ معاہدے کن شرائط پر ہو رہے ہیں۔
Human Rights Watch:“پاکستانی ریاست نے پختون علاقوں کو ایک فوجی بیس کی طرح استعمال کر کے ان کے وسائل پر اختیار خود لے لیا۔ ریاستی قبضہ کی یہ شکل عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کی نفی ہے۔”
بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی
UNDRIP (United Nations Declaration on the Rights of Indigenous Peoples) “مقامی اقوام کو اپنے وسائل پر مکمل خود مختاری اور فیصلے کا حق حاصل ہے۔ کسی بھی منصوبے سے قبل ان کی ‘Free, Prior, and Informed Consent’ ضروری ہے۔” ILO Convention 169 (Indigenous and Tribal Peoples Convention)پاکستان نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے، جو کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ اقوام کے حقوق تسلیم نہیں کرتا۔
پاکستان کی ریاست نے جس طرح بین الاقوامی کمپنیوں سے معاہدے کیے ہیں، وہ ایک جدید نوآبادیاتی ماڈل ہے۔ بلوچ اور پشتون اقوام کو اپنے وسائل پر حق نہ دینا صرف معاشی ناانصافی نہیں بلکہ ایک سیاسی، تہذیبی اور قومی جبر ہے۔ اگر یہ استحصال جاری رہا تو عالمی ضمیر کو آواز بلند کرنی ہوگی، کیونکہ یہ صرف بلوچ اور پشتون کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی انسانی و معاشی انصاف کا معاملہ ہے۔ کیونکہ بلوچستان پر جبری طور پر 1948 میں قبضہ کیا گیا اور اسی طرح خیبر پختونخوا کو افغانستان سے کاٹ کر تاریخی جبر کی گئی اسی لیے پنجابی بلوچ اور پشتون کو انسان ہی نہیں سمجھتے اور بلوچ اور پشتون قوم کی نسل کشی پنجابی ارمی تسلسل سے کر رہی ہے اور بلوچ اور پشتون علاقوں میں اس وقت آزاد بولنے، چلنے، اجتماع اور لکھنے پر مکمل پابندی ہے۔















