بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے توتک کے سردار علی محمد قلندرانی کے تین بیٹوں سمیت خاندان کے 30 سے زائد افراد گزشتہ 14 برسوں سے جبری لاپتہ ہیں۔ 17 اگست 2025 سندھ کے شہر کراچی سے ان کے چوتھے بیٹے میر سردار یوسف قلندرانی کو بھی ریاستی فورسز خفیہ ایجنسی اداروں نے گرفتار کر کے لاپتہ کردیا۔ سوال یہ ہے کہ قلندرانی قبیلہ یا سردار علی محمد قلندرانی نے آخر کون سا ایسا جرم کیا ہے جو ناقابلِ معافی ہے؟ ان کا جرم یہ ہے کہ وہ اپنے ماتحت غریب اور مسکین لوگوں پر ظلم نہیں کرتے، ان کی جان، مال اور عزت سے نہیں کھیلتے، اور ریاستی مقتدرہ قوتوں کے اشاروں پر نہیں چلتے۔ ایک باوقار اور باعزت بلوچ سردار مقتدرہ قوتوں کو اس لئے ناقابلِ برداشت ہے وہ بلوچ قومی دولت کی لوٹ مار میں شریک نہیں ہے اور نہ ہی بلوچ قوم کے استحصال پر خاموش رہتا ہے۔ توتک کی وہ اجتماعی قبریں اس جبر کی خوفناک علامت ہیں جن سے 180 لاشیں برآمد ہوئیں، جو جبری لاپتہ افراد کی تھیں، جنہیں زیرِ حراست فیک انکاؤنٹر میں قتل کیا گیا۔ ان مقتولین میں 17 افراد کا تعلق قلندرانی قبیلہ سے تھا۔ ایک ہی خاندان کے 17 افراد کو زندہ درگور کرنے کے بعد ان سے وفاداری یا خاموشی کی توقع رکھنا کون سی دانشمندی ہے؟ یہی وہ کرب ہے جس نے سمیعہ قلندرانی جیسی بیٹی اپنے جسم بارود باندھنے پر مجبور کیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر پنجاب میں کسی خاندان کے 34 افراد کو اسی طرح نشانہ بنایا جائے تو کیا وہ پنجابی قوم ریاست کے ساتھ وفادار رہ پائے گی؟ ہرگز نہیں بلکہ ان سے بدترین ردعمل دے گا ، بلوچستان میں ساحل اور وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ بلوچ قوم کی جان و مال بھی محفوظ نہیں۔ مقتدرہ قوتیں اور ان کی کٹھ پتلی حکومتیں ان مظالم کا سارا ملبہ ہندوستان پر ڈال دیتی ہیں، حالانکہ ملک کے اندرونی بحران اور بربادی کے اصل ذمہ دار بیرونی طاقتیں نہیں بلکہ خود ریاستی ادارے ہیں۔ قلندرانی خاندان کے افراد مسلسل درخواست کر رہے ہیں کہ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں ملکی عدالتوں میں پیش کیا جائے اور آئین و قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ لیکن اس بنیادی حق سے بھی انہیں محروم رکھا جا رہا ہے۔ اگر ان مظالم کے نتیجے میں کوئی نوجوان ردعمل کے طور پر کسی غیر قانونی اقدام کی طرف جاتا ہے تو اس کا ذمہ دار متاثرہ خاندان غیر ملکی ایجنسیاں نہیں بلکہ ریاست اور اس کے ادارے ہوں گے۔ ہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی کھلی پامالیوں پر فوری نوٹس لیں۔ اگر یہ جبر جاری رہا تو خطے میں سنگین انسانی بحران جنم لے گا۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کی علمبرداری کا دعویٰ کرتی ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ بلوچستان کے مسئلے پر بھی سنجیدگی سے توجہ دیں۔ اگر انسانی حقوق کی پامالی پر دوسرے ممالک کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے تو بلوچستان کیوں نظر انداز ہے؟ پاکستان میں عدلیہ اور پارلیمان سینٹ بے بس ہیں، جمہوریت کے نام پر دراصل غنڈہ راج مسلط ہے۔ گزشتہ 78 برسوں سے بلوچستان بدترین جبر و استحصال کا شکار ہے۔ یہاں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور فیک انکاؤنٹر روز کا معمول بن چکے ہیں اور کسی کو جواب دہ نہیں بنایا جاتا۔ بلوچستان کو ایک بار پھر انصاف، عزت اور بنیادی انسانی حقوق کی ضرورت ہے ورنہ یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔