سرمچاری محض ایک نام نہیں اس نام میں چھپے راز کی آج تک کچھ لوگوں کے علاؤہ کسی کو پتہ نہیں ہے لوگ بس سرمچار سرمچار الاپتے ہیں ۔لیکن جب اس نام کی گہرائی میں جائیں تو ایک الگ دنیا نظر آتا ہے کوئی شوق سے سرمچار نہیں بنتا کوئی شوق سے بندوق نہیں اٹھاتا بلکہ مجبور ہوکر پہاڑوں کا رخ کرتا ہے ایک سرمچار بن جاتا ہے اپنے قوم اور وطن کے محبت کا احساس اسے اس حد تک لے جاتا ہے جب بندہ سرمچار بن جاتا ہے تو اس کو زندگی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتا اس کے دل میں شہادت کا جزبہ اتر جاتا ہے ۔
شہید چاکر نے بولان کے پہاڑوں میں بہت سے سختیاں جیل لی بولان کے پہاڑوں کو اپنا مسکن بنا کر دشمن کو شکست سے دو چار کردیا بولان کے گرم علاقوں میں اپنے جان کی کوئی پرواہ نہیں کی بلکہ اپنے قوم کو آگے رکھ کر لڑتے رہے اپنے سینے پر گولی کھا کر یہ ثابت کیا کہ بلوچ قوم لاوارث نہیں ہے اپنے بیرک کو کفن بنا کر سر پر باندھ لیا بولان کے ہواوں میں ان کے خون کی خوشبو بستا ہے۔ شہید چاکر نے اپنے ساتھیوں کو ایسا جوش اور جزبہ دیا کہ آج تک ہر سرمچار خود کو چاکر کہتا ہے ہر وقت یہی کہتا تھا وہ شخص خوش قسمت ہے جسکا خون اپنے سر زمین پر گرتا ہے آخر کار اپنا خون اپنے سر زمین پر گرا کر اپنے آپ کو سچا اور ایمان دار سپاہی ہونے کا ثبوت دیا ۔
شھید شعیب نے جوکہ اپنی ماں کا لاڈلا بیٹا تھا اپنے سر زمین بلوچستان کے لئے اپنے جان کا نزرانہ پیش کردیا آج بھی شال کی یخ بستہ ہوائیں چلتن کی بلندی مہر دار کی درد بھی ان کو یاد کرتی ہیں۔
شہید شعیب نے یہ ثابت کیا کہ قربانی دینے کے لیے عمر کی نہیں بلکہ ایمان کی مظبوطی چاہیے ۔ شال سے سفر کرتے کرتے کاہان میں اپنے منزل کو پا کر شھادت حاصل کی شہید شعیب کی عمر کم تھی لیکن ان کا ایمان جذبہ حوصلہ چٹانوں جیسے مظبوط تھے۔
شہید عاصم جیسے بہادر دلیر اور جنگجو نوجوان بہت کم گھر میں پیدا ہوتے ہیں جس نے اپنے قوم کے درد کو دل میں رکھ کر اپنے موت کو سینے سے لگا لیا اپنے ماوں بہنوں بھائیوں ہر ظلم وبربریت کو دیکھ کر اپنا سب کچھ قوم اور زمین پر نچاور کردیا۔شہید عاصم نے یہ ثابت کیا کہ بلوچ کے خون کا رنگ ایک ہی ہے ۔ سب بلوچ ایک دوسرے کے ہمت اور طاقت ہیں اپنے بلوچ بھائیوں کے لیے اپنا زندگی قربان کردی۔ شہید عاصم اور شہید شعیب نے ایک ساتھ پہاڑوں کا رخ کر کے ایک ہی دن میں جام شھادت نوش کئے۔
ہمارے یہ تین عظیم شہداء شہید چاکر ۔ شہید شعیب ۔ شہید عاصم نے کاہان میں ایک ساتھ شہادت کا رُتبہ پا کر اپنے مادر وطن بلوچستان پر قربان ہوگئے۔ آخری دم تک دشمن سے لڑے اور دشمن کو بتا دیا کہ بلوچ سرمچار اپنے سر زمین بلوچستان کےلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے تاریخ ہمیشہ بہادروں پر لکھی جاتی ہے بزدلوں کو کوئی یاد نہیں کرتا۔
انت کروٹ نوما تعریفے اے کنا وطنا چوناک
قلم لکیپک نما درد نا داستانے
نوم کے قربان مریو کنا خنتا دیدغاک
بس ہر وقت نما پین مرے جوڑتیا نوم اریرے وطن نا وارثاک















