تحریکِ آزادی ایک مسلسل اور صبر آزما عمل ہے، جو قربانی، نظریاتی وابستگی، اور اجتماعی شعور کا تقاضا کرتی ہے۔ دنیا کی ہر مزاحمتی تحریک میں سب سے مقدس خون ہوتا ہے جو وطن کی مٹی کے لیے بہایا گیا ہو۔ بلوچ تحریک آزادی بھی ایسی ہی ایک جدوجہد ہے، جہاں ہزاروں نوجوانوں، بزرگوں، عورتوں، اور گمنام سپاہیوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ ان میں مختلف آزادی پسند پارٹیوں کے کارکن، عام بلوچ اور وہ گمنام بلوچ شامل ہیں جن کی شہادت کی گواہی صرف ان کی گمشدہ قبریں اور تڑپتی مائیں دیتی ہیں۔
تحریک کے اندر مختلف سیاسی تنظیموں کا موجود ہونا ایک فطری اور ضروری امر ہے، کیونکہ قومی تحریک کوئی یک رُخی نظریہ نہیں بلکہ خیالات، تجربات، اور فکری جہتوں کا ایک جاندار امتزاج ہوتا ہے۔ لیکن جب کوئی بلوچ شہید ہوتا ہے، تو وہ کسی تنظیم، کسی فکری دھڑے، یا کسی محدود شناخت کا عامل نہیں رہتا — وہ بلوچ وطن کا فرزند بن جاتا ہے، اس کی قربانی، اس کی مظلومیت، اور اس کا لہو ہم سب پر واجب الاحترام ہے۔
سیاسی اختلاف رائے قومی شعور کو وسعت دیتا ہے، لیکن شہداء کے معاملے میں تفریق، خاموشی یا تضحیک تحریک کی بنیادوں میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس سے بھی سنگین جرم یہ ہے کہ کسی بھی آزادی پسند پارٹی کی کمزور حکمت عملی، غلط پالیسی، یا ذاتی مفادات کو شہداء کے مشن کے پیچھے چھپا دیا جائے۔ شہداء کا لہو کسی سیاسی مصلحت، شخصی عقیدت یا گروہی وفاداری کا جواز نہیں بن سکتا۔ یہ قومی جرم ہے — ایسا جرم جو نہ صرف تحریک کو کمزور کرتا ہے بلکہ شہداء کی قربانیوں کو سیاسی ہتھیار میں بدل دیتا ہے۔
تحریک کے اندر چھوٹی اور بڑی پارٹی کی اصطلاح بھی قومی وحدت کے منافی ہے۔ ہر وہ جماعت، تنظیم یا کارکُن جو بلوچ وطن کی آزادی کا نظریہ رکھتا ہے، وہ برابری کے اصول پر تحریک کا حصہ ہے۔ طعنہ بازی، تمسخر، یا ایک دوسرے کو کمتر و ناکام ثابت کرنے کی روش دشمن کے لیے فائدہ اور تحریک کے لیے زہر ہے۔ سیاسی مخالفت کی جگہ دلیل ہو، کردار کشی کی جگہ تنقیدی شعور ہو، اور تنظیمی تناؤ کی جگہ قومی مفاد کا وژن ہو — یہی وہ طرز عمل ہے جو ایک کامیاب اور پائیدار تحریک کی پہچان بنتا ہے۔
اگر اتحاد ممکن ہو تو وہ محض ایک وقتی مصلحت یا جذباتی ردعمل نہیں بلکہ اصولی، نظریاتی اور عوامی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے۔ اتحاد وہی کارگر ہوتا ہے جو شہداء کے مشن سے جڑا ہو،با اصول ہو جو بلوچ عوام کے زخموں کو مندمل کرے، اور جو قومی آزادی کو عملی امکان میں بدلنے کا وژن رکھتا ہو۔
دنیا کے مختلف خطوں میں جاری مزاحمتی تحریکیں ہمارے لیے نہ صرف سبق ہیں بلکہ آئینہ بھی۔ لاطینی امریکہ کی انقلابی تحریکوں — خاص طور پر کیوبا، ایل سلواڈور، نکاراگوا اور بولیویا — نے ہمیں سکھایا کہ شہداء کو شخصیات کی قربانی نہیں بلکہ عوامی مزاحمت کی علامت بنایا جائے۔ چی گویرا کی شہادت کو کیوبا یا کسی ایک پارٹی کی قربانی نہیں سمجھا گیا بلکہ اسے پورے لاطینی امریکہ کے انقلابی ضمیر کی علامت مانا گیا۔ ایل سلواڈور میں FMLN جیسی تنظیموں نے نظریاتی اتحاد، گوریلا جنگ اور شہداء کی اجتماعی یاد کو تحریک کی روح بنایا۔
اسی طرح افریقی براعظم کی مزاحمتی تحریکیں، جنہوں نے استعماری طاقتوں — خاص طور پر فرانس، پرتگال اور برطانیہ — کے خلاف مزاحمت کی، ایک قابلِ تقلید تاریخ رکھتی ہیں۔ الجزائر میں فرنٹ ڈی لبریشن نیشنل (FLN) نے شدید داخلی اختلافات کے باوجود شہداء کو “شہید الجزائر” کے طور پر یاد کیا۔ جنوبی افریقہ میں افریقن نیشنل کانگریس (ANC) اور نیلسن منڈیلا کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے خفیہ کارکنوں، سیاہ فام کسانوں، اور گمنام عوامی شہداء کو “قوم کے معمار” قرار دیا۔ موزمبیق کی آزادی کی جنگ میں FRELIMO نے واضح کیا کہ شہادت پارٹی کی وفاداری کا نشان نہیں بلکہ عوامی نجات کی علامت ہے۔ انگولا میں MPLA اور UNITA کے تنازعات کے باوجود شہداء کی یاد سیاسی نفرت سے پاک رکھی گئی۔
یہی اصول ویتنام، کردستان، اور اریٹیریا کی جدوجہد میں بھی نمایاں ہیں، جہاں نظریاتی اختلافات کے باوجود شہداء کو خراج عقیدت یکساں انداز میں پیش کیا گیا۔
بلوچ تحریک اگر واقعی ایک عالمی معیار کی قومی تحریک بننا چاہتی ہے تو اسے ان شہداء کی قربانی کو بنیاد بنانا ہو گا جو اپنے پیچھے صرف خون چھوڑ گئے، تنظیم نہیں۔ ہمیں ان ماؤں، بہنوں اور بیٹوں کا احترام کرنا ہو گا جنہوں نے کبھی اپنے لخت جگر کو کسی پارٹی کے جھنڈے میں نہیں لپیٹا بلکہ اسے صرف آزاد بلوچستان کے پرچم میں لپیٹا گیا۔
تحریکِ آزادی کا جوہر صرف دشمن کے خلاف مزاحمت نہیں بلکہ اپنے اندر انصاف، برابری، شعور اور شہداء کے خون کا احترام پیدا کرنا ہے۔ اگر ہم نے یہ نہ سیکھا تو دشمن کے جبر سے پہلے ہم خود اپنی صفوں میں شکست کھا جائیں گے۔















