ایک فکر، ایک نظریہ جو امید سے روشن اور چٹان کی طرح مضبوط ہو وہ نہ زنجیروں سے دبایا جا سکتا ہے، نہ ہی کسی ٹوٹی پھوٹی دیوار سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ تم اتنے خوف زدہ ہو چکے ہو کہ ایک معذور، وہیل چیئر پر بیٹھے انسان سے بھی ڈرنے لگے ہو جو زنجیروں سے باندھ دے کر تم نے اپنی کمزوری بے نقاب کی ہے۔ اب تمہاری جھولی میں صرف جھوٹ اور بے بنیاد الزامات ہی بچے ہیں۔ سچائی کی طاقت سے تم خالی ہو چکے ہو،، وہ مسکراتا ہوا چہرہ، جو تمہارے کالے قانون کو چیلنج کر کے مزاحیہ انداز میں بے نقاب کرتا ہے وہ چہرہ آج پورے معاشرے کے دلوں پر راج کر رہا ہے۔ وہ مسکراہٹ تمہارے ظلم کا جواب ہے، تمہارے نظام پر طنز ہے، اور تمہارے خوف کی جڑوں میں لگنے والی دراڑ ہے۔ تمہارے پاس اب کچھ باقی نہیں بچا نہ دلیل، نہ اخلاق، نہ سچ۔ صرف طاقت کا گھمنڈ ہے، جو وقت کے ساتھ مٹی میں مل جائے گا،، سچ کب تک جھوٹ سے ڈرتا رہے؟ تمہارا جھوٹ ایک دن زمین بوس ہوگا، اور تمہاری جھوٹی طاقت، تمہارا وجود تاریخ سے مٹ جائے گا تم تو پہلے ہی اخلاقی میدان میں شکست کھا چکے ہو۔ تمہاری درندگی، تمہاری نفرت، دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے وہ مائیں، وہ بہنیں، اور وہ بوڑھے بزرگ جو عزت سے تمہارے دروازے پر آئے، صرف انصاف مانگنے تم نے انہیں وہ بھی نہ دیا۔ انصاف تو دور کی بات، تم نے انہیں سڑک پر رات گزارنے کی جگہ تک نہ دی۔ تم نے ان کے صبر، ان کے وقار، اور ان کی فریاد کو بھی روند دیا لیکن یاد رکھو، سچ کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایک دن وہ سچ تمہاری ہر دیوار کو گرا دے گا