اسلام آباد ( ہمگام نیوز )اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو وفاقی دارالحکومت میں مظاہرہ کرنے والے افراد سے مذاکرات کر کے احتجاج ختم کرانے کی ہدایت کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ لاپتا افراد کی فیملیز کا نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج ختم کرانے کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایف سکس پیٹرول پمپ انتظامیہ کی درخواست پر سماعت کی۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ڈی سی مظاہرین سے مذاکرات کر کے بتائیں کہ یہاں نہیں بیٹھ سکتے، کیوں راستہ بلاک کیا ہوا ہے اُن کا کاروبار ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے کہا کہ بلوچ یوتھ کونسل والے احتجاج کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا احتجاج کی اجازت دی ہوئی ہے؟
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اجازت نہیں ہے، ہم مظاہرین کو منتشر کرتے ہیں لیکن وہ پھر آ جاتے ہیں، چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ انتظامیہ کہاں ہے کیا کر رہی ہے؟
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایت دی کہ آپ سنجیدہ اقدامات لیں، جو آپ نے کیا یہ ناکافی ہے، آپ نے دوسرے فریق کی پراپرٹی کا تحفظ کرنا ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ کس قانون کے تحت آپ دوسرے فریق کی پراپرٹی بلاک کر رہے ہیں؟ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ ہم اُنہیں احتجاج کیلئے متبادل جگہ دے سکتے ہیں۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ڈی سی ان سے مذاکرات کریں کہ آپ یہاں نہیں بیٹھ سکتے، دو ہفتے بعد آئندہ سماعت پر بغیر کسی ناکامی کے رپورٹ جمع کرائیں۔
چیف جسٹس نے ڈی سی سے مکالمہ کیا کہ پندرہ دن کا کہا ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ پندرہ دن بعد ہی واپس آئیں، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے کہا کہ نہیں سر ہم فوری کریں گے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہمارا کاروبار رکا ہوا ہے، جلد کارروائی کی ڈائریکشن دی جائے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ ڈائریکشن دیدی ہے، یہ نہیں ہے کہ نوالہ آپ کے منہ میں دے دیا جائے۔
انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ عدالت اتنی بے خبر ہے ایک انسانی مسئلہ کو بھلاکر کاروبار کے مسئلے کو اتنی اہمیت دے رہی ہے ہونا یہ چاہئے کہ وہ اداروں سے پوچھتی کہ ہزاروں لوگ فوج خفیہ اداروں نے کیوں جبری لاپتہ کیے ہیں ،دوسری جانب پریس کلب سامنے احتجاج کیلے جگہ مختص ہے لواحقین کو کیوں اسلام آباد پولیس احتجاج کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔
لواحقین کا کہنا ہے یہاں بلوچ کو انسان ہی نہیں سمجھا جارہاہے ۔


