میں اور میرے دوست شہید زاکر بلوچ ہمیشہ ساتھ رہا کرتے تھے ۔ہم ایک ساتھ سکول میں پڑھتے تھے ۔ہم ہر وقت اپنے وطن اور قوم کے بارے میں سوچھتے تھے ۔۔ہم ہر جلسے اور مظائرے میں شرکت کرتے تھے ہم ہمیشہ اپنے قوم کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ۔جہاں بھی دھرنا ۔جلسہ اور مچی ہوتا تھا تو ہم وہاں پہنچ جاتے تھے ۔۔اسی وجہ سے علاقے کے لوگ ہمیں پاگل کہتے تھے ۔شہید زاکر جان کو چور اور۔مکار کہا جاتا تھا۔اور مجھے یہ کہتے تھے کہ تم کفر کررہے ہو۔ایک دن ہم دونوں پر لوگوں نے۔ایک بےبنیاد تہمت لگایا۔کیونکہ ایک رات ہمارے علاقے میں سکولوں کے دیواروں پہ کسی نے چاکنگ کیا تھا جس کا الزام ہم دونوں پر آگیا ۔شام کا وقت تھا میں تیار ہورہا تھا کہ دوست آجائے گا تو ہم گھومنے چلے جائینگے تو اسی وقت میرے بھائی نے مجھے فون کیا ۔باہر نہ جاو گھر پر رہو کیونکہ تمہارے دوست کو آئی ایس آئی ایم آئی والے اٹھا کر لے گئے ہیں ۔تو میرے بھائی نے کہا اپنا خیال رکھو مجھے فکر ہونے لگا ۔زاکر جان مجھے پتہ نہیں آپ۔کس حالت میں ہیں۔میں جب بھی آپ کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے ان بلوچ بھائیوں کی خیال آتا ہے جو دس پندرہ سالوں سے اس ظالم ریاست ۔کے زندانوں میں قید ہیں ۔میں تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس وقت آپ پر کیا گزر رہا ہو گا ۔جب بھی مجھے آپ لوگوں کا خیال آتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ۔آپ لوگوں پر کیا بیت رہا ہو گا کیونکہ میں نے اپنی اردگرد معاشرے میں کتابوں اور سوشل میڈیا میں یہی سنا ہے یہی پڑھا ہے یہی دیکھا ہے۔کہ جو لوگ ریاست کے زندانوں میں ہیں ان پر ہر وقت ہر لَمحہ ۔موت سے بھی بدتر تشدد کیا جاتا ہے۔ان کے جسموں کو کرنٹ دیا جاتا ہے ان کے ناخُن نکال دیے جاتے ہیں۔جب بھی میرے خیال میں یہ سب آتے ہیں ۔ تو میں خدا سے دعا کرتا ہوں یا مجھے میرے دوست کا لاش واپس دیں یاتو پھر ان کی حوصلہ کو بلند کرنا تاکہ اس کا حوصلہ ٹوٹ نہ جائے۔ ۔۔تو میں نے فیصلہ کیا مجھے یہاں سے نکلنا ہے۔۔مجھے اب یہ پتہ نہیں تھا وہ واپس آئےگا یا نہیں کیا پتہ اس کا مسخ شدہ لاش ملے میں اسی سوچ میں تھا۔میں نے دل ہی دل میں اپنے دوست سے کہا مجھے معاف کرنا میں آپ کو اکیلا چھوڑ کر جدوجہد کےلئے جارہا ہوں۔اس کے لاپتہ ہونے کے چند دن بعد ۔میں نے اپنا گھر چھوڑ کر پہاڑوں کا راستہ اختیار کیا ۔۔مجھے میرا منزل مل گیا ۔۔میں یہاں بہت خوش تھا ۔لیکن دل دل میں مجھے ۔اپنے دوست کا فکر تھا ۔پتہ نہیں وہ کس عزاب میں ہے ۔وہ زندہ ہے بھی یا نہیں۔۔ اسی طرح دن گزرتے گئے 6 ماہ بعد شہید زاکر بلوچ کو زندان سے نکال کر رہا کیا ۔۔اسی طرح ایک دن میں نیٹورک پہ گیا مجھے معلوم ہوا میرا دوست بازیاب ہوا ہے میں بےحد خوش ہوا ۔دو تین دن بعد میں نے اپنے دوست سے رابطہ کیا میرے دوست نے کہا مجھے بھی پہاڑوں ۔پہ آکر سرمچار بننا ہے اور اس ظالم ریاست کے خلاف جنگ کرنا اور اپنے وطن کو آزاد کرنا ہے۔۔اور اپنے ان بھائیوں کو آزاد کروانا ہے ۔جو ہر روز سخت سے سخت تشدد کا سامنا کر رہے ہیں ۔اس طرح وہ گھر سے نکل کر پہاڑوں میں آگیا ۔وہ مکران اوتاق میں تھا اس طرح ہم دو تین دن بعد رابطہ کیا کرتے تھے ۔۔۔14 دسمبر 2024 ۔کو جب میں صبح اٹھا ہاتھ منہ دھوئے۔اور آگ جل رہا تھا ۔میں وہاں جاکر بیٹھ گیا ۔ کوئی چائے پی رہا تھا کوئی مجلس کر رہا تھا ۔۔ 8 بجے سنگت ایک دوسرے سے رابطہ کر رہے تھے تو وہاں سے پیغام آیا کہ مجھے نیٹورک پہ بلایا ۔گیا میں وہاں پہ گیا ۔ہم بیٹھے مجلس کر رہے تھے نیٹورک بھی کام نہیں کر رہا تھا۔۔کچھ دیر بعد جب نیٹورک کام کرنے لگا تو میں نےاپنے موبائل میں نیوز دیکھا اس میں لکھا تھا کہ پنچگور کے علاقے سبز کوہ میں تین سرمچار شہید ہوئے ہیں پنجگور ۔ٹیچنگ ہسپتال میں لائے گئے ہے ان تینوں کا شناخت ہوا تھا ایک کا نام سینئر کمانڈر شہید مجید تھا ۔دوسرے کا نام کمانڈر شہید دلجان۔تھا اور تیسرے کا شناخت شہید سرمچار زاکر جان بلوچ کے نام سے ہوا جو کہ میرا بھائی جیسا تھا ۔ ۔میں نے اپنے دوست کے شھادت کا حال سن کر حیران رہ گیا خوش ہوجاؤں ۔یا ماتم مناؤں۔۔تو مجھے اپنے دوست کا وہ بات یاد آگیا ۔کہ اس نے کہا تھا کہ میں اپنے علاقے میں سب سے پہلے شھادت کا اعزاز اپنے نام کرونگا۔۔تو ہم دونوں نے اس بات پر لڑائی کی۔کہ سب سے پہلے تم نہیں میں شھادت کا اعزاز اپنے نام کرونگا ۔پتہ نہیں زندانوں میں۔تمہیں کیسی ازیت دی گئی تھی۔لیکن تم اپنے نظریے پر محکم تھے۔تم نے اس ظالم ریاست اورپنجابی کے دلالوں کی پالیسیوں کوتوڑ کر ہمیں اور اپنے قوم کے نوجوانوں کو دکھایا کہ ان زندانوں کی ازیتیں بلوچ قوم کو روک نہیں سکتی۔