یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںایران میں ایک اور بڑے قتلِ عام کا خطرہ، عالمی برادری کو...

ایران میں ایک اور بڑے قتلِ عام کا خطرہ، عالمی برادری کو خاموش نہیں رہنا چاہیے ۔ سابق بین الاقوامی پراسیکیوٹر

واشنگن ( ہمگام نیوز ) امریکہ کے سابق سفیر برائے جنگی جرائم اور روانڈا و سیرالیون کے بین الاقوامی ٹریبونلز کے سابق پراسیکیوٹر، اسٹیفن جی۔ رَیپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں سیاسی مخالفین کی بڑھتی ہوئی پھانسیوں سے ایک اور بڑے پیمانے پر قتلِ عام کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے، جو 1988 کے خونی موسمِ گرما کی یاد دلاتا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں، رَیپ نے کہا کہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کی حکومت پھانسی کو سیاسی مخالفین کو دبانے اور اپنے اقتدار کو بحال کرنے کے لیے ایک مرکزی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ اور اندرونی ناکامیوں کے بعد، ان کے مطابق، 2025 میں ایران میں ہونے والی پھانسیوں کی تعداد، حالیہ تاریخ کے کسی بھی سال سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

رَیپ نے بتایا کہ اب تک 2022 کے عوامی مظاہروں سے تعلق رکھنے والے کم از کم 12 مظاہرین کو پھانسی دی جا چکی ہے جبکہ سینکڑوں دیگر افراد کو “محاربه” جیسے مبہم الزامات کے تحت سزائے موت کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی میڈیا اور قانونی بیانیے میں ایک بار پھر 1988 جیسے قتلِ عام کے لیے زمین ہموار کی جا رہی ہے، جیسا کہ خبررساں ادارے فارس کی حالیہ سرخی میں 1988 کے قتلِ عام کو “ایک کامیاب تجربہ” قرار دیا گیا۔

سابق پراسیکیوٹر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اس بار ایران میں انسانی حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی پر خاموش نہ رہا جائے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک سے ایران پر ایک نیا “حقائق معلوم کرنے کا مشن” قائم کرنے کی سفارش کی، اور ساتھ ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ایرانی حکام پر پابندیاں اور ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی کا مطالبہ کیا، تاکہ اسلامی جمہوریہ پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

رَیپ نے آخر میں کہا کہ اگرچہ انصاف کے تقاضے پورے ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن “آج کی بے کیفرِی کل کے احتساب کی کوششوں کو روکنے نہیں دینی چاہیے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا کو ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے کہ ایران میں ایک اور انسانی المیہ سب کے سامنے رونما ہو۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز