شال (ہمگام نیوز) سانحہ شاہوانی اسٹیڈیم پرامن سیاسی اجتماع پر حملہ صرف بلوچستان نیشنل پارٹی یا اس کے قائدین پر نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم پر حملہ تھا۔ سردار عطاء اللہ خان مینگل محض ایک سیاسی جماعت کے رہنما نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم کے قائد تھے۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اپنی قوم کے بنیادی حقوق، قومی تشخص، بقا، ننگ و ناموس کے تحفظ، ساحل و وسائل پر حقِ خودارادیت اور عدل و انصاف کی بات کر رہے تھے۔
اگر اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا دہشتگردی ہے تو ہم سب سیاسی کارکن دہشتگرد ہیں۔ اگر مظلوم ماؤں اور بہنوں کا سہارا بننا اور ان کی حق تلفی کے خلاف آواز اٹھانا دہشتگردی ہے تو ہم یہ الزام قبول کرتے ہیں۔ اگر اپنے اکابرین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی قوم کے بنیادی حقوق کا دفاع کرنا دہشتگردی ہے تو ہاں، ہم دہشتگرد ہیں۔
بحیثیت اس دھرتی کے فرزند، یہ ہم سب پر فرض ہے کہ 8 ستمبر کو گھروں سے نکلیں اور سانحہ شاہوانی اسٹیڈیم میں ناحق بہائے گئے معصوم سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خون کا حساب طلب کریں۔ شہداء کا لہو ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا، بلکہ یہی خون آنے والی نسلوں کو مزاحمت کا ہنر اور قربانی کا سلیقہ سکھائے گا۔
طاقت اور بارود کے ذریعے مظلوم بلوچ قوم کی حقیقی آواز کو کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔ ریاستی جبر و بربریت کی یہ گھناونی کارروائیاں الٹا ہمارے اتحاد و اتفاق کو مزید منظم اور مضبوط بنانے کا سبب بنیں گی۔


