بقول بابائے قوم نواب خیربخش مری کے:
“جنگ ہاری نہیں، جاری ہے۔”
بلوچستان کی آزادی کی جنگ جاری ہے، اور یہ جنگ جدوجہد، قربانی اور عزم و حوصلے کی وہ داستان ہے جسے ہر دور کے بلوچ سرمچار اپنے لہو سے لکھتے آئے ہیں۔ انہی بہادر سرمچاروں میں ایک نام شہید جمال بلوچ کا ہے، جو اپنی مسکراہٹ، نرم خوئی اور دلیرانہ کردار کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
جمال بلوچ صرف بائیس برس کا تھا جب اُس نے قابض پاکستان کی قبضہ گیریت کے خلاف بندوق اُٹھائی اور آزادی کی تحریک میں شامل ہوکر مسلح محاذ کا آغاز پہاڑوں کا رخ کرتے ہوئے کیا ۔ اُس وقت بلوچستان کی فضا لہو میں بسی ہوئی تھی، گلیاں خون آلود تھیں اور قابض ریاست ہر اُس آواز کو خاموش کر رہی تھی جو غلامی اور ناانصافی کے خلاف اُٹھتی تھی۔ اور یہ تسلسل کئی دہائیوں سے محیط ہے اور تاحال جاری ہے
ایسے حالات میں جمال جیسے قوم دوست نوجوان کیلے ایک راستہ بچا تھا اور وہ تھا مسلح محاذ یعنی قابض کے خلاف جنگ ، ایک ایسی اور تیز جنگ جو قابض کو نیست و نابود کرے ، دشمن کی نیندیں حرام کرے ، جنگ جو امن کا ضامن ہو ، جنگ جس کے جیت کے بعد امن ،
ایسے میں جمال نے اپنے عزم سے یہ فیصلہ کیا کہ قوم کو آزادی دلانے اور اس قتل غارت اور وسائل کی لوٹ مار کو روکنے کا سب سے موزوں راستہ سرمچاروں کی صف میں شمولیت ہے۔ جسے مدنظر رکھتے ہوئے جمال نے بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ طور پر شمولیت کرکے جنگ کا آغاز کیا ، اور بولان کے محاز میں کئی دوبدو جھڑپوں میں پیش پیش رہے ،
وہ نہ صرف ایک بہادر سرمچار تھا بلکہ اپنے ساتھیوں کا ہمدرد اور خوش مزاج دوست بھی رہا۔
اُس کے قریب رہنے والے اکثر کہا کرتے تھے:
“جب جمال ہمارے ساتھ ہوتا، ہمیں کسی غم کی پرواہ نہیں رہتی۔”
اُس کا پرنور چہرہ، اُمید سے بھرپور طبیعت اور ہمہ وقت مسکراہٹ دشمن کے اندھیروں میں بھی روشنی پھیلا دیتی تھی۔ میدانِ عمل میں وہ سب سے پہلے آگے بڑھتا اور اپنے ساتھیوں کو حوصلہ دیتا۔
لیکن 26 نومبر 2022 کو سیاه کوه کاهان کے پہاڑوں میں دشمن کے فضائی حملے نے اُس کی زندگی کا سفر روک دیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہوگیا، مگر اُس دن اُس کی مسکراہٹ امر ہوگئی اور اُس کا نام بلوچستان کے جاویدان سرمچاروں میں درج ہوگیا۔
جمال بلوچ کی شہادت، بلوچستان کی آزادی کی اس نہ ختم ہونے والی جدوجہد کا ایک تسلسل ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جس پر اس سے پہلے ہزاروں بلوچ سرمچار چلتے رہے اور جس پر آج بھی نئی نسل کے نوجوان آگے بڑھ رہے ہیں۔ شہید گلزار، شہید ڈاکٹر منان، شہید بالاچ مری، شہید اسلم بلوچ اور بے شمار دیگر دلاوروں کی طرح جمال بلوچ بھی اس کارواں کا حصہ بن گیا جس کا مقصد ایک آزاد، پرامن اور خودمختار بلوچستان ہے۔
آج بھی کاهان کے پہاڑوں کی فضائیں اُس کی یاد اور اُس کی مسکراہٹ سے گونجتی ہیں۔ شہید جمال نے اپنے خون سے یہ سچ ثابت کیا کہ زندگی کا اصل مفہوم صرف سانس لینا نہیں بلکہ اپنی سرزمین کے لیے قربان ہونا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں غلامی سے آزاد سانس لے سکیں۔
بلوچ سرمچاروں کی یہ جنگ اب بھی جاری ہے، اور ہر شہید کی قربانی اس تحریک کو مزید توانائی بخشتی ہے۔ شہید جمال بلوچ کی مسکراہٹ بلوچ قومی تحریکِ آزادی کی علامت بن چکی ہے، اور وہ ہمیشہ زندہ رہے گا—دلوں میں بھی اور تاریخ کے اوراق میں بھی۔
رُخصت اف اوارون سنگت















