گہمر خان کی عمر صرف ۲۸ سال تھا، مگر اس کا دل اور اس کی جرات بمبور کے فلک بوس پہاڑوں سے بھی بلند تھے وہ انہی پہاڑوں میں پیدا ہوا وہیں پلا بڑھا اور وہیں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوا اس کے خاندان نے نسل در نسل قربانی دیے تھے اس کے والد شہید ہوئے بھائیوں نے اپنی جان بلوچستان پر قربان کی اور گہمر خان اس مقدس سلسلے کی آخری کڑی تھا اس کی رگوں میں شجاعت کا خون دوڑتا تھا اور دشمن اچھی طرح جانتا تھا کہ بمبور کا یہ فرزند کبھی سر نہیں جھکائے گا۔
دشمن اس کے نام سے لرزتا تھا
علاقے کے لوگ ہمیشہ اس کی بہادری کے قصے سناتے تھے بارہا سنا کہ جب دشمن گہمر خان کا نام سنتا تو اس کے بدن میں لرزہ طاری ہو جاتا وہ صرف بلوچوں کے لئے ہیرو نہیں تھا بلکہ دشمن کے لئے ایک ڈراؤنا خواب تھا اس کی شجاعت بے انتہا تھی مگر اس کے ساتھ ایک نرم دل بھی تھ ایسی صفت جو اسے ایک غیر معمولی انسان بناتی تھی۔
وہ دو دن جو ہمیشہ یاد رہیں گے
میرا اس کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزرا پہلی بار میں نے اسے سیاہ کوہ کاہان میں دیکھا صرف دو دن ہم ساتھ تھے لیکن وہ دو دن پوری زندگی کے لئے کافی تھے اتنے مختصر وقت میں ہی میرا دل اس سے جڑ گیا کیونکہ میں نے اس کی جرات کو نعرے میں نہیں بلکہ عمل میں دیکھا وہ سب کے ساتھ مسکراتے ہوئے پیش آتا لیکن جب دشمن کی بات آتی تو وہ بے خوف اور آگ کی طرح تیز ہو جاتا یوں لگتا جیسے وہ لڑنے اور شہید ہونے کے لئے پیدا ہوا ہو۔
بعد میں جب وہ شہید ہوا تب میں نے سمجھا کہ لوگ اس کی اتنی تعریف کیوں کرتے تھے حتیٰ کہ دشمن بھی یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ وہ شہید ہو گیا ہے جب ہمارے ساتھی شہید ہوئے اور ان کی لاشیں کیمپ میں پڑی تھیں دشمن قریب آنے کی ہمت نہ کر سکا انہوں نے ایک بلوچ قیدی کو بلایا کہ لاشوں کو پہچان سکے اور خوف کے ساتھ پوچھا ان میں سے گہمر خان کون ہے؟ یہ منظر میں کبھی نہیں بھول سکتا دشمن شہادت کے بعد بھی اس سے ڈرتا تھا۔
شہید کا خون آزادی کا بیج
۲۶ نومبر ۲۰۲۲ کو سیاہ کوہ کاہان میں گہمر خان اپنے ساتھیوں کے ساتھ شہید ہو گیا اس کی شہادت نے صرف ہمیں غمگین نہیں کیا بلکہ دشمن کو بھی ہلا کر رکھ دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بلوچ کا ایک بہادر ترین فرزند چلا گیا، مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ گہمر خان کا خون ہزاروں نئے فرزند پیدا کرے گا۔
آج گہمر خان کا نام صرف ایک شخص کی یاد نہیں، بلکہ ایک نسل کی علامت ہے۔ایک نسل جس نے ثابت کیا کہ بلوچ کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔ اس کی شہادت ظلم و جبر کے خلاف ایک بلند بانگ نعرہ ہے دشمن کو جان لینا چاہئے کہ گہمر خان کو شہید کر کے وہ کچھ ختم نہیں کر سکے بلکہ ایک آگ کو اور بھڑکا دیا ہے۔
جاویداں وراثت
گہمر خان شہید ہو گیا مگر اس کی جرات آج بھی قوم کے رگوں میں دوڑتی ہے اس کی مہربانی آج بھی ساتھیوں کے دلوں میں زندہ ہے اور اس کا نام ایک پرچم کی طرح بلوچ کی تاریخ پر ہمیشہ لہراتا رہے گا
ہم آج بلند آواز میں اعلان کرتے ہیں
گہمر خان کا راستہ جاری ہے شہید کا خون کبھی خاموش نہیں ہوگا اور مزاحمت کا پرچم کبھی زمین پر نہیں گرے گا۔















