دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوموں کی آزادی ہمیشہ اُن رہنماؤں کے ہاتھوں میں لکھی گئی ہے جنہوں نے اپنی ذات سے زیادہ اپنی قوم کو مقدم جانا وہ رہنما جو غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لیے اپنی زندگیاں قربان کر دیتے ہیں، وہی تاریخ کے اصل ہیرو ہوتے ہیں……
بلوچ قوم بھی ہمیشہ ایسے ہی رہنماؤں کی پیروی کرتی آئی ہے.
1839ء میں میر محراب خان نے قلات پر انگریز قبضے کے خلاف اپنی جان قربان کی اور تاریخ میں امر ہو گئے.
نواب خیر بخش مری نے بلوچ تحریک کو فکری بنیادیں دیں اور اپنی پوری زندگی مزاحمت کے فلسفے کو سمجھانے اور آگے بڑھانے میں گزاری.
نواب اکبر بگٹی نے اپنی دھرتی کے لیے آخری دم تک لڑائی لڑی اور شہادت کو گلے لگا لیا.
میر بالاچ مری جیسے بہادر سپوت نے عملی میدان میں قیادت کی اور شہادت کے بعد نوجوانوں کے لیے ایک مثال قائم کی.
یہ سب رہنما بلوچ تاریخ میں مشعلِ راہ ہیں اور انہی قربانیوں کی بدولت آج بھی تحریک آزادی زندہ ہے……..
انہی روایات کے تسلسل میں سنگت حیربیار مری کا کردار سب سے نمایاں ہے انہوں نے اپنی جوانی ہی سے یہ عہد کیا کہ وہ اپنی قوم کو غلامی سے نجات دلوائیں گے اپنی فکر اور موقف پر آج تک ڈٹے رہنا اُن کی ثابت قدمی کا ثبوت ہے……
بلوچ قومی تحریک کے موجودہ ڈھانچے کی بنیاد سنگت حیربیار مری اور اُن کے رفقاء نے رکھی وہ نہ صرف بلوچ سرمچاروں کے نظریاتی رہنما ہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے بلوچوں کے لیے آوازِ حق بھی ہیں…….
پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ ادارے اچھی طرح جانتے ہیں کہ سنگت حیربیار مری جیسے رہنما بلوچ تحریک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اسی لیے اُنہیں بدنام کرنے، کردار کشی کرنے یا تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن عوامی حمایت اور شہداء کی قربانیوں نے دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا…..
سنگت حیربیار مری کی قیادت میں فری بلوچ موومنٹ (FBM) دنیا بھر میں بلوچ قوم کی نمائندگی کر رہی ہے FBM نے عالمی برادری کے سامنے بلوچ عوام کے مسائل، پاکستانی اور ایرانی جبر، جبری گمشدگیوں اور وسائل کی لوٹ مار کو پیش کیا ہے FBM نہ صرف سیاسی اور سفارتی محاذ پر سرگرم ہے بلکہ یہ ایک فکری پلیٹ فارم ہے جو بلوچ تحریک کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے……
سنگت حیربیار مری ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ یہ تحریک اُن شہداء کی امانت ہے جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں چاہے وہ میر بالاچ مری ہوں، سگار بلوچ امیر بخش ہوں یا سینکڑوں گمنام سرمچار، یہ سب قربانیاں ایک آزاد مستقبل کی بنیاد ہیں حیربیار مری اُن شہداء کے خون کو کبھی ضائع نہیں ہونے دینا چاہتے……
آج بلوچ نوجوان، طلباء، خواتین اور بزرگ سب حیربیار مری کو اپنا رہبر مانتے ہیں اُن کی قیادت نے بلوچ تحریک کو عالمی سطح پر پہچان دی ہے وہ صرف ایک رہنما نہیں بلکہ ایک امید ہیں، ایک ایسا چراغ ہیں جو غلامی کے اندھیروں میں راستہ دکھا رہا ہے……
بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد میں سنگت حیربیار مری کا کردار ایک تاریخی حقیقت ہے وہ نواب خیر بخش مری کی فکری میراث، میر بالاچ مری کی قربانی اور بلوچ شہداء کے خون کے امین ہیں اُن کی قیادت میں بلوچ تحریک مزید منظم ہو رہی ہے اور دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ بلوچ قوم اپنی آزادی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی…















