شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںسراوان پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ پولیس سربراہ سمیت 4...

سراوان پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ پولیس سربراہ سمیت 4 افراد ہلاک ،ایک اہلکار زخمی ،دو افراد گرفتار

ساراوان ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان حال وش کی رپورٹ کے مطابق، بروز اتوار 10 اگست 2025 کی صبح، سراوان کے حمزہ اسٹریٹ ،اور اس شہر کے تھانہ نمبر 12 کے قریب، پولیس فورسز اور ایک مسلح شخص کے درمیان اس وقت جھڑپ شروع ہوا، جب پولیس نے اس کے ساتھی کو قتل کردیا، جو شادی کی تقریب سے نکل کر جارہے تھے، جھڑپ میں تھانہ کے سربراہ سمیت 4 افراد ھلاک ،ایک اہلکار زخمی ہوگیا ،دو افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا ۔

سیستان و بلوچستان کے پولیس کمانڈر، سردار محمدرضا اسحاقی نے سکیورٹی اداروں سے منسلک میڈیا کو بتایا کہ تھانہ نمبر 12 سراوان کے اہلکار گشت کے دوران نامعلوم مسلح افراد کے حملے کا نشانہ بنے۔ جھڑپ میں تین حملہ آور مارے گئے اور دو کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک سکیورٹی اہلکار، سروان “خداداد باقری” (جو تھانہ نمبر 12 سراوان کے سربراہ تھے) ہلاک ہوگئے اور ایک دوسرے اہلکار “احدی” زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق، مسلح افراد سے ایک کلاشنکوف، ایک پستول اور متعلقہ گولہ بارود برآمد کیا گیا، جبکہ دو گاڑیاں بھی ضبط کر لی ہیں۔

دوسری جانب حال وش کے ذرائع اور عینی شاہدین نے اس واقعے بارے بتایا ہے کہ تین بلوچ شہری جو اس شادی کی تقریب میں موجود تھے، میں سے ایک نے شادی کے دوران بطور خوشی ہوائی فائرنگ کی۔ تقریب سے نکلنے کے کچھ دیر بعد، انہیں پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ ان میں سے ایک شخص کے پاس اسلحہ تھا، جس نے پولیس کی فائرنگ کے جواب میں فائر کیا، جس کے نتیجے میں تھانہ نمبر 12 سراوان کے سربراہ ہلاک ہوئے۔

حال وش کے ذرائع، جو عینی شاہدین اور ان افراد کے رشتہ دار ہیں، نے اس بات کو قطعی طور پر مسترد کیا ہے کہ ان افراد کا کسی مسلح گروہ سے تعلق تھا۔

انہوں نے کہا کہ جس شخص کے پاس اسلحہ تھا، اس کے والد استاد ہیں اور محمدی سراوان کی میونسپل کونسل کے رکن ہیں۔ ان پر “شرپسند” کا لیبل لگانا پولیس کے طاقت کے بے جا استعمال کو جائز قرار دینے کی کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز