بلوچستان سورج اور پہاڑوں کی سرزمین ہے یہ وہ خطہ ہے جہاں خون بہایا گیا اور عہد و پیمان باندھے گئے ابتدا سے ہی یہ دھرتی اس بات کی گواہ ہے کہ اس کے فرزندوں نے ہمیشہ اپنے سینے سے قبضہگیروں کے سامنے ڈھال بنایا ہے کبھی انگریز کی بندوق کے سامنے، کبھی پاکستان اور ایران کی قابض فوجوں کے مقابل آج دشمن ایک نئے ہتھیار کے ساتھ آیا ہے ڈرون وہ لوہے کا پرندہ جو آسمان سے ہمارے سروں پر سایہ ڈالتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ آزادی کی شمع کو بجھا دے گا مگر دشمن یہ نہیں جانتا کہ آزادی کی شمع سنگروں اور پہاڑوں میں نہیں انسان کے دلوں میں جلتی ہے۔
ڈرون طاقت نہیں کمزوری کی علامت ہے
قبضہگیر اپنے ڈرونز پر فخر کرتے ہیں گویا یہ ان کی طاقت کا نشان ہے مگر سچ یہ ہے کہ جو سامنے آکر لڑنے کی جرات نہ کرے وہ بزدل ہے وہ پہاڑوں اور میدانوں سے ڈرتے ہیں سرمچاروں کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اسی لیے آسمان میں چھپ کر دور سے وار کرتے ہیں یہ بہادری نہیں یہ بزدلی ہے۔
تاریخِ مزاحمت ہمارا استاد ہے
طالبان نے برسوں امریکہ کے ڈرونز کے سائے تلے زندگی گزاری مگر مٹی اور رات کی مدد سے ڈٹے رہے۔
یمن کے مجاہدین نے استتار اور تدبیر سے سعودی اور امریکی جنگی مشین کو للکارا۔
یوکرین میں عوامی رضاکاروں نے سادہ طریقوں سے روسی ڈرونز کو مشکلات میں ڈالا۔
تو ہم بلوچ اکیلے نہیں ہیں دنیا کے ہر کونے میں محکوم اور مظلوم اقوام اسی دشمن کا سامنا کر چکی ہیں اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ کوئی لوہے کی مشین ایمانِ انسانی کو شکست نہیں دے سکتی۔
سرمچاروں کے طریقے لوہے کی آنکھوں کے سامنے
۱. پناہ اور استتار
بلوچستان خود ایک قلعہ ہے پہاڑ، ریگستان غار اور رات آپ کے ہمرزم ہیں قدرت سے سیکھو جیسے سانپ ریت میں گم ہوجاتا ہے اور عقاب آسمان میں سرمچاروں کو چاہیے کہ بلوچستان کی مٹی کی آغوش میں خود کو چھپائے۔
۲. تحرک اور بکھراؤ
قبضہگیر بڑی بڑی بھیڑوں کا انتظار کرتا ہے مگر سرمچاروں کی طاقت چھوٹے اور خاموش گروہوں میں ہے جو تیز اور لچکدار ہوتے ہیں ہر سرمچار بظاہر چھوٹا مگر حقیقت میں ایک بڑی آواز ہے۔
۳. عوام کی مدد
عوام جنگِ آزادی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں جیسے ڈرون آسمان کی آنکھ ہے بلوچ عوام زمین پر سرمچاروں کے کان اور آنکھ ہیں ایک چھوٹا سا اشارہ، ایک خبر، ایک تنبیہ درجنوں جانیں بچا سکتی ہے اگر قبضہگیر آسمان پر قابض ہے تو ہم بلوچ عوام کے دلوں پر قابض ہیں۔
۴. تخلیق اور جدت
چھوٹی قومیں ہمیشہ تخلیق اور جدت سے بڑی فوجوں کو شکست دیتی آئی ہیں سادہ ہتھیار کو طاقتور بنایا جا سکتا ہے مٹی سے سنگر بنایا جا سکتا ہے روشنی سے فریب دیا جا سکتا ہے اور اتحاد سے دیوار تعمیر کی جا سکتی ہے۔
پیغام برائے قبضہگیر
ایران اور پاکستان کے قبضہگیر تم ڈرون سے ہمارے جسموں کو مار سکتے ہو مگر بلوچ کی روح کو نہیں توڑ سکتے ہر شہید ہزاروں فرزندوں کو بیدار کرتا ہے تم سمجھتے ہو کہ آسمانی قتل و غارت سے بلوچستان خاموش ہو جائے گا حقیقت یہ ہے کہ ہر خون کا قطرہ مکران سرحد اور کاہان کی چوٹیوں پر ایک پرچم میں بدل جاتا ہے۔
سرمچاروں کی قسم
ہم بلوچ ہیں ہم آگ اور سورج کی دھرتی کے فرزند ہیں تمہارے ڈرون ہرنائی، پنجگور اور سیہکوه کاہان کے پہاڑوں کو خونین کرسکتے ہیں مگر ہمارے عہد کو نہیں توڑ سکتے ہم نے قسم کھائی ہے کہ آزادی کے راستے پر آخری دم تک چلیں گے نہ صرف آج کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے نہ اپنے لیے بلکہ ان بچوں کے لیے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔
ڈرون قبضہگیر کا ہتھیار ہیں مگر ایمان اور عزم ہمارا ہتھیار ہے تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ لوہے کے ہتھیار مزاحمت کرنے والی اقوام کو شکست نہیں دے سکے ہمیں چاہیے کہ مٹی اور رات سے مدد لیں عوام سے طاقت حاصل کریں اور تخلیق و استقامت سے آزادی کا راستہ جاری رکھیں
بلوچستان آزاد ہوگا کیونکہ کوئی لوہے کا پرندہ آزادی اور خودمختاری کے پرواز کو خاموش نہیں کرسکتا















