جب تم مردم شماری کے فارم پر قومیت کے خانے میں قلم رکھو، تو لمحہ بھر ٹھہرو۔ یہ ایک عام خانہ نہیں، بلکہ تمہاری پوری تاریخ، تمہاری شناخت اور تمہاری آئندہ نسلوں کا مقدر ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب تم فیصلہ کرتے ہو کہ تم صرف سانس لینے والے انسان ہو یا ایک زندہ قوم؟
سندھ کی زمین پر صدیوں سے آباد بلوچ آج اپنی شناخت کے شدید ترین بحران سے گزر رہے ہیں۔ ہم نے تاریخ میں کئی زخم کھائے، کئی محاذ دیکھے، لیکن سب سے خطرناک زخم وہ ہوتا ہے جو خود اپنی شناخت سے بےنیازی سے لگایا جائے۔
ہماری زبان، ہماری ثقافت، ہمارا وجود سب کچھ رفتہ رفتہ غیر محسوس انداز میں مٹایا جا رہا ہے۔ آج ہمارے بچے بلوچی کی بجائے سندھی، سرائیکی یا اردو بولتے ہیں۔ یہ محض لسانی ارتقاء نہیں، بلکہ ایک خاموش، گہری اور مسلسل شناخت ،کشی ہے۔ یونیسکو کی فہرست میں بلوچی زبان اُن زبانوں میں شامل ہے جو معدوم ہونے کے دہانے پر ہیں۔ اور سوال یہ ہے: کیا ہم وہ نسل ہوں گے جو خاموشی سے اپنے ورثے کو دفن ہوتے دیکھیں گے؟ یا وہ نسل جو اپنے نام، اپنی زبان، اپنی روح کو زندہ رکھنے کا عہد کرے گی؟
2017 کی مردم شماری میں سندھ کے لاکھوں بلوچوں نے خود کو “سندھی” لکھوایا۔ وہ ایک خانہ پر کی گئی رسمی کارروائی نہ تھی، بلکہ اپنے وجود سے غداری تھی۔ اس لمحے ہم نے خود کو ریاست کی نظروں سے اوجھل کیا، اپنے بچوں کے حق کو بیچ ڈالا، اپنی آواز کو خود ہی خاموش کر دیا۔ یاد رکھو، جب تم “بلوچ” لکھو گے، تو تم فقط ایک لفظ نہیں لکھو گے تم ایک صدیوں پر محیط مزاحمت کو تسلیم کرو گے، ایک قوم کی گواہی دو گے، ایک زبان کو زندگی دو گے، اور اپنے بچوں کو ایک ورثہ دو گے جس پر وہ فخر کر سکیں۔
زاہدان سے بولان تک ایک ہی جدوجہد جاری ہے۔ ایران کے زیر تسلط بلوچستان میں روز قدس فورس بلوچ نوجوانوں کو مار رہی ہے۔ پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان میں وردیوں کے سائے ماؤں کے آنگنوں پر پڑے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود، ہماری شناخت زندہ ہے کیونکہ کچھ لوگ پہاڑوں میں، کچھ جیلوں میں، کچھ جلاوطنی میں اس شناخت کی قیمت چکا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم شہروں میں بیٹھ کر ان قربانیوں کو مٹی میں ملا دیں گے؟ کیا ہم اتنے بےحس ہو چکے ہیں کہ جنہوں نے اپنے خون سے شناخت بچائی، ہم ان کی روح کو ایک فارم پر جھوٹ لکھ کر رسوا کر دیں؟
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم قبیلوی تعصبات سے نکل کر ایک قوم کی صورت اختیار کریں۔ رند ہو یا مری، کھوسہ ہو یا لاشاری، بنگلزئی ہو یا بزدار یہ سب بلوچیت کی شاخیں ہیں، مگر جب دشمن سامنے ہو تو ہم فقط بلوچ ہیں۔ نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ قبیلوں میں بٹے بلوچ کسی کے لیے خطرہ نہیں، مگر متحد بلوچ دنیا کی بڑی طاقتوں کو بھی ہلا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی چھوٹی چھوٹی شناختوں سے نکل کر اُس بڑے سچ کو اپنانا ہو گا، بلوچ ہونا ہمیں جوڑتا ہے ۔
تو اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اگلی مردم شماری میں، صرف “بلوچ” لکھو فخر سے خوف سے نہیں۔ اپنے بچوں کو بلوچی زبان سکھاؤ، ان کے کانوں میں وہی لوری دو جس میں تمہارے بزرگوں نے آزادی، غیرت اور خودداری کی کہانیاں سنائی تھیں۔ کیونکہ جس دن سندھ کا آخری بلوچ بھی اپنی شناخت کو فراموش کر دے گا، اُس دن تاریخ صرف دشمن کو نہیں، ہمیں بھی مجرم کہے گی۔ شناخت کو دفن نہ کرو بلوچ لکھو۔ یہ تمہاری ذمہ داری ہے، تمہاری قوم کی آخری امید اور تمہارا فرض بھی ہے۔















