بلوچ قوم کی تاریخ قربانی اور مزاحمت سے بھری ہوئی ہے صدیوں سے یہ سرزمین قابض قوتوں کے خلاف ڈٹی رہی ہے، اور بلوچ نے ہر دور میں یہ ثابت کیا ہے کہ آزادی ہی اس کی اصل پہچان ہے
بلوچ کا خون کسی قید یا غلامی کو قبول نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ آج بھی دشمن کی تعداد گننے کے بجائے بلوچ سرمچار صرف ان کا مقابلہ کرتا ہے۔
بلوچ سرزمین کے پہاڑ اور ریگستان اس بات کے گواہ ہیں کہ یہاں کے لوگوں کے لہو میں بغاوت اور آزادی کی آگ بہتی ہے
بلوچ سرمچار کا نظریہ سادہ مگر طاقتور ہے:
دشمن کو نہ گنو، صرف اس کا سامنا کرو یہی سوچ بلوچ کو زندہ رکھتی ہے اور یہی جذبہ اس تحریک کو نئی نسل تک منتقل کرتا ہے۔
بلوچستان کی مزاحمتی تاریخ میں نوابزادہ شھید بالاچ مری ایک روشن ستارہ ہیں انہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچ قوم کی آزادی کے لیے وقف کر دی پہاڑوں میں ان کی موجودگی اور قیادت نے سرمچاری جدوجہد کو نئی روح بخشی شھید بالاچ مری نے یہ ثابت کیا کہ بلوچ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے آخری سانس تک لڑنے کو تیار ہے ان کی شہادت نے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ بلوچ کو ختم کرنا ممکن نہیں، کیونکہ ایک بالاچ جاتا ہے تو سینکڑوں نئے سرمچار جنم لیتے ہیں..
واجہ حیر بیار مری – سیاسی آواز
آج کے دور میں حیر بیار مری بلوچ قوم کے سیاسی اور نظریاتی رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں لندن میں جلاوطنی کے باوجود ان کی آواز بلوچستان کے ہر گاؤں، ہر پہاڑ اور ہر قافلے میں گونجتی ہے حیر بیار مری نے یہ نظریہ واضح کیا کہ بلوچ جدوجہد صرف بندوق تک محدود نہیں بلکہ ایک فکری اور نظریاتی جنگ بھی ہے انہوں نے بلوچ آزادی تحریک کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور یہ بتایا کہ بلوچ کا مسئلہ صرف مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی اہمیت رکھتا ہے….
آج بلوچ نوجوان، طلبہ، خواتین اور بزرگ سب ایک ہی صف میں کھڑے ہیں جبری گمشدگیاں، قتل عام، اور غلامی کے حربے بلوچ کو جھکانے کے بجائے مزید ابھارتے ہیں بلوچ طلبہ اپنی تحریروں اور احتجاج سے آواز بلند کرتے ہیں، خواتین اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کے لیے میدان میں نکلتی ہیں، اور سرمچار پہاڑوں سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں….
بلوچ خون میں مزاحمت کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے دشمن لاکھوں میں ہوں، بلوچ ان سے ٹکرانے کے لیے ہی پیدا ہوا ہے۔ بلوچ سرمچار کی گولی صرف دشمن کو نہیں لگتی بلکہ غلامی کی زنجیروں کو بھی توڑ دیتی ہے۔ یہی وہ فلسفہ ہے جو بلوچ کو زندہ رکھتا ہے…..
بلوچ تحریک کی سب سے بڑی طاقت اتحاد ہے جب بلوچ اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہی کارواں میں شامل ہوتے ہیں تو کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی شھید بالاچ مری کی قربانی اور حیر بیار مری کی سیاسی قیادت بلوچ کے لیے مشعلِ راہ ہے آج کی نئی نسل ان دونوں رہنماؤں کے پیغام کو اپنے دلوں میں زندہ رکھ کر جدوجہد کو آگے بڑھا رہی ہے۔















