تحریر ۔ سلام سنجر

ہماری نئی نسل ایک ایسے موڑ پر ہے جیسے “نازک موڑ پر کھڑا ہے” کہا جاتا ہے ، ہمارا معاشرہ، خاص طور پر بلوچ نسل کی نئی آبادی، ایک ایسے دور میں جی رہی ہے جہاں موبائل فونز اور ایسے دیگر ڈیوائسز صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی کا مرکز بن چکا ہے ۔ ہم نے اپنی نسل کو آنکھ کھولتے ہی اسمارٹ فونز پکڑا دیا، اور اب حیران ہو رہے ہیں کہ بچے لائبریری کی راہ بھول گئے، کتابوں کی خوشبو سے نا آشنا ہیں اور مطالعہ محض اسکول کے امتحانات دینے تک محدود ہو چکا ہے ۔ کئی ایسے نوجوان ہیں جو کہ درجنوں کتابوں کا انہماک سے مطالعہ تو کرتے ہیں لیکن وہ ” حاصل مطالعہ” نہیں لکھتے ہیں کہ ہم نے کیا پڑھا ہے اور اس سے بلوچ معاشرے کو کیا حاصل ہوتا ہے ۔

اگر مگر سے پرے،آج کی جنریشن زی Z اور جنریشن الفا Alpha اس قدر سوشل میڈیا میں گم ہو چکی ہے کہ انہیں علم، تحقیق، کردار اور ذمہ داری جیسے الفاظ صرف لیکچر محسوس ہوتے ہیں ۔ انسٹاگرام کی ریلز، ٹک ٹاک کی ویڈیوز، یوٹیوب کے شوق، اور لائکس و فالوورز کی گنتی ان کے لیے کامیابی کی علامت بن چکی ہے ۔ مگر یہ کامیابی نہیں، یہ ڈیجیٹل غلامی ہے جس میں وہ خوشی خوشی داخل ہو رہے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ایپ(ٹک ٹوک )نے ہمیں اپنی طرف کھینچا، اُس کے بانی یعنی چین نے اپنے ملک کے بچوں پر سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں ۔ چین میں 18 سال سے کم عمر کے بچے نہ صرف محدود وقت کے لیے سوشل میڈیا استعمال کر سکتے ہیں بلکہ انہیں اسکولوں، گراؤنڈز، تجربہ گاہوں اور کتابوں سے جوڑا جاتا ہے ۔

انہیں دن میں ایک مخصوص وقت پر پیغام دیا جاتا ہے، اب سوچو چین کے بچے مستقبل میں چین کو کہاں سے کہاں لیجاتے ہیں جو کہ سوشل میڈیا سے دور ہیں یا انہیں محدود کر دیا گیا ہے یا تو مکمل انہیں ان سے دور رکھا گیا ہے ۔ اسی طرح اسرائیل میں والدین اپنے بچوں کو سادہ موبائل دیتے ہیں تاکہ وہ صرف رابطے کے لیے استعمال کریں ۔ وہاں موبائل فون کوئی اسٹیٹس سمبل نہیں بلکہ ایک محدود ضرورت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بچے تحقیق، تخلیق اور قیادت میں ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ ایک اور بہترین مثال فنلینڈ کی ہے اگر دنیا میں بچوں کی تعلیم کا بہترین ماڈل دیکھنا ہو تو فن لینڈ کی مثال روشن چراغ کی طرح ہے ۔ وہاں بچوں کو 7 سال کی عمر تک اسکول میں باقاعدہ داخل نہیں کیا جاتا، بلکہ ابتدائی سالوں میں صرف کردار سازی، فطرت سے ربط، اور سماجی تربیت دی جاتی ہے ۔ موبائل فون اسکولوں میں ممنوع ہیں۔ اساتذہ کو اعلیٰ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ہر بچے کو انفرادی توجہ دے سکیں ۔ لائبریری، آرٹ، موسیقی اور تحقیق کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں نکھر جائیں ۔

اس کے برعکس ہمارے یہاں، خاص طور پر بلوچستان جیسے پسماندہ خطوں میں، بچے دن بھر سوشل میڈیا پر ویڈیوز بناتے رہتے ہیں ۔ والدین سمجھتے ہیں کہ یہ “نیا زمانہ” ہے، “ترقی” ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو مطالعے، تنقیدی سوچ اور تخلیقی شعور سے دور کر رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا بذات خود بری چیز نہیں، بلکہ یہ ایک طاقتور ہتھیار ہے، مگر صرف اسی کے لیے جو اسے استعمال کرنا جانتا ہو ۔ ایک طالب علم، جس نے ابھی زندگی کا آغاز کیا ہے، اگر دن رات ناچ گانے کی ویڈیوز بناتا رہے، تو وہ کہاں سے تخلیقی ہو گا؟ کہاں سے شعور لے کر آئے گا؟ کہاں سے تحقیق کرے گا؟ اور بلوچستان جیسے غلام اور پسماندہ خطے کو کیا دے پائے گا؟

اب سوال یہ ہے کہ ذمہ داری کس کی ہے؟ یقیناً والدین اور اساتذہ کی ہے ۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے قوم کے معمار بنیں، تو انہیں چاہیے کہ: گھر میں کتابوں کو دوبارہ زندہ کریں ۔ بچوں کو روزانہ کچھ وقت مطالعے کے لیے مخصوص کروائیں ۔ اسکولوں میں لائبریری کلچر کو فروغ دیں ۔ موبائل اور سوشل میڈیا کو صرف مخصوص اوقات تک محدود کریں ۔ بچوں کو نئی اسکلز جیسے کوڈنگ، زبانیں، دستکاری، اور تحقیق سے آشنا کروائیں ۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ جب کسی نے اسٹیو جابز (iPhone کے بانی) سے پوچھا کہ آپ اپنے بچوں کو کیا چیز نہیں دینا پسند کریں گے؟ تو اُس نے کہا، “میں اپنے بچوں کو کبھی بھی آئی فون دینا پسند نہیں کروں گا۔” اس سے بڑی نصیحت اور کیا ہو سکتی ہے؟ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ریلز کی مصنوعی دنیا سے نکل کر کتابوں کی روشنی میں لوٹ آئیں ۔ یہی راستہ ہمیں بطور قوم زندہ رکھ سکتا ہے، اور یہی تربیت ہماری آنے والی نسلوں کو ایک مضبوط، باشعور اور تخلیقی مستقبل دے سکتی ہے ۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کو وہ بچوں کو اندر شوق مطالعہ پیدا کریں انہیں لکھنے کی تربیت دیں ان سے کہیں کہ روزانہ دو یا تین صفحات پر مشتمل اپنے روزمرہ کی کام کے بارے میں لکھیں صبح سے لیکر اسکول تک آنے کے بارے میں لکھیں صبح آپ اٹھ کر آپ کیا کرتے ہیں اسکول کی تیاری کیسے کرتے ہوم ورک کب اور کیسے کرتے ہیں ؟ اس طرح سے بچوں کے اندر لکھنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے ۔

آخر میں سوشل میڈیا کو صرف “کھیل تماشہ” نہ بنائیں، اسے علم، آگہی اور ترقی کا ذریعہ بنائیں ۔ ( اگر میری تو مانیں تو بچوں سوشل میڈیا سے محدود کیا جائے )لیکن اس سے پہلے بچوں کو کتابوں، کردار اور قومی شناخت سے جوڑنا ہو گا ۔ کیونکہ جو قومیں اپنی نئی نسلوں کو تعلیم، شعور ، تحقیق و تخلیق اور ادب و فنون سے جوڑتی ہیں، وہی تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔