پنجاب کے عوام! آپ کے فوجی آقا ہمارے نوجوان بلوچوں کو قید کر کے آگ اور آہن میں جھونکتے ہیں۔ ان اذیتوں کی بازگشت ایک دن آپ کے گھروں تک ضرور پہنچے گی۔ جو نوالہ آپ اپنی اولاد کو کھلاتے ہیں، وہ ناحق بہائے گئے خون سے زہر آلود ہو چکا ہے۔ یہ زہر آپ کی نسلوں کو چاٹ جائے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ دیواروں کے پیچھے بلوچ فرزندوں کو ٹارچر کر کے دفنا دینے سے کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ نہیں! حقیقت کبھی دفن نہیں ہوتی۔ ان شہیدوں کے وارث آپ کی نسلوں کو ڈھونڈ نکالیں گے اور انہیں یاد دلائیں گے کہ تم نے ہمارے عزیزوں کے ساتھ کیا ظلم کیا تھا۔ پاکستان اب زوال کے دہانے پر ہے۔ یہ ملک ہماری مرضی سے نہیں بنا۔ یہ انگریز کا منصوبہ تھا، جس میں نہ بلوچ کا حصہ تھا، نہ پشتون کا، نہ سندھی کا۔ جیسا کہ خان عبد الولی خان نے کہا تھا: “پشتونوں، بلوچوں، سندھیوں، سرائیکیوں اور پنجابیوں کو نہ آزادی کی ضرورت تھی اور نہ ہی پاکستان کی۔ جنہیں پاکستان چاہیے تھا وہ تو ہندوستان ہی میں رہ گئے، مگر ہماری گردنوں پر یہ کچھرا انگریز نے ڈال دیا۔” یہ الفاظ ہوا میں نہیں، تاریخ کے پتھر پر کندہ ہیں۔ یہی سچ پاکستان کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔ بلوچ، پشتون اور سندھی اب اس جبر کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ چاہے پنجاب مراعات کے لالچ میں خون کی ہولی کھیلے، یہ ریاست اب نہیں بچ سکتی۔ اس بار نقصان پنجاب کو ہی اٹھانا ہوگا، اور تب جا کر آپ کو اپنی اصل حقیقت کا سامنا ہوگا۔ یاد رکھو! اب آپ کے حکمرانوں کے پاس کوئی دلیل باقی نہیں کہ ہمیں اس ریاست میں رکھ سکیں۔ آج پاکستان کی حکمرانی صرف اور صرف بندوق کے زور پر ہے۔ لیکن وہی بندوق اب ہم نے بھی اٹھا لی ہے۔ طاقت کے اس توازن نے آپ کی فوج کو بلوچستان کی سرزمین پر قیدی بنا دیا ہے۔ ہماری گوریلا جنگ آپ کے جرنیلوں کو دن رات بے بسی کے ساتھ جھنجھوڑ رہی ہے۔ بلوچستان اب آپ کی فوج کے لیے قبرستان بن چکا ہے۔ میں کوئی جاہل نہیں۔ میں 35 سالہ تعلیم یافتہ، ایم فل نوجوان ہوں۔ پچھلے 24 سال سے ہمارے پاس گوریلا جنگ کا تجربہ ہے۔ ہم کندن بن چکے ہیں، war hardened وار ہارڈنڈ ہیں، جذبات اور ضرورت کے بیچ توازن قائم کر چکے ہیں۔ یہی توازن ہماری دیرپا مزاحمت کی ضمانت ہے۔ ہم پنجابی عوام کے خلاف نہیں۔ ہمارا نشانہ صرف وہ بندوق بردار ہیں جو ہمارے وطن پر قبضہ کرنے آئے ہیں، جو جرنیلوں کے غلام ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے بیٹوں کو اس نام نہاد فوج میں مت جھونکیں، اور بلوچستان سے اپنی فوج نکال لیں۔ ورنہ یاد رکھیں! اب کی بار تاریخ معاف نہیں کرے گی۔