اگر اپنی بات کو سابقہ تحریر سے جوڑدوں، تو یہ کہنا بالکل بھی غلط نہ ہوگا کہ سردار مینگل سے ایک تاریخی غلطی یہ ہوئی کہ لکھ پاس دھرنے کے وقت وہ صرف اس لیے پیچھے ہٹے کہ معصوم کارکنوں کی جانیں ضائع نہ ہوں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تحریکوں میں جان دینے والے کارکنوں کو “ضائع” نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ قربانی کا تصور ہی یہ ہے کہ ایسے افراد اپنی جانیں دے کر قوم کے وجود کو زندہ رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے وہی جانیں، جنہیں سردار مینگل لکھ پاس دھرنے کے دوران بچانا چاہتے تھے، آج ضائع ہو چکی ہیں — یا کم از کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ “بچ نہ سکیں”۔ اختر مینگل سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اب یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ ریاست پاکستان ہمیں “بلوچ نسل کشی” کی پالیسی کے تحت کسی بھی وقت مار سکتی ہے، چاہے ہم اس کے اندر رہ کر سیاسی کھیل کھیلیں، خوماش تماشائی بنیں یا اس کے خلاف آواز بلند کریں۔ ریاست کو ہماری کسی جدوجہد یا کارکردگی سے کوئی سروکار نہیں۔ ریاست پاکستان صرف بلوچ کو “بلوچ ہونے” کی بنیاد پر ہی زندانوں میں پھینکتی ہے یا موت کے گھاٹ اتارتی ہے۔ بلوچ سیاست کا المیہ یہ رہا ہے کہ پارلیمانی قوتوں نے ہمیشہ تبدیلی کی امید “ریاست کے اندر رہ کر اصلاحات” سے جوڑ دی، جبکہ زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ریاستی ڈھانچے میں بلوچ کو ایک “قومی اکائی” کے طور پر کبھی قبول ہی نہیں کیا گیا۔ اختر مینگل جیسے رہنما، جو سیاسی شعور اور جدوجہد کی طویل تاریخ رکھتے ہیں، اکثر ایسی دو راہوں پر کھڑے نظر آتے ہیں جہاں ایک طرف ریاستی جبر ہے اور دوسری طرف اپنی قوم کی مزاحمتی توقعات۔ لکھ پاس دھرنے کے موقع پر سردار مینگل کا پسپائی اختیار کرنا دراصل اسی تضاد کا نتیجہ تھا — کہ وہ اپنی سیاسی ساکھ کو بچاتے ہوئے قوم کی قربانی سے بھی بچنا چاہتے تھے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جبر سے “سیاسی مفاہمت” نہیں بلکہ سیاسی بے وزنی جنم لیتی ہے۔ سردار مینگل اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے لیے یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ جب کوئی سیاسی کارکن یا نوجوان کسی مقصد کے لیے جان دیتا ہے تو وہ ضائع نہیں ہوتا۔ اس کا خون رائیگاں نہیں جاتا بلکہ قربانی کا فلسفہ یہی ہے کہ سر کٹانے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کے خون کے ہر قطرے میں قوم کی بقا اور ترقی کا راز پوشیدہ ہوتا ہے۔ اختر مینگل کے یہی کارکن اگر لکھ پاس دھرنے کے دوران حکومت سے جھڑپ یا مزاحمت کرتے ہوئے مارے جاتے، تو شاید آج “نامعلوم خودکش حملہ آور” کا یہ المیہ دیکھنے کو نہ ملتا۔ اس صورت میں قاتل “نامعلوم” نہ ہوتے اور مقتول “پارٹی ورکر” نہیں بلکہ بلوچستان کے عظیم فرزند کہلاتے۔ حالاں کہ قاتل اور مقتول آج بھی “وہی” ہے جو لکھ پاس دھرنے کے وقت ہونے تھے۔ امید ہے کہ مینگل سمیت دیگر رہنما دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرینگے اور دعا ہے کہ رب تعالی “پارٹی کارکنوں” کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائیں