حیات بلوچ، کراچی یونیورسٹی کا ایک ہونہار طالب علم، سمر کی چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے گھر تربت آیا ہوا تھا۔ اس کے والدین کھیتی باڑی سے وابستہ تھے۔ اسی دن وہ دوپہر کا کھانا لے کر والدین کے پاس باغات کی طرف جا رہا تھا کہ قریب ہی سڑک پر سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنا کر آئی ای ڈی دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے فوراً بعد فورسز کے اہلکاروں نے حیات کو گھیر لیا۔
محض 16 سالہ اس نوجوان کو اس کے والدین کے سامنے گرفتار کیا گیا۔ ماں کے دوپٹے سے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے۔ ایک اہلکار نے اس کے سامنے بندوق کا رخ کیا اور بلا جھجک گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ آٹھ گولیاں اس کے سینے میں لگیں اور وہ موقع پر ہی شہید ہوگیا۔
ریاستی اداروں نے اس کھلی بربریت کو “حادثہ” یا “غلطی” قرار دینے کی کوشش کی۔ مگر سچ یہ تھا کہ ماں باپ کے سامنے ایک نہتے طالب علم کو اس کی جیب میں موجود سب سے “خطرناک ہتھیار” — قلم — رکھنے کے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہی قلم اور کتاب آج ہزاروں بلوچ نوجوانوں کے لیے جرم سمجھے جاتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مرد، خواتین اور بزرگ یکساں طور پر ریاستی جبر و جارحیت کا شکار ہیں۔
یہ “پکڑو اور مار دو” کی پالیسی ختم ہونے کے بجائے روز بروز شدت اختیار کر رہی ہے، کیونکہ ریاست اور اس کے مقتدر اداروں کو اس دھرتی کے باسیوں سے محبت نہیں، بلکہ اس کے قدرتی وسائل اور خود کفیل سرزمین کی لالچ ہے۔ بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی پالیسی میں تیزی لائی جا رہی ہے، تاکہ اس سرزمین کو مکمل طور پر ہڑپ کیا جا سکے۔
حقوق کی بات کرنے والا، چاہے ہاتھ میں کتاب ہو یا بندوق، ریاست کی نظر میں برابر ہے۔ یہاں پرامن سیاسی جدوجہد کرنے والے بھی برداشت نہیں کیے جاتے۔ آئین و قانون کے دائرے میں رہنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کو مرعوب کرنے کے لیے اسی آئین و قانون کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ ریاست بلوچستان اور بلوچ قوم کی کسی بھی سرگرمی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں، بلکہ اسے اپنی “نوآبادی” سمجھتی ہے۔
اگر واقعی حالات کو بہتر بنانا مقصود ہوتا تو سب سے پہلے بنیادی حقوق کی پامالی بند کی جاتی، اور وہ سہولیات فراہم کی جاتیں جو ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہیں۔ مگر یہاں الٹا ان حقوق کو چھیننے کی پالیسی جاری ہے۔ اس صورتحال کو معمول پر لانے میں ریاست اور مقتدر قوتیں سنجیدہ نہیں، بلکہ بین الاقوامی سامراجی طاقتوں کو سرمایہ کاری کے نام پر اس پالیسی میں شریک کیا جا رہا ہے۔ کچھ پرانے قابض قوتوں کے ساتھ نئے سامراجی اتحادی شامل کیے جا رہے ہیں، جس کے آثار واضح ہیں۔
شہید حیات کی قربانی کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھی، بلکہ یہ بلوچ نسل کش پالیسیوں کا تسلسل ہے، جو گزشتہ 77 برسوں سے جاری ہے۔ جب تک بلوچ قوم کو اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں نہ بدل دیا جائے یا مکمل طور پر ختم نہ کر دیا جائے، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
ریاست کا بلوچ قوم کے بارے میں مؤقف ایک ہی ہے، چاہے حکومت کسی کی بھی ہو۔ ہر دورِ اقتدار میں یہی پالیسی جاری رکھی جاتی ہے، فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہر حکمران اپنے دور میں اس پالیسی کو “بہترین نتائج” کے ساتھ نافذ کر کے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔















