خضدار(ہمگام نیوز) ضلع خضدار میں مبینہ طور پر اغوا ہونے والی خاتون صغریٰ بی بی کے کیس نے نئی موڑ لے لیا ہے۔ زیر حراست شہری عبدالعزیز محمد حسنی کی اہلیہ ارم عزیز نے خضدار پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے اپنے شوہر کو اس کیس میں بے گناہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ سب ایک پرانی دشمنی کی بنیاد پر تیار کی گئی سازش ہے۔
پریس کانفرنس میں عبدالعزیز کی بہن شازیہ حسنی ، والدین اور خاندان کے دیگر افراد بھی شریک تھے جو اپنے پیارے کی بے گناہی کی حمایت میں آواز اٹھا رہے تھے۔اہلیہ ارم عزیز نے پرہس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “میرے شوہر میرعبدالعزیز محمد حسنی کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سب ایک شخص وڈیرہ مولا داد ڈائینہ کی طرف سے ہمارے خاندان کے خلاف انتقامی کاروائی ہے، جو اراضی کے تنازعے کی وجہ سے ہم پر غصہ رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وڈیرہ مولا بخش ڈائینہ نے اس دشمنی کو استعمال کرتے ہوئے عبدالعزیز کو اس اغوا کیس میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے، جو مکمل طور پر جھوٹا اور بوگس ہے۔پریس کانفرنس کے دوران ارم عزیز نے صغریٰ بی بی کے بیانات پر بھی شدید تنقید کی اور انہیں متضاد اور مشکوک قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ “صغریٰ بی بی کا پہلا بیان، جو خضدار پریس کلب میں جاری کیا گیا، اس میں ایک شخص اسامہ کا نام لیا گیا ہے۔ لیکن دوسری ویڈیو، جو ان کے گھر میں ریکارڈ کی گئی، اس میں بیان مکمل طور پر تبدیل ہے۔ اس کے علاوہ، ان کا طرز عمل بھی انتہائی مشکوک ہے، جو اس کیس کی صداقت پر سوال اٹھاتا ہے۔”
ارم عزیز نے کیس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب مبینہ مغویہ کی رہائی اور ایک بلیک رنگ کی گاڑی کا ذکر کیا جا رہا تھا، اس وقت عبدالعزیز حسنی پہلے ہی پولیس کی حراست میں تھے اور ان کی گاڑی بھی پولیس کے قبضے میں تھی۔ “تو پھر کیسے ممکن ہے کہ میرے شوہر اور ان کی گاڑی اس اغوا میں ملوث ہوں؟ یہ سب ایک ناجائز اور بوگس مقدمہ ہے، جس کا مقصد صرف عبدالعزیز کو پھنسانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صغریٰ بی بی کے مبینہ اغوا کیس میں عبدالعزیز حسنی کی ہمشیرہ کا پریس کانفرنس میں الزامات کی تردید، بھائی کی رہائی کا مطالبہ ضلع خضدار میں مبینہ طور پر اغوا ہونے والی خاتون صغریٰ بی بی کے کیس میں زیر حراست عبدالعزیز محمد حسنی کی ہمشیرہ شازیہ محمد حسنی نے خضدار پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بھائی کو بے گناہ قرار دیا اور اسے جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کرنے کا الزام عائد کیا۔
پریس کانفرنس میں شازیہ نے کیس کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے پولیس اور ایک مقامی شخص ٹکری مولاداد قوم ڈایا پر ناانصافی کا الزام لگایا۔
شازیہ محمد حسنی نے کہا کہ “26 اگست 2025 کو صبح 12 بجے کے قریب خضدار کے علاقے کوشک سے صغریٰ نامی لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے صرف دو گھنٹے بعد، یعنی دوپہر 2 بجے، پولیس نے ہمارے گھر سے میرے بھائی عبدالعزیز محمد حسنی کو گرفتار کر لیا اور ان کی بلیک فورچنر گاڑی کو بھی اپنے قبضے میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔”
انہوں نے سوال اٹھایا کہ “اگر میرے بھائی کو دوپہر 2 بجے گرفتار کیا گیا اور ان کی گاڑی بھی پولیس کے قبضے میں تھی، تو شام 6 بجے جب صغریٰ بی بی کو مبینہ طور پر بازیاب کیا گیا اور کہا گیا کہ اغوا کار انہیں گاڑی سے پھینک کر فرار ہو گئے، تو وہ گاڑی اور اغوا کار کون تھا؟”شازیہ نے مزید کہا کہ صغریٰ بی بی نے اپنی پریس کانفرنس میں خود کہا کہ اسے صبح 12 بجے اغوا کیا گیا اور شام 6 بجے بازیاب کرایا گیا۔
انہوں نے استفسار کیا کہ “جب میرے بھائی اور ان کی گاڑی اس وقت پولیس کی تحویل میں تھے، تو اس کیس میں ان کا نام کیسے جوڑا جا سکتا ہے؟ یہ واضح ہے کہ میرے بھائی کو جھوٹے الزامات کے تحت پھنسایا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب ٹکری مولاداد قوم ڈایا کے کہنے پر کیا جا رہا ہے، جو ان کے خاندان سے ذاتی دشمنی رکھتا ہے۔
شازیہ نے کہا کہ “ٹکری مولاداد ڈائیہ زہری کی وجہ سے ہمارے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ میرے بھائی کو ناکردہ گناہوں کی سزا دی جا رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عبدالعزیز محمد حسنی کو باعزت طور پر رہا کیا جائے اور اس کیس کی منصفانہ تحقیقات کی جائیں۔
شازیہ نے پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ اس کیس کی حقیقت کو اجاگر کریں اور ان کے خاندان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارا خاندان اس مشکل وقت میں متحد ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ انصاف کا بول بالا ہو۔”اس پریس کانفرنس سے صغریٰ بی بی کے مبینہ اغوا کیس میں نئے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کیس مزید پیچیدگیاں اختیار کر سکتا ہے، اور عوام اس کی مزید پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔یاد رہے کہ صغریٰ بی بی کا مبینہ اغوا کا کیس حال ہی میں خضدار میں منظر عام پر آیا ہے، جس میں ابتدائی طور پر عبدالعزیز حسنی کو ملزم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، اس پریس کانفرنس نے کیس کو نئی جہت دی ہے، جہاں خاندان کی طرف سے دشمنی اور متضاد بیانات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی طرف سے اب تک اس پریس کانفرنس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کیس اب مزید پیچیدگیاں اختیار کر سکتا ہے۔


