بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں عورت کو عزت و حرمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ “زن، زمین اور زر” کا تصور بلوچ ثقافت میں گہرے معنی رکھتا ہے، اور عورت کو قبیلے کی عزت و غیرت کا مرکز مانا جاتا ہے۔ لیکن اس احترام کے باوجود، بلوچ عورت کو وہ مساوی سماجی، معاشی، سیاسی اور ذاتی آزادی نہیں ملی جس کی وہ مستحق ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عورت کو عزت دی گئی ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اُسے انسان اور شہری کے طور پر برابر کا حق ملا ہے؟

عورت کی موجودہ حیثیت: عزت یا قید؟

عورت کو قبائلی معاشروں میں عموماً پردے، حدود، اور روایات کے نام پر ایک خاص دائرے میں محدود رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات اسے فیصلوں کا حق نہیں دیا جاتا، خاص کر تعلیم، شادی، جائیداد یا سیاست میں شرکت کے معاملات میں۔ یہ سب کچھ “مرد کی ایگو” یا غیرت کے نام پر کیا جاتا ہے، جو دراصل ایک غیر متوازن سماجی ڈھانچے کی علامت ہے۔

مرد کی ایگو اور سماجی عدم توازن

بلوچ معاشرہ ایک “Patriarchal” یعنی مردانہ بالا دستی پر مبنی نظام ہے۔ یہاں مرد کو خاندان، قبیلہ اور سماج کا فیصلہ ساز مانا جاتا ہے۔ جب عورت آزادی یا حق کی بات کرتی ہے، تو بعض مرد اس کو اپنی مردانگی، اختیار یا “ایگو” پر حملہ سمجھتے ہیں۔ کیا عورت کو اس کا بنیادی حق دینا مرد کے اختیار کو ختم کرتا ہے؟ کیا عورت کی برابری سے معاشرہ بکھر جائے گا؟

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عورت کو برابری دینا نہ صرف ایک اخلاقی اور انسانی ضرورت ہے بلکہ یہ معاشرتی توازن، ذہنی سکون، خاندانی خوشحالی اور نسلوں کی بہتر تربیت کے لیے بھی ضروری ہے۔ بلوچ معاشرہ تبدیلی سے خائف ہے، خاص کر جب بات عورت کے مقام کی ہو۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی قبائلی برادریوں نے عورتوں کو تعلیم، صحافت، سیاست اور صحت کے شعبوں میں آگے بڑھنے کا موقع دیا ہے۔

تبدیلی کا مطلب روایت کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے انسانی اقدار اور عدل کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔ قبائلی سماج میں بہت سی خوبیاں ہیں، مگر جب وہ عورت کے حق کو دباتے ہیں، تو وہ خوبیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ بلوچ مرد اگر واقعی بہادر اور باوقار ہے تو اسے عورت کے حق سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی ایگو کے خول سے نکلے، عورت کو برابری دے، اس کی رائے، فیصلہ اور وجود کو تسلیم کرے۔ عورت کو صرف ماں، بہن یا بیٹی مان کر عزت دینا کافی نہیں، اسے فرداور انسان کے طور پر بھی برابری دینا ضروری ہے۔

بلوچستان کی سرزمین، صدیوں سے جدوجہد، عزت، غیرت اور خودداری کی علامت رہی ہے۔ یہ خطہ صرف معدنیات یا جغرافیہ کا نہیں، بلکہ اپنی زبان، تہذیب اور روایتوں کے ساتھ ایک زندہ قوم کی سرزمین ہے۔ مگر افسوس کہ آج بلوچستان نہ صرف بیرونی قبضے کا شکار ہے بلکہ اندرونی طور پر بھی ایک ایسی سماجی ساخت میں جکڑا ہوا ہے، جہاں عورت کی شناخت، آزادی، اور حق کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔

تاریخی طور پر بلوچ عورت نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ قدیم زمانے میں بی بی گوہر، بی بی ماهگل، گل بی بی ، گوہر تاج، ماہتاب ، کریمہ ، ڈاڈی بلوچ جیسی خواتین نے نہ صرف سماجی رہنمائی کی بلکہ دشمن کے خلاف مزاحمت میں بھی پیش پیش رہیں۔

جب ہم آزاد متحدہ بلوچستان کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں صرف جغرافیائی آزادی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کل بلوچستان آزاد ہو جائے مگر اس کی عورت اب بھی خاموش ہو تو وہ آزادی ادھوری ہے۔

آزادی کا مطلب صرف ریاستی قبضے کا خاتمہ نہیں بلکہ ہر فرد، ہر عورت، ہر سوچ کی آزادی ہے۔ ایک ایسی ریاست جس میں مرد عورت کو اپنا برابر مانے نا کہ ملکیت یا قبیلے کی غیرت کا سمبل۔

1839 کی دفاعی جنگ یا 1973کی مسلح بغاوت ہو یا موجودہ مزاحمتی تحریک — بلوچ عورت نے ہر دور میں قربانی دی ہے، چاہے وہ جبری گمشدہ بلوچوں کی تلاش میں پریس کلب کے باہر بیٹھی ماں ہو یا جلاوطنی کاٹتی بیٹی۔ بلوچ مردجو خود ریاستی جبر اور استحصال کا شکار ہے اسے تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ جب عورت کو برابر کا حق نہیں دیتا تو وہ اسی جبر کو اپنے اندر دہرا رہا ہے۔ ایک آزاد قوم وہی کہلا سکتی ہے جو اپنی عورت کو شریکِ حیات، شریکِ فکر اور شریکِ اقتدار مانے۔ اگر ہم ایک ایسا بلوچستان چاہتے ہیں جو دنیا کے نقشے پر باوقار اور آزاد ہو، تو اس کا آغاز عورت کو برابر کا مقام دے کر کرنا ہوگا۔ کیونکہ ایک ایسی قوم جو اپنی عورت کو انصاف، حق اور محبت نہ دے سکے، وہ کبھی مکمل آزاد نہیں ہو سکتی۔

بلوچستان لبریشن چارٹر، جو آزاد و خودمختار بلوچستان کے لیے فکری و عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے، عورت کی برابری کو بنیادی اصولوں میں شامل کرتا ہے: شق 5: “بلوچستان میں ہر فرد کو جنس، نسل، زبان یا مذہب کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر برابر کے حقوق حاصل ہوں گے۔ عورتوں کو مکمل قانونی، معاشرتی اور سیاسی برابری دی جائے گی۔”

یہ شق آزادی کے تصور کو زمین کی ملکیت سے نکال کر انسانی آزادی کی طرف لے جاتی ہے۔ بلوچ سماج کی تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے، اور اس میں عورت صرف ایک “عزت کی علامت” نہیں بلکہ فکری، عسکری اور روحانی قیادت کا بھی استعارہ رہی ہے۔ آزاد بلوچستان کا تصور ایسے مرد سے نہیں جُڑا جو عورت پر حکمرانی کرے، بلکہ ایسے مرد و عورت سے جُڑا ہے جو ایک دوسرے کے فکری ساتھی ہوں۔

بلوچستان لبریشن چارٹر، صرف ایک سیاسی دستاویز نہیں بلکہ سماجی معاہدہ ہے۔ جس کے مطابق ہر شعبہ زندگی میں عورت کی قیادت، نمائندگی اور خود مختاری تسلیم کی جائے گی۔ ونّی، کاروکاری، قبائلی انصاف جیسے عورت دشمن رسم و رواج کو ختم کیا جائے گا۔

ہر عورت کو تعلیم، صحت، وراثت اور ملازمت میں برابری حاصل ہو گی۔ جب ہم متحدہ اور آزاد بلوچستان کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف ایک ریاستی نقشہ نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی ریاست کی بات ہے، عورت کو ماں، بہن، بیٹی کی حیثیت کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی شخصیت کے طور پر بھی تسلیم کیا جائے؛ بلوچ مرد، اپنی ایگو کو شعور میں ڈھال کر عورت کے وجود کو مکمل انسانی درجہ دے؛ روایتوں کو انسانی اقدار کے ساتھ توازن دے کر نئے بلوچ معاشرے کی تعمیر کی جائے۔

اگر عورت آزاد نہیں تو قوم آزاد نہیں۔ اگر عورت خاموش ہے تو سماج مردہ ہے۔ اگر عورت برابری میں شریک نہیں تو مستقبل معطل ہے۔ بلوچستان لبریشن چارٹر ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ بلوچ قومی آزادی اس وقت مکمل ہو گی جب بلوچ عورت، بلوچ مرد کے شانہ بشانہ کھڑی ہو — اپنے حق اپنی آواز اور اپنی شناخت کے ساتھ۔ بلوچ تحریکِ آزادی میں عورت کی منظم شرکت کے لیے جگہ پیدا کی جائے۔

ہر تنظیم اور پارٹی اپنے چارٹر میں صنفی برابری کی شق شامل کرے۔ بلوچ دانشور، شاعر، ادیب اور مزاحمت کار اپنی تحریروں اور عمل میں عورت کی آزادی کو قوم کی آزادی سے جوڑیں۔

بلوچ عورت کی برابری کی جدوجہد صرف بلوچستان لبریشن چارٹر کی زبان تک محدود نہیں، بلکہ یہ دنیا کی اُس عالمگیر تحریک کا حصہ ہے جہاں عورتوں نے اپنے حق، وجود اور شناخت کے لیے ایوانوں سے میدانوں تک، عدالتوں سے قیدخانوں تک، اور قلم سے بارود تک — ہر محاذ پر مزاحمت کی۔

چاہے وہ فرانس کی انقلاب میں عورتوں کی مارچ ہو یا روس کی بالشویک تحریک میں خواتین مزدوروں کی بغاوت، عورت نے ہمیشہ تبدیلی کا آغاز کیا۔ ویتنام میں ہوانگ تھی لوئی، الجزائر کی جمیلہ بوحیرد، فلسطین کی لیلیٰ خالد، اور کرد خواتین کی پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPJ) — یہ سب دنیا بھر کی عورتوں کی اُس مزاحمتی لہر کا حصہ ہیں جنہوں نے بندوق، نظم اور قربانی سے نہ صرف دشمن کو روکا بلکہ اپنے سماج کو بیدار کیا۔ جنوبی افریقہ کی عورتوں نے نسل پرستی کے خلاف الم اٹھایا، بھارتی دلت خواتین نے ذات پات اور پدرشاہی کے خلاف، اور لاطینی امریکہ کی ماؤں (Mothers of Plaza de Mayo) نے آمریت کے دوران لاپتہ بیٹوں کے لیے مزاحمت کی — ان سب نے یہ پیغام دیا کہ عورت صرف قربانی کا نشان نہیں، تاریخ کا دھارا موڑنے والی طاقت ہے۔ جب ہم بلوچستان لبریشن چارٹر کی روشنی میں عورت کی آزادی اور برابری کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کے ہر مہذب معاشرے نے اس وقت ترقی کی جب اس نے عورت کو اس کا جائز مقام دیا۔ سویڈن، فن لینڈ، آئس لینڈ، اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک آج انسانی ترقی کے انڈیکس میں سرفہرست ہیں، کیونکہ وہاں عورت کی تعلیم، معیشت، قانون سازی اور روزمرہ زندگی میں مکمل شراکت داری ہے۔ ان معاشروں نے یہ جان لیا ہے کہ عورت کی شمولیت معاشرتی امن، اقتصادی ترقی اور قومی اخلاقیات کی ضمانت ہے۔

بلوچ قوم اگر متحدہ بلوچستان کو ازاد کرنا چاہتے ہیں تو قوم صرف بیرونی قابض کے خلاف نہیں، اپنے اندر کے فرسودہ، عورت دشمن اور مردانہ برتری پر مبنی رویوں کے خلاف بھی مزاحمت کرنی ہوگی۔ یہ ایک دوہری مزاحمت ہے — ایک ریاستی جبر کے خلاف اور دوسری سماجی جمود کے خلاف۔

لہٰذا، جب بلوچ نوجوان بندوق اٹھاتا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ایک بلوچ لڑکی جب قلم اٹھاتی ہے تو وہ بھی اتنا ہی خطرناک اور انقلابی عمل ہوتا ہے جب ایک ماں پریس کلب کے باہر دن رات بیٹھتی ہے تو وہ صرف ممتا نہیں بلکہ ایک انقلابی سیاسی وجود ہے۔ جب ایک بیٹی غیرت کے نام پر قتل کے بجائے تعلیم کا مطالبہ کرتی ہے تو وہ صرف حق نہیں مانگ رہی بلکہ قوم کی نئی شناخت کو جنم دے رہی ہے۔ عورت کی آزادی، بلوچ قومی آزادی کی شرط ہےاور قومی آزادی عورت کے بغیر صرف ایک مردانہ واہمہ ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بلوچستان لبریشن چارٹر، عالمی مزاحمتی تاریخ، اور بلوچ عورت کی روزمرہ جدوجہد ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں — ایک نئی دنیا، ایک نیا سماج، اور ایک مکمل انسان کی تشکیل کی طرف جو بلوچ قوم کی آزادی کی شمع کو روشن کرتی ہے۔