میں بچپن سے لکھتا تھا۔ جب میں نے نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تب مجھ میں شعور آنے لگا ریاستی ظلم وجبر کو دیکھتا تھا تو مجھے اس ریاست سے نفرت ہونے لگا میرے ماں بہنوں کی عزت محفوظ نہیں تھی میں جب اس ظلم اور بربریت کو اپنے آنکھوں سے دیکھتا تھا تو مجھے یہ بات سوچنے پر مجبور کرتا تھا کہ اس ظالم کو کیسے ختم کرنا ہے اس ظالم سے کیسے بدلہ لینا ہے۔ہر دن میرے بھائیوں کے لاپتہ ہونے کی خبریں آتی تھی تو یہ بات مجھے اندر سے کھایا جارہا تھا لیکن اس وقت مجھ میں اتنا قوت اور شعور بھی نہیں تھا ظالم کے اس ظلم کو روکنے کےلیے۔ظالم ریاست کے ظلم دن بدن بڑھتے جا رہے تھے میں نے قلم سے کوشش کی کہ اپنے قوم کی طاقت بن جاؤں لیکن قلم سے جو چیز نہیں بنتا تو قلم کے ساتھ بندوق کی بھی ضرورت ہوتی ہے تو میں نے اسی وقت بندوق اٹھانے کا فیصلہ کرلیا مگر اس وقت مجھے ایسا انسان نہیں مل رہا تھا جو مجھے میرے منزل تک پہنچا دے جب میں نے میٹرک پاس کیا پھر فرسٹ ایئر مکمل کیا پھر سیکنڈایئر مکمل کرلیا ۔اس وقت مجھے ایسا انسان ملا جو مجھ کو میری منزل تک پہنچا سکتا تھا یہی وہ وقت تھا جو مجھے غلامی کی زندگی سے چھٹکارا دلا سکتا تھا جومجھے آزاد زندگی دلا سکتاتھا میں نے غلامی کی زنجیروں کو تھوڑ کر اپنے مقصد کے لیے روانہ ہوا اپنی ماں کو رخصت کیا اور کہا کہ ماں مجھے دعا دو میں جارہاہوں ایک عظیم مقصد کے لئے اپنے سر زمین کی آزادی کے جنگ لڑنے کے لئے میرے سر زمین مجھے بلا رہی ہے تو ماں نے مجھے رخصت کیا اور کہا “بیٹا جا تیری منزل تیری راہ دیکھ رہی ہے” اور ماں نے مجھے کہا “بیٹا کبھی مایوس مت ہونا تیری طرح میرے ہزاروں بیٹے اپنے وطن کے لئے پہاڑوں پر بیٹے ہیں جو اپنے زندگی اور سب کچھ قربان کر رہے ہیں جب میں گھر سے نکل کر روانہ ہوا اپنے منزل کی طرف بڑھنے لگا چند دنوں کے سفر کے بعد میرے سرمچار بھائیوں سے ملاقات ہوگئی یہاں اپنے بھائیوں کا مہرو محبت دیکھ کر میرا حوصلہ اور بڑھ گیا میں نے پہاڑوں میں سفر شروع کیا چند دن اپنے بھائیوں کے ساتھ گزارا اس کے بعد میں اور میرے کچھ ساتھی ایک گشت کے لئے روانہ ہو گئے گشت کے دوران ایک خبر آئی اس خبر نے میرے دل کو چیر چیر کر رکھ دیا میرے چھ ساتھیوں کے شھادت کے خبر سن کر ہم سب غم اور اداسیوں میں ڈوب گئے میں اور میرے کچھ ساتھی اپنے شھیدوں کی طرف روانہ ہوگئے دو دن کے سفر کے بعد ہم وہاں پہنچ گئے وہاں اپنے شھیدوں کے جسموں کے ٹکڑے دیکھ کر ہمارے دل خون کے آنسو رو دیے لیکن ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آرہا تھا۔ ظالم نے ہمارے ساتھیوں کو بے رحمی سے شھید کیا تھا دل چیر چیر ہو گیا مگر جانباز ساتھیوں کی شھادت کو دیکھ کر ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آرہا تھا۔ شھادت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا جو بھی اپنی سر زمین پرقربان ہوتا ہے وہ مرتا نہیں ہے ہمیشہ کے لیے امر ہوتا ہے میرے سر زمین نے اپنے شھیدوں کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔ ان میں سے ایک ساتھی شھید سرمچار وحید تھا آج بھی بولان کے پہاڑ ان کےبہادری کی گواہی دیتےہیں. شھید انجیر دشمن کے لیے ایک قہر تھا دشمن آج بھی ان کا نام سن کر کانپتا ہے ۔ شھید بابل جس کا مہرو محبت سوچ و فکر اپنی مثال آپ تھی۔ شھید جرمنی آج بھی ان کی خون کے خوشبو بولان کی پہاڑوں کی اونچائی میں مہک رہے ہیں ۔ شھید فدا جس نے کم وقت میں اپنے سب ساتھیوں کے دلوں میں اپنا جگہ بنا لیا آج بھی پوری قوم بڑے فخر سے اس کا نام لیتا ہے ۔ شھید دوستین جس نے بولان کے پہاڑوں کے چوٹیوں کو اپنے خون سے سینگار کیا ۔ کچھ مہینوں کے بعد ہمارا فیصلہ ایک چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کا ہوا میرا پہلا جنگ تھا میں اس وقت جنگ میں ناتجربہ کار تھا۔ جب ہم دشمن کے چیک پوسٹ پر گئے اور دشمن کو پسپا کردیا اوراس چیک پوسٹ پر قبضہ کرلیا ۔اس جنگ میں گولی لگنے کی وجہ سے میں زخمی ہو گیا تو اس وقت مجھے میری ماں کی ایک بات یاد آگیا ۔ بیٹا حالات جیسے بھی ہو ہمت کبھی مت ہارنا پھر میرے ساتھیوں نے وہاں سےمجھے نکالا میرا علاج ہوگیا کچھ مہینوں بعد میں ٹھیک ہو گیا ۔ اب یہ جنگ میری زندگی کا مقصد بن گیا ہے ہمارے وطن کی آزادی ہمارا خواب بن گیا ہے آخری گولی لہو کے آخری قطرے تک لڑینگے ہمارے جسم سے نکلا ہر ایک خون کا قطرا صرف یہی آواز دے گا ۔ آزادی آزادی آزادی ۔















