بلوچستان کی زمین ایک ایسی دھرتی ہے جس نے ہمیشہ بہادروں کو جنم دیا ہے اس دھرتی کے پہاڑ، وادیاں اور ریگستان صرف قدرتی خوبصورتی ہی نہیں رکھتے بلکہ ان میں صدیوں کی کہانیاں، قربانیاں اور جدوجہد کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے بلوچ قوم نے ہمیشہ اپنی آزادی، شناخت اور سرزمین کے تحفظ کے لیے قربانیاں دی ہیں تاریخ کے ہر دور میں جب بھی دشمن نے حملہ کیا، بلوچوں نے سینہ تان کر مقابلہ کیا کبھی میر محراب خان کی شکل میں، کبھی بالاچ مری کی صورت میں، کبھی نوروز خان اور کبھی نواب خیر بخش مری جیسے رہنماؤں نے قربانی دی انہی عظیم رہنماؤں کی صف میں ایک اور نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے:نواب اکبر شہباز خان بگٹی نواب بگٹی 12 جولائی 1927 کو ڈیرہ بگٹی میں پیدا ہوئے ان کے والد نواب محراب خان بگٹی بگٹی قبیلے کے سردار تھے والد کی وفات کے بعد صرف 12 برس کی عمر میں وہ اپنے قبیلے کے سردار بن گئے ابتدائی تعلیم کراچی کے گرامر اسکول میں حاصل کی۔ بعد ازاں لاہور کے ایچی سن کالج میں زیر تعلیم رہے جہاں ان کی ملاقات نواب خیر بخش مری سے ہوئی اس کے بعد وہ آکسفورڈ یونیورسٹی انگلینڈ گئے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ تعلیم نے انہیں ایک وسیع وژن دیا لیکن اپنی سرزمین سے محبت انہیں ہمیشہ واپس بلوچستان لے آئی. نواب بگٹی نے سیاست کا آغاز پاکستان بننے کے بعد کیا۔ ابتدا میں وہ پاکستانی ریاست کے ساتھ مل کر بلوچستان کے حقوق کے لیے کام کرتے رہے 1973 میں انہیں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بلوچستان کا گورنر بنایا گیا۔ لیکن جلد ہی انہوں نے دیکھ لیا کہ صوبے کو گورنر بنانے کا مقصد صرف بلوچ عوام کو دبانا ہے، ان کے حقوق دینا نہیں جب بھٹو نے بلوچستان پر فوجی آپریشن کیا تو نواب بگٹی کا دل ٹوٹ گیا اور وہ جان گئے کہ اس ریاست سے انصاف کی امید رکھنا فضول ہے نواب اکبر بگٹی ہمیشہ اصولوں پر ڈٹے رہے۔ وہ کہا کرتے تھے: “بغیر کردار کے شیروں کی مجھے ضرورت نہیں، میدان میں آؤ اور ثابت کرو کہ تم شیر ہو… انہوں نے ہر وقت بلوچستان کی صوبائی خودمختاری، عوامی حقوق اور وسائل پر اختیار کی بات کی۔ ان کا ماننا تھا کہ بلوچ عوام کو ترقی اس وقت ملے گی جب انہیں اپنے فیصلے خود کرنے کا حق دیا جائے…. بلوچ عوام کی محرومیوں اور ریاستی ظلم نے انہیں مزید سخت بنا دیا۔ 17 مارچ 2005 کو ڈیرہ بگٹی پر فوج نے بمباری کی، جس میں 66 بے گناہ لوگ مارے گئے ان میں سے زیادہ تر ہندو بلوچ زائرین تھے جو ایک مندر میں عبادت کے لیے آئے تھے اس حملے کا اصل مقصد نواب بگٹی کو قتل کرنا تھا۔ اس وقت نواب بگٹی نے کہا تھا: “وہ ہمیں قتل کرنا چاہتے ہیں، یہ ان کا فیصلہ ہے۔ لیکن میں کس طرح مروں گا، یہ فیصلہ ان کا نہیں ہوگا، یہ فیصلہ میں خود کروں گا…… 2005 کے اوائل میں سوئی میں ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔ نواب بگٹی نے اس پر آواز بلند کی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ لیکن پرویز مشرف نے زیادتی کرنے والے فوجی افسر کو بے گناہ قرار دیا اور الٹا ڈاکٹر شازیہ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا یہ واقعہ بلوچوں کے دل میں آگ کی طرح بھڑک اٹھا نواب بگٹی نے کہا کہ جب ریاست انصاف دینے سے انکار کر دے تو بلوچ عوام کو خود اٹھ کھڑا ہونا ہوگا…. اسی دوران ریاست نے ان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کر دیا۔ نواب بگٹی، جو اس وقت بڑھاپے میں تھے، پہاڑوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے : وہ کہا کرتے تھے کہ دشمن کو یہ دکھانا ضروری ہے کہ بلوچ سردار بوڑھا ضرور ہے مگر کمزور نہیں ان کی تصاویر جب پہاڑوں سے آتیں تو وہ خود کہتے تھے: “میں نہیں چاہتا کہ میری تصویر اس طرح لی جائے کہ دشمن سمجھے بگٹی کمزور ہو گیا ہے….. ایک واقعہ مشہور ہے کہ جب ایک شخص تارا چند انہیں ہار پہنانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ نواب کے گلے تک نہ پہنچ سکا۔ نواب بگٹی نے جھکنے کے بجائے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا: میں مر جاؤں گا لیکن کسی کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا. 26 اگست 2006 کو بلوچستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن آیا ضلع کوہلو کے کہان کے پہاڑوں میں ایک غار پر بمباری کے دوران نواب بگٹی شہید کر دیے گئے۔ ان کی شہادت نے بلوچ تحریک میں ایک نئی جان ڈال دی۔ آج بھی بلوچ نوجوان پہاڑوں پر لڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ نواب بگٹی کے وارث ہیں. نواب اکبر بگٹی کا ماننا تھا کہ زندگی عزت کے ساتھ ہونی چاہیے وہ کہا کرتے تھے: کسی مقصد کے لیے لڑتے ہوئے مر جانا بستر پر مرنے سے بہتر ہے….. ان کی شہادت کے بعد بلوچ عوام نے انہیں ایک علامت بنا لیا آج نواب بگٹی صرف ایک سردار یا سیاستدان نہیں بلکہ بلوچ مزاحمت اور آزادی کی پہچان ہیں۔ پرویز مشرف جس نے ان کے قتل کا حکم دیا تھا، وہ خود ذلت آمیز موت مرا لیکن نواب بگٹی کا نام آج بھی زندہ ہے نواب بگٹی نے اپنی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ ایک شخص چاہے کتنا ہی اکیلا کیوں نہ ہو، اگر وہ حق پر ہو تو پوری قوم اس کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے انہوں نے بلوچ نوجوانوں کے دلوں میں آزادی کی آگ روشن کی ان کی قربانی نے یہ پیغام دیا کہ جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی آج جب بلوچ عوام اپنے حقوق اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں تو نواب اکبر شہباز خان بگٹی ان کے لیے ایک روشنی کا مینار ہیںوہ ایک میراث چھوڑ گئے ہیں قربانی کی، بہادری کی، اصول پسندی کی اور آزادی کی.