سب سے پہلے ہم آسان الفاظوں میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ قوم کیا ہے
بلوچستان جیسے قبائلی سماج کے اندر دیکھا جائے تو ہمیں مختلف طائفے ملتے ہیں اور وه طائفے جب ملتے ہیں تو ایک قبیلہ بنتا ہے اور پھر جب قبیلے آپس میں ملتے ہیں تو ایک قوم بن جاتا ہے
بلوچ قوم میں بھی اسی طرح مختلف قبیلے ہیں جیسے کہ مری بگٹی مینگل زہری وغیرہ اور جب یہ بہت سارے قبائل کو ملاؤ تو بلوچ قوم بنتا ہے
مگر نوآبادکاروں نے بلوچ قوم کو تقسیم کرنے کیلئے بہت سے طریقے کار اپنائے جیسے جن میں سے ایک یہی ہے کہ ہمارے لوگوں کا ایسا ذہن بنایا گیا ہے کہ آج قبیلوں کو قوم کہا جاتا ہے جیسے کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ قبیلوں کے ناموں پر قومی اتحاد بنائے ہوئے ہیں جن میں اچھے اچھے تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں
اب ہم آتے ہیں لاسی بلوچوں کی طرف اگر تاریخی حقائق کو دیکھا جائے تو لاسی لفظ لسبیلہ میں رہنے والوں کیلئے استعمال کیا گیا ہے اور لاسی زبان بولنے والے بلوچ دراصل بلوچ قوم کے جدگال قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور لاسی زبان بھی دراصل جدگالی زبان ہی ہے جو آج بھی ایران میں موجود ہیں وہاں بھی انکی اکثریت ایرانی بلوچستان میں آباد ہے اور اگر لسبیلہ کے آج کے لاسی زبان اور ایران کے جدگالی زبان کو دیکھا جائے تو کافی حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں
اور دوسری جانب لاسی بلوچ لسبیلہ میں رہنے اور سندھ سے قریب ہونے کی وجہ سے لاسی زبان سندھی زبان کے سات بھی ملتا جلتا ہے تو بلوچ دشمن قوتوں نے اسکا فائدہ اٹھاکر لاسی زبان کو ہر جگہ سندھی زبان سے جوڑنے کی کوشش کی ہے اور شاید لسبیلہ میں جدگالی لٹریچر پر کام کرنے کا بحران ہونے کی وجہ سے بلوچ دشمن قوت کافی حد تک کامیاب بھی ہوچکا ہے اور اب بات یہاں تک آپہنچی ہے کہ لاسی بلوچ بلوچ کلچر کو اپنانے سے زیادہ سندھی کلچر کو اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسے کہ ہمارے معززين تک بھی مہمان کو اعزازی طور پر بلوچی چادر شال دینے کی بجائے سندھی اجرک دینا پسند کرتے ہیں اور بلوچ کلچرڈے کی بجائے سندھی کلچرڈے پر کچھ زیاده ہی ایکٹیوٹیز ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں
بدقسمتی سے لسبیلہ میں جدگالی لٹریچر پر کام نہ ہونے کی وجہ سے آج یہ حال ہے کہ لسبیلہ کا لاسی زبان بولنے والا بلوچ جو بلوچ تاریخ میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے مگر آج خود کے قومی شناخت کو کھونے کی وجہ سے خود کو بلوچ نہیں سمجھتا ہے
جب ثقافت ختم ہوجائے تو زبان مرجاتا ہے اور جب زبان مر جائے یا کسی اور قوم میں ضم ہوجائے تو قوم مر جاتا ہے
کہتے ہیں کہ زندہ قوميں اپنی قومی شناخت اور ثقافت کو زندہ رکھتے ہیں.
آج لسبیلہ کے تمام تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ لٹریچر پر کام کر کے اپنا کردار ادا کریں اپنے بلوچ قومی شناخت کو زندہ رکھنے اور جدگالی زبان کو سندھی زبان میں ضم ہونے سے بچانے بیشک لاسی زبان کے نام پر ایک الگ پہچان قائم رکھنے کیلئے اپنا قومی فرض ادا کریں
قومی شناخت کو زندہ رکھنے کیلئے جدوجہد کیوں ضروری ہے اس پر بھی مزید اگلے آرٹیکل میں لکھیں گے















