تحریر ۔ سلام سنجر

بلوچستان آج ایک ایسے سنگین موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر آواز، چاہے وہ انسانی حقوق کے لیے ہو یا جبری گمشدگان کے خلاف، ریاستی جبر کا نشانہ بن رہی ہے۔ ڈاکٹر شلی بلوچ کی گرفتاری اس کی تازہ مثال ہے، جن پر محض اس لیے الزام عائد کیا گیا کہ وہ وال چاکنگ کے ذریعے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کر رہے تھے۔ یہ واضح پیغام ہے کہ پاکستان اب کسی کو نہیں بخشے گا، چاہے وہ آزادی پسند ہو، انسانی حقوق کا علمبردار ہو یا ایک عام بلوچ شہری ہو ۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر ماہ چار سے چھ بلوچ سرمچار شہید ہو رہے ہیں، اور ان سے تین گناہ زیادہ نوجوان جبری گمشدگیوں کا شکار بن رہے ہیں۔ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی نے ریاست کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ نتیجتاً، بلوچ نئی نسل اپنی شناخت اور سرزمین سے بیزاری اور مایوسی کا شکار ہو رہی ہے۔ وہ ریاستی بیانیے کے قریب تر لائی جا رہی ہے اور آزادی کے خواب سے دور ہو رہی ہے۔

مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بلوچستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بلوچی، پشتو اور براہوئی زبان کے شعبوں کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس منصوبہ بندی کا مقصد صاف ہے: بلوچ قوم کو اپنی زبان، ثقافت اور تاریخ سے کاٹ کر ایک یکساں پنجابی مائنڈسیٹ کے تابع کرنا ہے ۔ یہ لسانی و ثقافتی نسل کشی کی ایک خاموش مگر منظم کوشش ہے ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس سب کا حل کیا ہے؟ کیا بلوچ آزادی پسند جماعتیں اسی طرح ایک دوسرے سے دور رہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے؟ یا بلوچ عوام اب خود فیصلہ کریں کہ کب تک اپنے رہنماؤں کو ذاتی دکانداری چمکانے دیں گے؟

تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی قوم بغیر اتحاد کے غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکی ۔ الجزائر نے فرانسیسی سامراج کو عوامی اور مسلح مزاحمت کے ذریعے شکست دی ۔ ویتنام نے ہو چی منہ کی قیادت میں مختلف دھڑوں کو متحد کرکے امریکہ اور فرانس جیسے طاقتور سامراجوں کو شکست دی ۔ ایریٹریا نے تیس سالہ جدوجہد اور مختلف گروہوں کے اتحاد سے آزادی حاصل کی ۔ حتیٰ کہ برصغیر میں ہندو اور مسلمان، تمام تر اختلافات کے باوجود، انگریزوں کے خلاف یکجا ہوئے اور آزادی حاصل کی۔

بلوچ تحریک بھی اسی حقیقت سے دوچار ہے ۔ فی الحال آزادی پسند قیادت کا اتحاد ایک خواب نظر آتا ہے، لیکن بلوچ عوام ہی اس خواب کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں ۔ انہیں اپنے رہنماؤں کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ ذاتی مفادات اور تنظیمی اختلافات کو ترک کرکے ایک مشترکہ محاذ بنائیں ۔ اگر عوام خاموش رہے تو ہر ماہ سرمچاروں کی قربانیاں اور نوجوانوں کی گمشدگیاں اسی طرح جاری رہیں گی، اور تاریخ ایک بار پھر ایک بکھری ہوئی قوم کو گمنامی میں دفن کر دے گی۔

اب فیصلہ بلوچ عوام کے ہاتھ میں ہے کیا وہ اپنے رہنماؤں سے اتحاد کا مطالبہ کریں گے اور اپنی شناخت و آزادی کے لیے ایک منظم تحریک کو جنم دیں گے؟ یا پھر تماشائی بنے رہیں گے، جو کہ ان کی نسل اور شناخت خاموشی سے مٹتی رہے گی؟