وہ میری زندگی کی سب سے خاموش، سب سے پُراثر کہانی ہے۔ ایک ایسی محبوبہ جس کے بدن پر ریت کی چادر ہے اور روح پہاڑوں میں چھپی ہوئی ہے۔ اس کا وجود ایسے پھیلا ہوا ہے جیسے بے کنار صحرا، اور اس کی خوشبو مٹی اور سمندر کے ملاپ سے بنی ہو۔ میں اسے جب پہلی بار دیکھنے آیا تو پنجگور کی شام تھی۔ آسمان پر سورج ڈوب رہا تھا اور اس کی سنہری کرنیں اس کے گندمی چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ وہ مسکرا نہیں رہی تھی، مگر اس کی خاموشی میں محبت کا ایک ایسا سمندر چھپا تھا جس کی لہریں دل کی گہرائی تک پہنچتی تھیں۔ پنجگور کی مٹی اس کے قدموں سے لپٹی ہوئی تھی، جیسے کوئی عاشق اپنی معشوقہ کے پاؤں چوم رہا ہو۔ اس کی آنکھوں میں مکران کا سمندر تھا — ایک طرف وحشت ناک لہروں کا شور، اور دوسری طرف خاموش گہرائی، جہاں صدیوں پرانی کہانیاں سو رہی ہیں۔ اس کا حُسن تربت کی شام جیسا تھا، جب سورج پہاڑوں کے پیچھے ڈوب کر آسمان کو نارنجی، سنہری اور سرخ رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ تربت کی ہواؤں میں اس کے لمس کی گرمی تھی، اور اس کے لہجے میں وہی نرمی جو مکران کی ریت کو چُھوتے وقت محسوس ہوتی ہے۔ اس کا وجود دو دھڑکنوں سے جیتا تھا — ایک مکران کی لہروں میں بستی، دوسری چاہ بہار کے نیلگوں کناروں میں چُھپی۔ اس کے دائیں بازو پر گوادر کا نیلا ہار جھلملاتا تھا اور بائیں بازو پر چاہ بہار کا موتی دمکتا تھا۔ اس کی آنکھ کا ایک رنگ تربت کی شام سے لیا گیا تھا اور دوسرا زاہدان کی صبح سے۔ اس کی مسکراہٹ میں لسبیلہ کے گلاب کھلتے تھے تو لبوں کے کونے پر سراوان کے کھجوروں کی مٹھاس ٹھہرتی تھی۔ خاران اور واشک اس کے سینے کی سختی تھے، جبکہ ایرانشہر اور راسک اس کے دل کی نرمی۔ جب وہ چلتی تو گویا شال سے لے کر دلوان تک ایک ہی روح کا سفر جاری ہو، اور جب وہ رُکتی تو دونوں جہانوں کی ہوائیں اس کے آنچل کو تھام لیتیں۔ وہ ایک جسم میں دو جان تھی — مشرقی اور مغربی بلوچستان، مگر اس کا دل ایک ہی تھا، جو صرف “بلوچستان” کے نام پر دھڑکتا تھا۔ گڈانی اس کے بالوں میں بکھری ہوئی نمکین خوشبو تھی۔ جب سمندر کی ہوا اس کے بالوں میں اُلجھتی، تو لگتا کہ پوری دنیا رُک کر اس منظر کو دیکھ رہی ہے۔ اس کا ماتھا زیارت کی برف سے روشن تھا، ٹھنڈا، پاکیزہ، اور ایسا کہ دیکھنے والا اپنی آنکھیں جُھکا لے۔ زیارت کے درخت اس کی پیشانی پر سایہ کرتے تھے، اور وہاں کی ہوائیں اس کی سانسوں کی طرح شفاف تھیں۔ مستونگ کے باغات اس کے وجود کی نرمی اور خوشبو میں شامل تھے، اور اُستاد میر احمد کے گانے ان باغوں کی خوبصورتی کو اس کی روح میں اور بھی زندہ کر دیتے تھے۔ قلات کا تاریخی رنگ اس کے کردار کی گہرائی میں جھلکتا تھا، جہاں قلعوں کی خاموشی اور شاہی عظمت کی جھلکیاں اس کے ہر قدم کے ساتھ جڑ گئیں۔ بولان، جو تاریخ سے ہی جنگوں کا مرکز رہا ہے اور بلوچی دفتر کے نام سے مشہور ہے، اس کے وجود کی مضبوطی اور صبر کی علامت تھی۔ خضدار اس کی دھڑکن تھی، مضبوط اور صدیوں پرانی۔ اس کی نبضوں میں وہی طاقت تھی جو خضدار کے پہاڑوں میں ہے — خاموش مگر ناقابلِ شکست۔ شال اس کی آنکھوں کا وقار تھا، جہاں رنگ اور خوشبو ایک ساتھ بستے تھے۔ شال کے بازاروں کی ہلچل اس کی پلکوں پر کھیلتی ہوئی شرارت جیسی تھی، اور وہاں کی سرد راتیں اس کی نگاہوں کی گہرائی میں چُھپی ہوئی تھیں۔ لسبیلہ اس کے ہونٹوں کا سرخ پھول تھا۔ وہاں کی زمین کی گرمی اور مٹی کی خوشبو اس کی مسکراہٹ میں جھلکتی تھی۔ چاغی اس کے بازوؤں کی طاقت تھی — وسیع، سنہری، اور معدنی دولت سے بھرپور، مگر وہ اپنی دولت کو ایسے چھپائے رکھتی جیسے کوئی شرمیلی لڑکی اپنے زیورات چُھپاتی ہے۔ نوشکی اس کے کان کی بالی تھی — چھوٹی مگر چمکتی ہوئی، جیسے گل خان نصیر کے اشعار اور اُستاد مرید کی بندوق کی صدا ایک ہی دھڑکن میں گُھل گئے ہوں۔ وہاں کی ہوا میں ایک عجیب سا وقار اور اپنائیت ہے، جو اس کے لہجے کی نرمی میں بسی ہوئی ہے۔ مگر اصل دل تو خاران اور واشک میں تھا — وہ لا متناہی ریت، وہ تپتا ہوا اُفق، جہاں ہوا بھی تھک کر بیٹھ جاتی ہے۔ خاران اس کے دل کا وہ حصہ تھا جو سختیوں میں ڈھلا ہوا تھا۔ وہاں کی راتوں میں سردی ہڈیوں تک اُتر جاتی تھی، اور دن کی دھوپ روح کو جلا دیتی تھی۔ واشک اس کی خاموشی کا دوسرا چہرہ تھا — ایک ایسا صحرا جہاں تنہائی نے اپنا گھر بنایا تھا۔ وہ کہتی تھی کہ خاران اور واشک کے ریگستان میری آنکھوں کے آنسو ہیں، جو صدیوں سے رُکے ہوئے ہیں۔ بسیمہ اس کی آنکھ کا وہ آنسو تھا جو کبھی گرا نہیں، مگر ہمیشہ چمکتا رہا۔ بسیمہ کے طارق کریم جیسے فرزند اس کی محبت کا فخر تھے۔ وہ کہتی تھی، “طارق میرا وہ بیٹا ہے جس نے میری خاک کے لیے اپنا لہو پیش کیا۔” اس کے الفاظ میں فخر بھی تھا اور ایسی ٹوٹ پھوٹ بھی کہ سننے والے کی روح کانپ جائے۔ طارق کے خون نے اس کی ریت کو سرخ کر دیا تھا، اور اس سرخی میں ایک ایسا جمال تھا جو صرف قربانی سے جنم لیتا ہے۔ گوادر اس کے گلے کا ہار تھا، نیلا اور سنہرا، جہاں سمندر کی لہریں موتیوں کی طرح جھومتی تھیں۔ جب وہ گوادر کی روشنیوں میں چلتی تو ایسا لگتا جیسے چاندنی سمندر پر اُتر آئی ہو۔ کیچ اس کے دل کا راز تھا، ایک ایسی وادی جو اپنی خاموشی میں ہزاروں چیخیں چُھپا کر بیٹھی تھی۔ میں جب اس کے قریب بیٹھتا تو محسوس کرتا کہ یہ محبوبہ صرف ایک عورت نہیں بلکہ صدیوں کی تاریخ ہے۔ اس کے بدن پر جتنی جُھریاں ہیں، وہ سب قربانیوں اور زخموں کی نشانی ہیں۔ کبھی یہ زخم قابضوں کے تلوار سے لگے، کبھی اپنوں کی بے وفائی اور نااتفاقی سے۔ مگر وہ اب بھی سر اُٹھائے کھڑی ہے، جیسے کوئی ملکہ اپنی سلطنت کی آخری اینٹ تک حفاظت کرتی ہو۔ اس کی ہنسی کم تھی، مگر جب وہ ہنستی تو کوہِ سلیمان پر بادل گرجتے اور بارش برس پڑتی۔ اس کے رونے کی آواز بھی عجیب تھی — کبھی یہ ریت کے طوفان کی صورت آتی، کبھی سمندر کی لہروں میں گھل جاتی، اور کبھی کسی ویران بستی کی خاموشی میں دب جاتی۔ وہ مجھ سے اپنی کہانیاں نہیں کہتی تھی، مگر میں جانتا تھا کہ وہ راتوں کو چُپکے چُپکے اپنے گمشدہ بیٹوں کو یاد کرتی ہے۔ ہر گمشدہ بیٹا اس کے دل کا ایک ٹکڑا تھا، اور ہر شہید اس کے سینے کا زیور۔ اور جب رات اپنی سیاہ چادر اوڑھ کر صحراؤں پر اترتی ہے، تو وہ میری جانب مڑ کر ایک آخری نظر ڈالتی ہے۔ اس نظر میں زیارت کی ٹھنڈک، خاران کی ریت کا جلال، واشک کی تنہائی، گوادر کا نیلا سمندر، چاہ بہار کا اُفق، زاہدان کی روشنی، نوشکی کی نرمی، قلات کی تاریخ، بولان کی جنگی فضائیں، اور مستونگ کے باغات سب ایک ساتھ سمٹ آتے ہیں۔ اس کے پیروں کے گرد پنجگور کی مٹی لپٹی ہوتی ہے، بالوں میں گڈانی کی نمکین ہوا اُلجھی ہوتی ہے، آنکھوں میں تربت کی شام کا رنگ اتر آتا ہے، اور ہونٹ لسبیلہ کے گلاب جیسے کھل اُٹھتے ہیں۔ اس کے سینے میں شہیدوں کا فخر دھڑکتا ہے — پیرک جان، امیرالمُلک، بارگ، ضیاء، حق نواز، طارق کریم — جیسے موتیوں کی ایک مالا، جو خون کے دھاگے سے پروئی گئی ہو۔ وہ خاموش کھڑی رہتی ہے، جیسے اپنے ہی خوابوں کی رکھوالی کر رہی ہو۔ دور، خاران اور واشک کے ریگستانوں سے ایک مدھم سی ہوا آتی ہے، جو اس کے آنچل کو ہلکا سا چُھو کر گزر جاتی ہے۔ اس ہوا میں صدیوں کی کہانیاں ہیں، بے آواز چیخیں اور ادھُورے گیت۔ وہ میری طرف دیکھتی ہے، جیسے کہہ رہی ہو: “میں نے اپنے دامن میں سب کچھ رکھا ہے — محبت بھی، قربانی بھی، اور صحرائی اُداسی بھی… کیا تم یہ سب اپنے دل میں سمو سکتے ہو؟ اور میں جانتا ہوں، میں چاہے جتنی عمر جی لوں، اس کی آنکھوں کا یہ سوال میری آخری سانس تک میرے ساتھ رہے گا۔ کیونکہ وہ صرف ایک عورت نہیں، وہ میری زمین ہے، میرا خواب ہے، میرا خون ہے — وہ میرا بلوچستان ہے۔۔۔۔۔