’11 اگست 1947 کو بلوچستان کے یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے، یہ دن بلوچ قوم کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بلوچستان نے اپنی خودمختاری کا اعلان کیا، اور یہ دن بلوچوں کے لیے فخر اور عزم کا نشان ہے، خواہ وہ بلوچستان میں رہیں یا دنیا کے کسی بھی کونے میں۔ اس دن کی یاد ہر بلوچ کے دل میں آزادی، خودمختاری اور اپنی ثقافتی شناخت کے تحفظ کی خواہش کو تازہ کرتی ہے۔ بدقسمتی سے، بلوچ قوم کو اپنی آزادی کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے کا موقع نہ مل سکا۔ انگریزوں کے ہاتھوں سے نکلنے کے بعد، بلوچستان کی خودمختاری کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، اور اس کی آزادی کو دبانے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ بلوچ قوم کی جدوجہد کو دبانے کے لیے مختلف قوتوں نے سازشیں کیں، اور ان کی خودمختاری کو چھیننے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، یہ دن صرف ماضی کی یادوں کا دن نہیں، بلکہ ایک عظیم قوم کے عزم اور حوصلے کی علامت ہے۔ آج ہر بلوچ کو چاہیے کہ وہ اس دن کو نہ صرف جشن کے طور پر منائے بلکہ اپنی تاریخ، ثقافت، اور شناخت کو مضبوط کرنے کے عہد کو دہرائے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، اور اسے برقرار رکھنے کے لیے اتحاد، ہمت، اور قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلوچ قوم کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے۔ آج کے دن، ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے اور عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی ثقافت، زبان، اور شناخت کو ہر قیمت پر محفوظ رکھیں گے۔ یہ یوم آزادی ہر بلوچ کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے متحد رہیں اور اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھیں۔ آخر میں، یہ دن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ آزادی کوئی تحفہ نہیں، بلکہ ایک حق ہے جو جدوجہد سے حاصل ہوتا ہے۔ بلوچ قوم کو اپنی تاریخ سے سیکھتے ہوئے، اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا، تاکہ آنے والی نسلیں ایک آزاد اور خودمختار بلوچستان میں سانس لے سکیں۔ یوم آزادی بلوچستان مبارک ہو!