سلام میری بلوچ قوم کو!

آپ جہاں کہیں بھی ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے، آپ کے ہاتھوں کو محفوظ رکھے، اور آپ کے دلوں کو حوصلہ دے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، بلوچ قوم اس وقت ایک نازک اور مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ پاکستان بھر میں، اور خاص طور پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جو ظلم، جبر اور زبردستی کے واقعات پیش آ رہے ہیں، وہ کسی ایک فرد یا ایک خاندان تک محدود نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم کے خلاف ہیں۔

یہ مظالم صرف ایک شخص یا خاندان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہم سب کا مشترکہ درد ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم ایک نہیں ہوئے، تو ہم مزید بکھرتے چلے جائیں گے۔ اب وقت ہے کہ ہم ایک صف میں کھڑے ہوں، اور اپنی قوم کے لیے آواز بلند کریں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر کوئی اپنی جان کی قربانی دے — قوم کی خدمت کے کئی اور راستے موجود ہیں۔

جیسا کہ ہماری رہنما بانُک ڈاکٹر صاحبہ کہتی ہیں: “اگر آپ بول سکتے ہیں تو بولیے، اگر آپ لکھ سکتے ہیں تو لکھیے۔”

میرے بھائیو اور بہنو! اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو ہمیں بے شمار روشن مثالیں نظر آتی ہیں جن سے ہم سیکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم بانُک شالی کی مثال لیں، تو وہ ایک بہادر، پُراعتماد اور باحوصلہ خاتون ہیں جو اپنی قوم کے لیے عملی طور پر جدوجہد کر رہی ہیں۔

اسی طرح بانُک مہرنگ بلوچ ہیں، جنہوں نے اپنے عمل اور قربانیوں سے ہمیں فخر دیا ہے۔ بانُک سمی، بانُک گلزادی، بانُک بیبو — سبھی ایسی خواتین ہیں جنہوں نے عملی طور پر بلوچ قوم کے لیے کام کیا ہے۔

ہمارے بھائی بیبگر شاہ جی بھی اسی طرح جدوجہد کے ایک زندہ استعارہ ہیں۔

ہمیں ان تمام شخصیات پر فخر ہے۔ ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، ہمیں اپنی قوم کے لیے شعور اجاگر کرنا ہوگا، آواز بلند کرنا ہوگی، اور جوک چھ ہم سے ہو سکے، وہ عمل میں لانا ہوگا۔

آخر میں، ان تمام بھائیوں اور بہنوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو کسی نہ کسی صورت میں بلوچ قوم کی آزادی، شناخت اور مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ آئیں ہم سب ایک آواز، ایک سوچ، اور ایک منزل کے ساتھ آگے بڑھیں۔